Home / Pakistan Navy / بھارت کی چودھراہٹ کا قاتل میزائل CM-400Akg

بھارت کی چودھراہٹ کا قاتل میزائل CM-400Akg

اس آرٹیکل میں آپ کو بتایا جائے گا کہ پاکستان اور چین نے دشمن ممالک، خاص طور پر بھارتی اور امریکی طیارہ بردار بحری بیڑوں یعنی ائیر کرافٹ کیریئرز کے لیے کیا بندوبست کر رکھا ہے۔

بھارت کی ہمیشہ سے ہی کوشش رہی کہ وہ کسی طرح بھی پاکستان اور چین کو نیچا دکھا سکے،اس کے لیے بھارتی حکومت کو چاہے اپنی عوام کا حق مار کر اربوں ڈالر کے وہ ہتھیار ہی کیوں نہ خریدنے پڑیں جن کی ضرورت بھارت کو کبھی تھی ہی نہیں۔
indian aircraft Carrier

بھارت ایسا ہی سوچ کر طیارہ بردار بیڑے بنانے میں لگ گیا،جن کی لاگت اربوں ڈالرز میں ہے،بھارت یہ طیارہ بردار بیڑے خود تیار کر رہا تھا مگر ضرورت پڑنے پر دوسرے ممالک سے بھی مدد لی گئی، مگر پھر بھی یہ ایئرکرافٹ کیئریر اس قابل نہیں کہ جدید میزائلوں سے خود کو بچا سکیں،کیونکہ ان بیڑوں میں خودکار حفاظتی نظام انتہائی ناقص ہے۔
ins Vikrant Destroyed

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ان طیارہ بردار بیڑوں میں درجنوں جنگی جہاز موجود ہوتے ہیں، اور ان کی حفاظت بھی بہت ضروری ہوتی ہے، کیونکہ دشمن اگر اس طیارہ بردار بیڑے کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو انتہائی مہنگے ائیر کرافٹ کیریئر کے علاوہ مہنگے ترین لڑاکا طیاروں سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔
Air Craft Carrier Killer

اسی لیے یہ بیڑے وہی ممالک بناتے ہیں جن کے پاس ان کا بہترین حفاظتی نظام موجود ہو، بھارتی ایئرکرافٹ کیئریر “وکرانت” کے لیے امریکی ماہرین نے واضح طور پر کہہ رکھا ہے کہ یہ کچرے کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں, اس کا حفاظتی نظام اور اسے جس مٹیریل سے بنایا گیا ہے انتہائی ناقص ہیں, اور اسے کوئی بھی اینٹی شپ میزائل نشانہ بنا سکتا ہے.
ins vikrant Is Useless

بھارت کے ایئرکرافٹ کیئریر پروگرام کے ساتھ ہی پاکستان نے چین سے جدیدترین ائیر کرافٹ کلر میزائل “CM-400AKG” کا سودا کرلیا، یہ میزائل لڑاکا طیارے سے فائر کیا جاسکتا ہے، اکثر اسے آپ لوگوں نے پاکستانی لڑاکا طیارے جے ایف سترہ کے ساتھ بھی دیکھا ہوگا۔

یہ میزائل پہلی بار 2013 میں یورپ میں منعقد ایک ایئر شو میں منظر عام پر لایا گیا، اس میزائل کے منظر عام پر آتے ہی یورپی میڈیا اس کی خصوصیات سے بہت متاثر ہوا، اس کی خوبیوں کو جاننے کے بعد مغرب کا یہ خیال تھا کہ چین نے یہ جدید میزائل امریکی ایئرکرافٹ کیریئرز اور ان کے حفاظتی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا ہے۔
Cm 400akg missile

یہاں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ میزائل کس قدر جدید اور خطرناک ہے، اس میزائل کی کچھ خاص باتیں یہ ہیں کہ اس کی رفتار تقریباً “Mach 5” تک ہے، اس ایک میزائل کا وزن تقریباً پچیس سو کلوگرام ہے، جبکہ اسکے وارہیڈ کا وزن 500 کلوگرام ہے۔ جبکہ اس کی رینج تقریباً 400 کلومیٹر تک ہے۔

اس میزائل میں موجود دھماکہ خیز مواد ایٹم بم بنانے والے یورینیم سے آلودہ ہوتا ہے، جو کہ دنیا کی کسی بھی سخت ترین چیز یا دھاتوں کو چند سیکنڈ میں پگھلا دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میزائل کو ایئرکرافٹ کیئریر کلر کا نام دیا گیا ہے۔

انتہائی ہلکا اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس یہ میزائل اپنے ہدف کی طرف بڑھتے ہوئے کبھی بھی ایک رستے پر سفر نہیں کرتا، جس کی وجہ سے اسے رستے میں مار گرانا ناممکن ہے۔
How To Destroy Aircraft Carrier

بحیرہ عرب میں بھارت اور امریکا کا گٹھ جوڑ اور نئے ایئرکرافٹ کیئریرز کی تیاری کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور چین کو ایسے ہی جدید ترین میزائل کی ضرورت تھی، اس میزائل کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے ہلکا ہونے کی وجہ سے جے ایف سترہ لڑاکا طیارہ بیک وقت اس طرح کے 2 میزائل اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔ اور ان میزائلوں کو دشمن کی پہنچ سے دور رہتے ہوئے فائر کیا جاسکتا ہے۔

اس میزائل نے نہ صرف خطے کے سمندروں میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ بھارت کا سمندروں میں چودھراہٹ کا خواب بھی مٹی میں ملا دیا۔
JF 17 With Long Range

Share This

About yasir

Check Also

پاک بحریہ کی زبردست کامیابیاں

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بعد پاکستان کو بحری قوت بڑھانے کا خیال آیا، اگرچہ …