Home / Pakistan Air Force / پاکستان کا انتہائی حساس مشن ” مشن بیدار” کیا تھا؟

پاکستان کا انتہائی حساس مشن ” مشن بیدار” کیا تھا؟

آج کا ٹاپک ہے آپریشن بیدار 98 ،پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے پہلے پاکستانی ہوائی حدود کی مسلسل نگرانی کو آپریشن بیدار کا نام دیا گیا۔
pAF Mission

جس میں چاروں جانب نگرانی کے لیے چار سیکٹرز تشکیل دیے گئے،جنہیں اسلام آباد، پشاور سرگودھا، کوئٹہ اور کراچی سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، نمبر6 سکوارڈرن جو کہ سی ون تھرٹی طیاروں سے لیس تھا،جس کا کام سامان پہنچانا تھا، اس سکواڈرن نے اس مشن کے دوران اکہتر مختلف فلائٹس میں بارہ ، چھیاسٹھ اور چھ سو پندرہ پاؤنڈ سامان چاغی پہنچایا۔
Pakistan Air Force 2018Pakistan Nuclear Mission

نمبر 7 ٹیکٹیکل اٹیک سکواڈرن جو کہ میراج طیاروں سے لیس تھا، اسے مسرور ائیر بیس کراچی سے شہباز ائر بیس جیکب آباد بلوچستان منتقل کیا گیا، تاکہ وہ چاغی کے علاقے میں چوبیس گھنٹے ائیر ڈیفنس ڈیوٹی دے سکے۔
Pakistan Air force Fighter Jets

نمبر9 سکواڈرن جو کہ ایف سولہ طیاروں سے لیس تھا، اسے سرگودھا ائربیس سے ہٹا کر سمنگلی ایئربیس کوئٹہ منتقل کیا گیا تاکہ بلوچستان کے ایریا کو کوور کیا جاسکے، اور رات کو ان علاقوں میں پہرہ دیا جاسکے۔
Pakistan F16

نمبر 11 سکواڈرن جو کہ ایف سولہ طیاروں سے لیس تھا، اسے 24 مئی کو سرگودھا سے ہٹاکر بلوچستان بھیج دیا گیا، نمبر 14 سکواڈرن کے ایف سیون طیاروں کو چکلالہ ایربیس بھیج کر کہوٹہ کے علاقے کی حفاظت کا مشن دیا گیا۔
Pakistan air force New

نمبر 17 سکواڈرن کے F6 طیاروں کو پاکستان کے بارڈر کے ساتھ ساتھ ہوائی پہرے داری اور گشت لگانے کی ذمہ داری دی گئی، اس کے ساتھ پاکستان ائیر فورس کے پاس موجود تمام ریڈارز کو اس طرح پھیلایا گیا کہ ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی دھماکوں کی ٹیسٹ سائٹ کے آس پاس ایک مکمل گھیرا بن گیا۔
Pakistan Military OperationsPakistan Air Defence

اس سارے مشن کے دوران دالبندین ائیرپورٹ نے بہت شہرت حاصل کی، جو کہ چاغی سائٹ سے صرف تیس کلومیٹر دور تھا، اور تمام سامان اسی چھوٹے سے ائیرپورٹ پر اتارا جاتا تھا.
Pakistan Air Bases

پاکستان کا ایٹم بم مختلف حصوں کی شکل میں دو سی ون تھرٹی طیاروں کے ذریعے دالبندین پہنچا تھا، ان سی ون تھرٹی طیاروں کو پاکستانی حدود کے اندر بھی پاکستان کے ایف سولہ طیاروں نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا، جو کہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس تھے۔

جبکہ اس دوران پاکستان اور انڈیا کے باڈر کے ساتھ ساتھ F7 میزائلوں سے لیس 24 گھنٹے گشت لگا رہے تھے، تاکہ کوئی بھی بیرونی طیارہ ہماری حدود کے اندر داخل نہ ہونے پائے، یہ مشن اس قدر حساس تھا کہ یہ تک سوچا گیا کہ اگر ایٹم بم لے جانے والا طیارہ اغوا ہوگیا تو کیا ہوگا،جس پر ایف سولہ طیاروں کے پائلٹس کو ایک خفیہ آرڈر جاری کیا گیا تھا،کہ اگر ایٹم بم لے جانے والا سی ون تھرٹی طیارہ ہائی جیک ہو جائے پاکستانی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو بنا کچھ سوچے اسے ہوا میں ہی تباہ کر دیا جائے۔
Pakistan Army Secret Mission

اس دوران ایف سولہ طیاروں کے ریڈیو آف کروا دیے گئے، تاکہ اس مشن کے دوران کوئی بھی انہیں کسی قسم کا حکم نہ دے سکے، پائلٹس کو یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ ان کے آرڈرز فائنل ہیں، اگر مشن کے دوران انہیں ائیر چیف بھی آرڈرز بدلنے کا حکم دے تو اسے انکار کردیں۔

جب 30 مئی 1998 کو پاکستان کے چھٹے ایٹمی دھماکے سے زمین کانپی،تو آپریشن بیدار 98 بھی کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا،اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان ایئر فورس کے شاہینوں نے اہم ترین کردار ادا کیا۔

جہاں ایک طرف انھوں نے سارا سازو سامان سائٹ تک پہنچایا وہیں سرحدوں کی نگرانی میں بھی ہمہ وقت مصروف رہے،ایسے تمام لوگوں کو آج مل کر سلام کرتے ہیں جن کی بدولت آج ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔
Pakistan nuclear

Share This

About yasir

Check Also

دنیا کا سخت ترین پٹرول ٹیسٹ اور پاک فوج

برطانیہ میں ہر سال “ایکسرسائر کیمبرین پٹرول” کے نام سے فوجی مقابلے ہوتے ہیں جن …