Home / India / بھارتی فضائیہ کا ایس یو تھرٹی لڑاکا طیارہ قابل اعتماد نہیں

بھارتی فضائیہ کا ایس یو تھرٹی لڑاکا طیارہ قابل اعتماد نہیں

SU-30 لڑاکا طیارہ روس سمیت دنیا کے 12 ممالک استعمال کرتے ہیں،یہ ایک کامیاب ترین روسی طیارہ ہے، اور اس طیارے کی قابلیت دنیا مانتی ہے، یہ طیارے اب تک پانچ سے چھ سو کی تعداد میں بنائے جا چکے ہیں۔

اس طیارے کے حوالے سے یہ آرٹیکل لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ طیارہ ہمارے دو پڑوسی ممالک استعمال کرتے ہیں،ایک ہمارا دوست یعنی چین اور دوسرا ہمارا دشمن یعنی بھارت، چین کے زیر استعمال یہ طیارے روس کے بنائے گئے ہیں، جنہیں “SU-30MKK” اور “SU-30MK2” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
Chinese Fighter Jets

جب کہ بھارت یہ طیارہ روس کی مدد سے بنا رہا ہے،جیسے “SU-30Mki” کے نام سے جانا جاتا ہے، بھارت کے علاوہ دوسرے ممالک کے پاس “SU-30” لڑاکا طیارے قابل اعتماد ہیں، اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ بھارت کے علاوہ ان تمام ممالک کے پاس ان طیاروں کا کریش ریٹ انتہائی کم یا پھر نا ہونے کے برابر ہے۔

مگر بھارت کی کیا ہی بات ہے ، بھارتی سائنسدانوں سے نا ہی میزائل بن پاتے ہیں اور نہ ہی جنگی طیارے, جہاں تک روس اس طیارے کو بناتا رہا اس طیارے نے کافی عزت کمائی کافی نام بنایا, مگر جن طیاروں کو بھارت نے روس کی مدد سے بنایا ان طیاروں یعنی “SU-30Mki” کا فضا میں انجن بند ہو جاتا ہے یا پھر فلائی بائی وائر سسٹم کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
Tejas Failed

اصل میں بھارتی دفائی اداروں میں کرپشن عروج پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس طیارے میں ناکارہ پرزے استعمال کیئے جا رہے ہیں, جن کی وجہ سے یہ طیارہ روسی ساختہ طیاروں جیسا قابل اعتماد نہیں رہا۔

یقین کیجئے یہ باتیں مزاق نہیں ہیں, میں آج یہ ثابت کروں گا کہ بھارتی فضائیہ کا یہ لڑاکا طیارہ قابل اعتماد نہیں, اور یہ بھی ثابت کروں گا کہ بھارتی جس جے ایف سترہ طیارے کو نا قابل اعتماد کہتے نہیں تھکتے وہ طیارہ کس قدر قابل اعتماد ہے, یہاں میں واضح طور پر بتا دوں کہ میں ان دونوں طیاروں کا صلاحیتوں کے اعتبار سے موازنہ نہیں کر رہا, تا ہم دونوں طیاروں میں سے کون سا طیارہ زیادہ قابل اعتماد ہے, ثابت کیا جائے گا۔

ویسے تو بھارت نے 2002 یہ طیارے حاصل کرنا شروع کیے، مگر پہلا بھارتی ساختہ یعنی بھارت اور روس کا مشترکہ طور پر بنایا ہوا “SU-30Mki” لڑاکا طیارہ 2004 میں بھارتی ایئر فورس کا حصہ بنا،اور ماشااللہ پورے پانچ سال بعد 30 اپریل 2009 کو پہلا بھارتی ساختہ “SU-30Mki” راجستھان میں گرا،اس طیارے کے کریش ہونے کی وجہ “فلائی بائی وائر سسٹم” میں خرابی تھی، اس طیارے کا ایک پائلٹ ہلاک ہوا جبکہ دوسرا پائلٹ اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوا۔

دوسرا طیارہ بھی اسی سال یعنی 30 نومبر 2009 کو جیسلمیر کے قریب گر کر تباہ ہوا، یہ طیارہ انجن میں خرابی کی وجہ سے کریش ہوا،اس طیارے کی دونوں پائلٹس اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔ تیسرا بھارتی “SU-30Mki” پھر دو سال بعد 13 دسمبر 2011 کو پونے کے قریب گر کر تباہ ہوا، یہ طیارہ بھی فلائی بائی وائر سسٹم میں خرابی کی وجہ سے کریش ہوا، اس کریش میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
su 30mki crashed

