Home / Pakistan Air Force / کیا پاک فضائیہ بمبار طیاروں سے لیس ہے؟

کیا پاک فضائیہ بمبار طیاروں سے لیس ہے؟

جنگوں میں بمبار طیاروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، یہ انتہائی مہنگے طیارے ہوتے ہیں اور ہر ملک اپنی حیثیت کے مطابق ان طیاروں کو خریدتا یا بناتا ہے، بھارت کے پاس بھی ایسے طیارے موجود ہیں جو کہ بمباری کے لیے بہترین طیارے تصور کیے جاتے ہیں، جن میں”SU30MKI” , ” JAGUAR , اور “SU 27” سرفہرست ہیں۔ لیکن اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ،

کیا پاکستان کے پاس بھی بمبار طیارے موجود ہیں یا بمباری کے لیے متبادل پلیٹ فارم موجود ہے؟ پاکستان لڑاکا طیارے تو بنا رہا ہے مگر بمبار طیارے کیوں نہیں؟ ایک وقت تھا جب پاکستان کی فضائیہ کے پاس باقاعدہ طور پر “B-57” جیسے بمبار طیارے موجود تھے جنہیں پرانے ہونے کی وجہ سے ریٹائر کر دیا گیا مگر اس کے بعد پاک فضائیہ نے بمبار طیارے حاصل نہیں کیے۔
Pakistan Has Bomber Aircraft

پاکستان کے پاس ایسے طیارے موجود ہیں جن کی مدد سے بمباری کی جاسکتی ہے، اور یہ طیارے بڑی تعداد میں پاک فضائیہ کا حصہ ہیں، میراج تھری طیارے جو کہ اس وقت 75 سےزیادہ پاک فضائیہ کے زیر استعمال ہیں اور معراج 5 جو کہ 80 سے زیادہ پاک فضائیہ کے زیر استعمال ہیں، یہ دونوں طیارے بمباری کے لیے بہترین پلیٹ فارم سمجھے جاتے ہیں۔
pakistani aircrafts

ان دونوں طیاروں کو پاک فضائیہ نے روز پروجیکٹ کے تحت چوتھی نسل کی طیارے بنا دیا ہے، فرانس کے یہ طیارے ڈیپ سٹرائیک کے حامل یا پھر بمباری کے لیے بہترین طیارے سمجھے جاتے ہیں، جبکہ روز پروجیکٹ کے تحت انہیں ملٹی رول بنا لیا گیا ہے۔یعنی یہ طیارے فضا سے فضا، فضا سے زمین اور فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہیں۔

پاکستان کا معراج 3 طیارہ تقریبا چار ہزار کلو گرام تک وزن اٹھا سکتا ہے، یہ طیارہ ایٹمی ہتھیار بھی لے جاسکتا ہے، پاکستان کا رعد کروز میزائل اسی طیارے سے فائر کیا جاتا ہے،یہ میزائل ایٹمی ہتھیار سے لیس ہے، اس میزائل کا وزن گیارہ سو کلو گرام ہے۔
Mirage fire Raad missile

پاکستان نے اس طیارے کو نہایت کارآمد بنا دیا ہے، پاکستان نے اس طیارے کو فضا میں ایندھن بھرنے کے قابل کردیا ہے جس کے بعد اس کی رینج دگنی ہوچکی ہے، کچھ میراج تھری طیاروں میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلکس کی طرف سے جاسوسی کے خاص آلات بھی نصب کیے گئے ہیں، جو کہ آپ اس تصویر میں باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔
Mirage 3 upgraded

پاکستان کا معراج 5 طیارہ بھی بطور بمبار طیارہ استعمال کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ یہ طیارہ بھی تقریبا پانچ ہزار کلو گرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور مختلف وزنی بم لے جا سکتا ہے،

معراج 3 اور 5 طیارے پرانے ہوچکے تھے اور ان کی پروڈکشن بھی بند ہو چکی تھی، مگر ان طیاروں کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے ان طیاروں کو پوری طرح سے ری بلڈ کیا اور انہیں نہ صرف جدید طیاروں کی صف میں لاکھڑا کر دیا بلکہ بہت سارا پیسہ بچا لیا گیا، جو کہ لڑاکا اور بمبار طیاروں کی خریداری میں خرچ کیا جانا تھا، ان طیاروں کو پرانے یا ناکارہ نہ سمجھا جائے کیونکہ پاک فضائیہ نے جن خصوصیات سے انہیں آراستہ کر لیا ہے وہ خصوصیات عام لوگ نہیں جانتے۔ اور ان کی ٹیکنیکل انفارمیشن خفیہ رکھی گئی ہیں۔
Mirage refuel

یہ طیارے اگلے 7 سے 8 سالوں تک پاک فضائیہ کا حصہ رہیں گے، پھر ان کی جگہ جے ایف سترہ بلاک تھری اور دوسرے زیادہ وزن اٹھانے والے طیارے بھی پاک فضائیہ میں شامل کیے جاسکتے ہیں، جو کہ اس وقت دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خریدے یا ملکی سطح پر بنائے جائیں گے۔

ظاہر ہے پاکستان کی فضائیہ تقریبا 155 طیارے ریٹائر کرے گی تو ان کے بدلے زیادہ وزن اٹھانے والے طیاروں کی فضائیہ کو ضرورت ہوگی۔ اور یہ ضرورت صرف جے ایف سترہ طیارے پوری نہیں کر سکتے، بے شک یہ طیارے بہت جدید ہیں مگر وزن اٹھانے کے لحاظ سے میراج طیاروں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
Mirage Payload

جے ایف سترہ بلاک تھری جو کہ زیادہ وزن اٹھانے والا لڑاکا طیارہ ہوگا اگلے پانچ یا سات سالوں میں پاک فضائیہ تقریبا 50 طیارے ہی حاصل کر سکتی ہے، لہذا میراج طیاروں کو ریٹائر کرنے سے پہلے پاک فضائیہ کو زیادہ وزن اٹھانے والے نئے طیاروں کی بھی ضرورت ہوگی، کیونکہ پاک فضائیہ کو 155 طیاروں کی جگہ کم سے کم 100 سے 120 طیارے ضرورت ہوں گے۔
jf 17 new

Share This

About yasir

Check Also

وہ وقت جب پاکستانی فضائیہ کے میراج طیاروں کو امریکی نہیں پکڑ سکے

پاکستان ائیر فورس کے جنگجو ہوابازوں کو ہدف دیا گیا کہ انہیں بغیر کوئی سراغ …