Home / News / ایران کا پاکستان کی پشت پر ایک اور وار چابہار پورٹ مکمل طور پر انڈیا کے حوالے کر دی

ایران کا پاکستان کی پشت پر ایک اور وار چابہار پورٹ مکمل طور پر انڈیا کے حوالے کر دی

ایران کا پاکستان کی پشت پر ایک اور وار چابہار پورٹ مکمل طور پر انڈیا کے حوالے کر دی گئی۔

واضح رہے 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کا چابہار پورٹ کا منصوبہ گوادر سے محض 90 کلومیٹر کی دوری پر قائم ہے جو پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے ایران بھارت اور افغانستان کو جوڑتا ہے۔

بھارت گزشتہ چند برسوں سے چابہار پورٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سفارتی سطح پر جدوجہد کرتا رہا تھا تاکہ تجارتی منڈی تک رسائی حاصل کر سکے، اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان لیزینگ کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور بھارت چابہار پورٹ کے پہلے توسیع منصوبے بہشتی پوٹ کی تمام تر آپریشنل ذمہ داریاں سنبھالے گا۔

اس سے قبل دسمبر 2017 میں بھارتی میڈیا انڈیا ٹوڈے نے انکشاف کیا تھا کہ چونتیس کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے گئے بہشتی پورٹ کو بھارت اور ایران کے درمیان خطے اور مشترکہ امور کے لیے استعمال کیا جانے کا امکان ہے۔
iran chabahar port

ایرانی صدر حسن روحانی کے تین روزہ بھارت کے دورے کے آخری روز نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات میں نریندر مودی نے افغانستان کو ایک پرامن، محفوظ، پائیدار، مستحکم اور متحد ملک بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

نرندر مودی کا کہنا تھا کہ اپنے مشترکہ مفادات کو دیکھتے ہوئے کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں جو عالمی سطح پر دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی غیر قانونی ترسیل، سائبر کرائم اور دیگر جرائم کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے خطے اور پوری دنیا کو دہشت گردی سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں، دونوں رہنماؤں کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ہر قسم کے مالی تعاون اور ہتھیاروں کی مدد کا اعلان کیا گیا۔
Gwadar vs chabahar port

یاد رہے بھارت افغانستان کی حکومت کا کلیدی مددگار ہے اور 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اب تک افغانستان میں دو ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکا ہے، بھارت نے 2016 میں جنگ زدہ افغانستان کو تعلیم صحت اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میں ایک ارب ڈالر کی معاشی امداد کی پیشکش کی تھی۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک معاشی تعاون خطے میں رابطے اور سلامتی کو ایران کے جنوبی علاقے میں موجود چابہار بندرگاہ سے افغانستان اور وسطی ایشیا کو منسلک کرنے کے خواہاں ہیں، یاد رہے ایران نے پاکستان سے یہ پورٹ خود چلانے کا کہا تھا۔
IRAN WITH INDIA

Share This

About yasir

Check Also

جدہ میں امریکی قونصل خانے کے قریب حملہ کرنے والا پاکستانی نہیں بھارتی تھا

حکومت کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ 2016 میں سعودی عرب کے جدہ میں امریکی …