Home / News / سابق بھارتی کرکٹر گنگولی پرویزمشرف کے بارے میں کیا لکھتے ہیں

سابق بھارتی کرکٹر گنگولی پرویزمشرف کے بارے میں کیا لکھتے ہیں

نئی دلی: کرکٹ کی دنیا کے سپر سٹار بھارت کے سابق کپتان ساروو گنگولی کی سوانح عمری ‘A Century is not Enough’ عنقریب شائع ہونے والی ہے۔ اس کتاب کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی اس کے کچھ اقتباسات منظر عام پر آ گئے ہیں۔ ایک دلچسپ اقتباس میں گنگولی بتاتے ہیں کہ جب 2004 میں بھارتی ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی تو ایک رات وہ سیر سپاٹے کے لئے چوری چھپے ہوٹل سے نکل گئے لیکن ان کی واپسی سے قبل ہی اس بات کی اطلاع اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو پہنچ چکی تھی، جنہوں نے خود انہیں کال کر دی ۔ گنگولی کہتے ہیں انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ وسیم اکرم کی قاتل بالنگ کا سامنا کرنا اس سے زیادہ آسان ہوتا، لیکن صدر مشرف نے بات کی تو ان کا لہجہ نرم تھا۔

pervez Musharraf
بھارتی ٹیم کو لاہور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا اور سکیورٹی بے حد سخت تھی۔ پاکستان کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بعد بھارتی کپتان اس قلع نما سکیورٹی کے حصار سے نکلنے کے لئے بے تاب تھے۔ گنگولی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”نصف شب کے بعد کی بات ہے مجھے پتہ چلا کہ میرے دوست لاہور کی مشہور فوڈ سٹریٹ جانے کا منصوبہ بنارہے تھے تاکہ وہاں کباب اور تندوری ڈش کا لطف اُٹھاسکیں۔ میں نے اپنے سکیورٹی افسر کو مطلع نہیں کیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ وہ ہمیں روک دے گا۔ میں نے صرف ٹیم منیجر ریتناکار شیٹھی کو بتایا اور ترچھی ٹوپی سے چہرے کو چھپاتے ہوئے پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے لیکن میں وہاں سے باہر نکلنا چاہ رہا تھا۔
Ganguli In Pakistan

ہم کھانا ختم کرنے والے تھے کہ مجھ سے کچھ فاصلے پر بیٹھے صحافی راجدیپ سردیسائی کی مجھ پر نظر پڑگئی اور وہ چلا اُٹھے ’ساروو، ساروو۔‘ مجھے پتہ چل گیا کہ ہم مصیبت میں تھے۔ پھر میرے چاروں طرف لوگ جمع ہونے لگے۔ میں نے جلدی سے بل ادا کرکے نکلنے کی کوشش کی لیکن دکاندار نے بل لینے سے انکار کردیا۔

گنگولی بخیروعافیت واپس تو آ گئے لیکن ہوٹل پہنچے پر پتا چلا کہ صدر مشرف کو ان کی شرارت کی خبر پہنچ چکی تھی اور وہ فون پر ان سے بات کرنا چاہ رہے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”صدر مشرف کا لہجہ نرم مگر ٹھوس تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگلی بار آپ باہر جانا چاہیں تو پلیز سکیورٹی کو مطلع کریں، ہم آپ کے ساتھ حفاظتی دستہ بھیجیں گے۔ لیکن پلیز مہم جوئی سے گریز کریں۔
Parvez musharraft and ganguli

Share This

About yasir

Check Also

جدہ میں امریکی قونصل خانے کے قریب حملہ کرنے والا پاکستانی نہیں بھارتی تھا

حکومت کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ 2016 میں سعودی عرب کے جدہ میں امریکی …