Home / International / امریکہ کی افغانستان میں ایک بڑی غلطی

امریکہ کی افغانستان میں ایک بڑی غلطی

برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیقی رپورٹ میں اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ افغانستان کے 70 فیصد علاقے طالبان کے زیر کنٹرول ہیں مگر امریکہ کی فوج کا دعویٰ اسکے برعکس ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پوزیشن کافی مضبو ط ہے اس میں امریکہ کی اپنی بھی غلطیاں ہیں۔

9/11 کے بعد جب امریکہ افغانستان میں داخل ہوا یہاں مکمل طور پر کنٹرول حاصل کیے بغیر اس نے عراق کا رخ کر لیا۔
american troops

عراق پر حملے سے اسکی فوجی حکمت عملی میں یکسوئی نہ رہی، افغانستان سے توجہ ہٹ گئی۔ اس کی دوسری بڑی غلطی یہ تھی کہ افغانستان پر حملے کے بعد جو طالبان بچ گئے تھے ان کیساتھ بات چیت کر کے معاملات طے نہیں کئے گئے اس وقت طاقت کا نشہ تھا اور امریکہ کا غصہ بھی زوروں پر تھا۔

افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ علاقوں پر بہت زیادہ بمباری کی گئی اس لئے ان کی بڑی تعداد نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی طرف آنا شروع کر دیا جس سے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہوئیں، طالبان کے القاعدہ اور مقامی دہشت گرد گروپوں کی سپورٹ کرنے سے پیچیدہ صورتحال بن گئی۔

اب بھی جس غلطی کو دہرایا جاتا رہا وہ یہی تھی کہ اوباما انتظامیہ نے طالبان سے بات چیت پر کبھی زور نہیں دیا اب ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

طالبان کا مکمل نیٹ ورک رہا ہے جس کی وجہ سے وہ سپلائیز لے جاتے رہے ہیں۔ طالبان کا پہلے جو سسٹم پاکستان میں کام کر رہا تھا اب ایران اور شاید روس میں اسی سسٹم پر کام ہو رہا ہے اگر وہ مدد نہیں دے رہے تو اتنی اجازت ضرور دی ہوئی ہے کہ وہ مخصوص راستوں سے ہتھیار لے جائیں۔ 17 سال جنگ لڑنا آسان نہیں، یہ طویل جنگ بیرونی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں۔

طالبان سے متعلق امریکی پالیسی بہت زیادہ منقسم ہے، ٹرمپ کے فوجی مشیر زیادہ بمباری سے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب دفتر خارجہ بات چیت پر زور دے رہا ہے جوکہ کمزور حلقہ ہے جب تک وہ خود کسی ٹھوس نتیجے یا اتفاق رائے تک نہیں پہنچتے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
American Bombers

Share This

About yasir

Check Also

پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کی خاطر کیا کچھ کرسکتا ہے۔

پاکستان میں عسکری اور سیاسی قیادت اس بات پر متفق ہیں کہ یمن میں جو …