Home / India / بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت: کیا خطے کے لیے پریشان کن ہے؟

بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت: کیا خطے کے لیے پریشان کن ہے؟

بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت: کیا خطے کے لیے پریشان کن ہے؟

بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت کو پاکستان میں کئی حلقے پہلے ہی بہت تشویش کے ساتھ دیکھ رہے تھے لیکن اب بھارت کی عسکری طاقت کے حوالے سے ایک نئی رپورٹ نے اس تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

’ورلڈ فائر پاور انڈیکس‘ کے مطابق اب نئی دہلی دنیا کی چوتھی بڑی عسکری قوت ہے، جس کے پاس بیالیس لاکھ سے زائد فوجی ہیں، جس میں ساڑھے تیرہ لاکھ سے زائد ایکٹیو اور قریب ساڑھے اٹھائیس لاکھ ریزرو ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے پاس 676 لڑاکا طیارے ہیں اور آٹھ سو نو حملہ کرنے والے ایئر کرافٹ بھی ہیں۔
 Indian Air force Power

پاکستانی ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کے بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کی وجہ سے خطہ عدم استحکام سے دوچار ہو سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے  بتایا، ’’خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ پہلے ہی سے شروع ہے، اب اس میں مزید تیزی آجائے گی۔

اس بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے سی پیک کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے کیوں کہ بھارت یہ ساری طاقت چین اور پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے جمع کر رہا ہے اور یہ کوئی گاندھی کا بھارت نہیں ہے بلکہ نئی دہلی کے تخت پر ہندو انتہا پسند قابض ہوگئے ہیں، جو اندورنی طور پر مسلمان اور دوسری اقلیتوں کے خلاف نفرتیں پھیلا کر ووٹ حاصل کر رہیں ہیں اور بیرونی طور پر چین اور پاکستان کے خلاف جنگجویانہ پروپیگنڈہ بھی کر رہے ہیں۔ان کے عزائم جارحانہ ہیں۔ لہذا خطے کے ممالک کو اس مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
Modi IS

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’امریکا چین کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت سے پریشان ہے۔ اسی لیے وہ چین کے مقابلے میں بھارت کو تیار کر رہا ہے۔ اس خطے میں بھارت اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں امریکا چین کے مفادات کے خلاف کام کر سکتا ہے۔

نیشنل یونیورسٹی فار سائنس ایند ٹیکنالوجی، اسلام آباد،کے بین الاقوامی ادارہ برائے امن و استحکام سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین کے خیال میں اس ابھرتی ہوئی عسکری قوت سے خطے کے ممالک میں پریشانی ہے۔’’بھارت اور امریکا کی اسٹریجک شراکت نے نئی دہلی کو بہت طاقت ور بنا دیا ہے۔ اس سے امریکا خوش ہو گا لیکن خطے کے لیے یہ بہت برا شگون ہے۔ کیوں کہ پاکستان کی عسکری پالیسی بھارت سینٹرک ہے۔ اگر بھارت کے پاس دوسو خطرناک ہتھیار ہیں تو پاکستان کم از کم سو ضرور رکھے گا۔

پاکستان پہلے ہی روایتی جنگ میں بھارت کی عددی برتری سے پریشان ہے، اسی لیے اسلام آباد نے حال ہی میں ابابیل میزائل کا تجربہ کیا ہے، جو جنوبی ایشیا میں ابھی کسی کے پاس نہیں ہے۔ تو میرے خیال میں ایسے میزائل مزید بنائے جائیں گے کیوں کہ بین الاقوامی دنیا میں کمزور رہنا جارحیت کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔
ABABEEL

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’چین بھی اپنے دفاعی اخراجات بڑھائے گا۔ ایک طرف وہ امریکا سے مقابلہ کر رہا ہے اور دوسری طرف اس کو بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت سے بھی خطرہ ہے۔ تو بھارت کی بڑھتی ہوئی قوت خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں بہت شدت پیدا کرے گی جو یقیناً اس خطے کے عوام کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔
india power

لیکن دفاعی امور کے ماہر میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کے خیال میں پاکستان اور چین کو اس طاقت سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس جوہری ہتھیار ہیں، ٹیکٹیکل نیوکلئر ہتھیار بھی ہیں۔ روایتی طور پر ہمارے اور ان کے فوجیوں کی شرح ایک سے تین رہی ہے لیکن صرف عددی برتری ہی اہم نہیں ہے۔ لڑنے کی صلاحیت کا بھی بہت اہم عمل دخل ہوتا ہے۔
Pakistan Army Power

مثال کے طور پر بھارتی ایئر فورس کی لڑنے کی صلاحیت صرف 33 فیصد ہے۔ ان کے ٹینکوں کی بھی حالت خستہ ہے جب کہ پاکستان نہ صرف اپنے ٹینک خود بنا رہا ہے بلکہ ہم چین کے تعاون سے جے ایف 17 بھی تیار کر سکتے ہیں اور آنے والے دس برسوں میں ہماری پوری ایئر فورس اس کو استعمال کر رہی ہوگی۔ تو ان حقائق کے پیشِ نظر ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

Pakistan air force Future

Share This

About yasir

Check Also

کیا عمران خان مسلم امہ کو یکجا کر پائیں گے

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب اور عرب امارات کے حالیہ دورے پر عمران خان نے …