چوتھا بھارتی “SU-30Mki” ٹھیک ایک سال بعد 19 فروری 2013 کو ایک ایکسرسائز کے فوراً بعد پر پھٹنے کی وجہ سے کریش ہوگیا،اس بار بھی پائلٹس محفوظ رہے۔ پانچواں بھارتی “SU-30Mki” طیارہ 14 اکتوبر 2014 کو ایک ٹریننگ مشن میں پونے کے قریب گر کر تباہ ہوا، اور پہلے کی طرح اس بار بھی پائلٹ محفوظ رہے، اس کریش سے پہلے بھارتی ایئر چیف مارشل اس بات کا انکشاف کر چکے تھے کہ ان طیاروں میں کئی خرابیاں، اور مشکلات درپیش ہیں، مگر کرپٹ منیجمنٹ کی وجہ سے ان مسائل کو ختم نہیں کیا گیا۔

پھر چند ماہ بعد چھٹا “SU-30Mki” لڑاکا طیارہ 15 مارچ 2015 کو پروٹین کی فلائٹ کے دوران راجستھان کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا، تاہم اس کریش کی اصل وجہ میں معلوم نہیں کر سکا، عسکری میں دونوں پائلٹس محفوظ رہے جب کہ تین بھارتی دیہاتی زخمی ہوئے۔ ساتواں “SU-30Mki” پھر دو ماہ بعد 19 مئی 2015 کو تکنیکی خرابی کے باعث تیزپور میں گر کر تباہ ہوا،اس کریش میں بھی پائلٹس محفوظ رہے۔ آٹھواں بھارتی “SU-30Mki” لڑاکا طیارہ 23 مئی 2017 کو چینی سرحد کے قریب اچانک بھارتی ریڈار سے غائب ہوگیا، جس کے بعد سرچ آپریشن شروع کیا گیا،اور تین سے چار دن کے بعد دونوں پائلٹس کی ڈیڈ باڈیز ملیں۔

اس بھارتی طیارے کے تباہ ہونے پر بھارت یہ نہیں سمجھ پایا کہ اس طیارے کے کریش ہونے کی اصل وجہ کیا تھی، تاہم اس حوالے سے لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں، کچھ کا خیال ہے کہ یہ طیارہ پہلے طیاروں کی طرح ہی کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے کریش ہوا، اور دونوں پائلٹس اجیکٹ کرنے کے باوجود اپنی جانیں نہیں بچا سکے، کیوں کہ یہ طیارہ جس علاقے میں گرا وہاں بلندی پر ہوا کا کم دباؤ ہے،اور آکسیجن کم ہے، اس لیے ممکن ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہی کریش ہوا اور پائلٹس ایجیکٹ کرنے کے باوجود ہوا کے کم دباؤ کی وجہ سے اپنی جان بچانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
indian fighter jets

مگر اس کریش کو لے کر لوگ ایک دوسری رائے بھی رکھتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ اس بھارتی طیارے کو چین نے مار گرایا ہے، اور ممکن ہے کہ چین نے اس کے لیے “J-16” یا “JH-7” لڑاکا طیارہ استعمال کیا ہو، کیونکہ یہ دونوں چینی طیارے جدید ترین الیکٹرانک وارفیئر سسٹم سے لیس ہیں اور “SU-30Mki” لڑاکا طیارے کو پوری طرح سے اندھا کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں،جس کے بعد اس طیارے کا نہ تو راڈار کام کر سکتا ہے اور نہ ہی نیویگیشن سسٹم۔
chinese Fighter Jets Equipped

یہ تھیں “SU-30Mki” لڑاکا طیارے کے حوالے سے تفصیلات، جوکہ بھارت کی آفیشل ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں، اب آپ خود اس بات کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ بھارتی لڑکا طیارہ کس قدر قابل اعتماد ہے، چند سالوں میں نئے اور جدید ترین لڑاکا طیارے کے اس قدر حادثات یقینا بھارت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔

اب آتے ہیں “JF-17 Block 1” اور “JF-17 Block 2” کی طرف، بے شک “SU-30Mki” خصوصیات کے اعتبار سے ان طیاروں سے بہتر ہے مگر “JF-17” بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارے “SU-30Mki” سے زیادہ قابل اعتماد ہے، اور اس بات کا یہ ثبوت ہے کہ 2007 میں یہ طیارہ پاک فضائیہ کا حصہ بنا اور اب تک  صرف دو “JF-17 Block 1” طیارے انجن میں خرابی کی وجہ سے کریش ہوئے۔
Jf 17 New

About yasir

Check Also

کیا انڈین مسلم کشمیر میں غصہ نکال رہے ہیں؟

کیا انڈین مسلم کشمیر میں غصہ نکال رہے ہیں؟ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام …