Home / Pakistan Air Force / کیا پاکستان کی فضائیہ اسٹیلتھ طیارے مار گرا سکتی ہے؟

کیا پاکستان کی فضائیہ اسٹیلتھ طیارے مار گرا سکتی ہے؟

کیا پاکستان کی فضائیہ اسٹیلتھ طیارے مار گرا سکتی ہے؟

پاکستان کی فضائیہ کا شمار دنیا کی بہترین فضائی افواج میں ہوتا ہے، یہ تعریف صرف لفظوں کی حد تک ہی نہیں بلکہ اس فضائیہ کا کردار ماضی سے اب تک آپ کے سامنے ہے، اس فضائیہ نے نہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کی بلکہ عربوں کی طرف سے بھی لڑی، اور نہ صرف لڑی بلکہ کامیاب بھی رہی۔

موجودہ دور میں جنگ کا طرز عمل بدل چکا ہے، اب جنگ زمین پر ہو یا فضا میں، نئے لانگ رینج میزائلوں اور اسٹیلتھ طیاروں نے جنگ کو نہ صرف مہنگا کردیا بلکہ قدرے مختصر بھی کردیا ہے۔

پاک فضائیہ دنیا کی کسی بھی فضائیہ سے کم نہیں، اس فضائیہ کے پائلٹس نے وہ وہ کارنامے کر دکھا رکھے ہیں جو سپر پاورز کے پائلٹس نے بھی نہیں کیے۔

پاکستان کی افواج بھارت اور اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے رہے اور انہیں کے دفاع کو دیکھتے ہوئے اپنا دفاع مضبوط کیا، ایٹم بم ہو یا کوئی اور جدید ہتھیار اسے حاصل کرنے میں پہل بھارت نے کی، جس کے بعد پاکستان کے لیے اس کا حصول لازم ہوگیا، پاکستان نہیں چاہتا تھا کہ اسے مہنگے ہتھیار خریدنا پڑیں، مگر جب دشمن جدید ہتھیار خریدنا شروع کردیں تو خرچہ کرنا ہی پڑتا ہے۔

اس وقت پاک فضائیہ کے طیارے اور زمین پر موجود ہے ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم ++ 4 کے طیاروں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں, مگر پانچویں نسل کے طیاروں کو مار گرانے کے لیے ایک الگ طرح کا اور انتہائی جدید اور مہنگے طیاروں اور ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ فی الحال پاکستان کے پاس نہیں، اور نہ ہی بھارت کے پاس ہے۔

اصل میں پاکستان فضائیہ نے یہ پراجیکٹ مہنگے ہونے کی وجہ سے پہلے شروع نہیں کیے کیونکہ ایسے ہتھیار بھارت کے پاس بھی نہیں ہیں، مگر اب پاکستان کی فضائیہ کو امریکی اسٹیلتھ طیاروں جو کہ افغانستان میں بگرام ائیر بیس پر کھڑے ہیں سے خطرہ ہے۔
F 22 in Afghanistan

پاکستان فضائیہ کے چیف اس بات کا خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ اگر پاک فضائیہ امریکی ڈرون گراتی ہے تو ہمیں امریکی اسٹیلتھ طیاروں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، امریکی لڑاکا طیارے نہ صرف پاک فضائیہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے شہری علاقوں کو بھی نقصان دے سکتے ہیں۔

پاک فضائیہ کبھی بھی اپنے نقصان سے نہیں ڈرتی مگر شہری علاقوں کو سخت خطرہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات سخت اقدامات اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ایک سے زائد بار پاک فضائیہ کی طرف سے امریکہ کو باور بھی کروایا گیا کہ امریکی ڈرون مار گرا سکتے ہیں تاکہ امریکہ ڈرون حملے کرنا بند کردے، لیکن موجودہ حالات کو اگر دیکھا جائے تو اس وقت امریکہ جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کررہا ہے تاکہ پاکستان کی طرف سے کوئی سخت قدم اٹھایا جائے، اور امریکا کو اپنے لڑاکا طیارے پاکستان کی حدود میں داخل کرنے کا جواز مل سکے۔
F 22 near Pakistan

یہ بات یاد رہے کہ اس وقت بھارت اسرائیل اور امریکہ کا گٹھ جوڑ پاکستان کی حساس تنصیبات کو ٹارگٹ کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے، کچھ مہینے پہلے آئی ایس آئی نے اس بات کا پتہ چلا لیا تھا کہ یہ تینوں ممالک پاکستان کے خلاف ایک بڑی سازش کرنے جارہے ہیں۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے اب پاکستان فلفور نئے ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، جیسے کہ پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے جو کہ پاکستان خود بنائے گا، اور دوسرا لانگ رینج ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم جو کہ روس سے حاصل کیا جا سکتا ہے، اطلاعات کے مطابق پاکستان روس سے ” S-400 ” ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم خرید سکتا ہے۔اور ممکن ہے کہ اس کا معاہدہ رواں سال ہی کر دیا جائے۔

یاد رہے روس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا یہ جدید ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم امریکی پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کو بھی مار گرا سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ چین جیسا ملک بھی اپنا بہترین ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم ہونے کے باوجود روس سے “S-400” ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم خرید رہا ہے۔

اگر پاکستان روس سے یہ جدید ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم خرید لے تو امریکہ کبھی خواب میں بھی پاکستان میں اپنے لڑاکا طیارے داخل نہیں کرے گا، کیوں کہ سپرپاور ہوتے ہوئے وہ اتنی ذلت برداشت نہیں کر پائے گا۔

پاکستان پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے اگلے سات سے آٹھ سالوں میں بنانے میں کامیاب ہو گا۔ لیکن اس سے پہلے پاکستان کو جدید ترین ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم کی اشد ضرورت ہے، ایسا نظام ہوتے ہوئے پاکستان کی فضائیہ بغیر کسی نقصان کے امریکی طیارے مار گرا سکتی ہے۔
S 400 vs f 22

نوٹ: ہماری افواج جو بھی فیصلہ کرتی ہیں وہ پاکستان اور اس کی عوام کے حق میں ہوتا ہے، وہ فیصلہ کسی ایک فرد کا فیصلہ نہیں ہوتا، بعض اوقات ایسے فیصلے بھی کر دیے جاتے ہیں جو بظاہر عوام کو اچھے نہیں لگتے مگر وقت آنے پر سمجھا جا سکتا ہے کہ اس فوج نے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا تھا۔

فوج ہوتی ہیں لڑنے اور مرمٹنے کے لیے ہے اور اس کے لیئے ہماری افواج پوری طرح سے تیار ہیں، اگر آج بھارت کی طرف سے حملہ ہو تو یقین کیجئے یہ فوج ایک منٹ سے پہلے جواب دے گی، مگر امریکہ کا ماضی آپ کے سامنے ہے امریکہ کے ہاتھوں کئی مسلمان ممالک تباہ ہو چکے ہیں ، امریکہ کا طریقہ واردات یہی رہا ہے کہ جس ملک پر حملہ کرنا ہو اس ملک کے خلاف پہلے جواز بنایا جائے، عراق پر ایٹمی ہتھیار بنانے کے الزام لگا کر پورے ملک کو تباہ کردیا گیا، اپنے “Twin Towers” کو تباہ کرکے الزام اسامہ بن لادن پر لگا دیا گیا اور اسی الزام کی آڑ میں امریکہ کو افغانستان میں آنے کا جواز مل گیا۔

پاکستان کی فوجی  کی قیادت انتہائی ذہین لوگوں کے ہاتھ میں ہے وہ لوگ جانتے ہیں کہ ہمیں کس دشمن کے ساتھ کب لڑنا ہے، اس فوج پر نہ صرف پاکستان کے دفاع کی ذمہ داری ہے بلکہ سعودی عرب میں موجود مقدس مقامات اور باقی عالم اسلام کے دفاع کی بھی زمہ داری ہے۔ اور اسی ذمہ داری کے تحت 41 اسلامک ممالک کی فوجی سربراہی پاکستان کے ایک ذہین جنرل ” جنرل راحیل شریف” کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔
Gen Raheel Sharif41 islamic countries

Share This

About yasir

Check Also

وہ وقت جب پاکستانی فضائیہ کے میراج طیاروں کو امریکی نہیں پکڑ سکے

پاکستان ائیر فورس کے جنگجو ہوابازوں کو ہدف دیا گیا کہ انہیں بغیر کوئی سراغ …