Home / Pakistan Army / میدان جنگ میں پیدل آرمی کو پیش آنے والے خطرات اور انکا حل

میدان جنگ میں پیدل آرمی کو پیش آنے والے خطرات اور انکا حل

“میدان جنگ میں کسی بهی پیدل آرمی کو پیش آنے والے خطرات اور انکا حل”

جنگ کے لیے موجودہ وقت پہلے کی نسبتاً سخت اور کٹھن ہے اس لیے اکثر ممالک چهوٹے چهوٹے کمزور مسلح گروہوں سے بهی مزاکرات کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں. پچهلے وقتوں میں ایک زمینی فوج کو صرف میدان جنگ میں سامنے سے آنے والے لشکر کا خطرہ رہتا تها لیکن اب میدان کا راز بدل چکا ہے.

زمانہ حال میں زمینی افواج کو کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے جن میں سے صرف چند بڑے خطرات میں یہاں بیان کیئے جائیں گے .

میدان جنگ میں سب سے بڑا خطرہ اینٹی پرسن مائنز اور اینٹی ٹینک مائنز بنتی ہیں جسے دوسرے الفاظ میں بارودی سرنگ کا نام دیا جاتا ہے. یہ ہتهیار تقریباً پوری دنیا میں استعمال ہوتا ہے.یہاں تک کہ دہشت گرد تنظیمیں بهی یہ ہتهیار مخالف گروہ کو سنگین نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتی ہیں.

مثال کے طور پر ایک پاکستانی فوج کے افسر کے بقول:-
“ضرب عزب آپریشن میں زیادہ تر فوجیوں اور شہریوں کی شہادتیں آئی ڈی بلاسٹ سے ہوئیں.”
pakistan Brave Army

یہاں تک کے امریکی فوج تمام تر وسائل کے استعمال کے بوجود ان مائنز کے بلاسٹ سے بچ نہیں سکی.اگرچہ امریکی افواج دنیا کی بہترین بلٹ پروف گاڑیاں اور جیکٹس استعمال کرتی ہیں. لیکن مائن بلاسٹ کی وجہ سے ٹانگیں اڑا بیٹهتے ہیں.
PAK ARMY Armored Vehicles

چونکہ ان بارودی سرنگوں کو زمین میں دفن کیا گیا ہوتا ہے اسلئے ان کو ناکارہ بنانے کے لیے کسی زمینی گاڑی یا ٹینک کو استعمال کیا جاتا ہے.پاکستان کے اکثر ٹینک اینٹی پرسن مائن سے متاثر نہیں ہوتے اسلیئے ان کو پیدل افواج کے آگے چلایا جاتا ہے.تاکہ بارودی سرنگیں ختم ہو سکیں. یہی طریقہ جنگ کے دوران بهی استعمال کیا جاتا ہے.اسکے علاوہ پاکستان کے کچھ ہینڈ ڈیوائسز اور ٹینک پر لگے جدید آلات بهی چند میٹر سے بارودی سرنگ کا پتا لگا لیتے ہیں.
Pakistan Army New Weapons

کسی بهی زمینی فوج کے لیے دوسرا بڑا خطرہ علاقے میں پهیلے دشمن کے گوریلے ہوتے ہیں.ان میں سنائپرز، گهات لگا کر حملہ کرنے والے یا معلومات اکهٹی کرنے والے کمانڈوز ہوتے ہیں.
pakistan army snipers

یہ لوگ رات کے اندهیرے میں دشمن فوج کے کیمپوں پر ہلہ بول دیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا کر فرار ہو جاتے ہیں. یہ لوگ دشمن فوج کو اپنی فوج سے مقابلہ کرنے سے بہت پہلے ہی بہت کمزور کر چکے ہوتے ہیں.ان کے سدباب کے لیے بکتربند گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں ،رات کو فوجی کیمپوں میں روشنی رکهی جاتی ہے اور حفاظتی دستوں میں آضافہ کیا جاتا ہے.

زمینی افواج کے لیے تیسرا بڑا خطرہ دشمن کی متوقع بمباری ہوتا ہے.کیونکہ دور حاضر میں ہر ملک اپنا لانگ رینج توپ خانہ اور راکٹ سسٹم رکهتا ہے.اس خطرے سے نپٹنے کے لیے دشمن کے علاقے میں داخل ہوتے ہی فوج کے چهوٹے چهوٹے دستے ترتیب دئیے جاتے ہیں.ہر دستہ لیفٹیننٹ یا صوبیدار کی کمانڈ میں لڑتا ہے.

اس کے علاوہ فضائی حملے کا خطرہ، دشمن کا پیچهے سے حملے کا خطرہ اور دشمن کا بڑی تعداد سے حملے کا خطرہ بهی ہوتا ہے جن کے لیے بلترتیب اینٹی ائیرکرافٹ گنز،ڈرونز کے ذریعے نگرانی، اور فضائی سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے.
Pak Army Latest

Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج کے آفیسرز کو تربیت نہ دینے پر امریکہ کو کیا نقصانات اٹھانا پڑینگے

امریکا کی طرف سے پاکستانی فوج کی ملٹری ٹریننگ پروگرام کی فنڈنگ کم کرنے پر …