Home / Pakistan Navy / پاکستان نیوی کے تور پیڈو بھارتی بحریہ کے لیے بڑا خطرہ

پاکستان نیوی کے تور پیڈو بھارتی بحریہ کے لیے بڑا خطرہ

تارپیڈو کی ایجاد آبدوز کی ایجاد سے منسلک ہے. سب سے پہلے پہلی جنگ عظیم میں پانی کے اندر چلنے والی چهوٹی آبدوزوں کا استعمال ہوا جبکہ دوسری جنگ عظیم میں انھیں دیوہیکل جسامت کا حامل بنا دیا گیا, اس کے ساتھ ساتھ آبدوزوں کو تباہ کرنے والے تارپیڈوز بهی جدید سے جدید بنائے گئے.

اس حوالے سے بتاتا چلوں کہ دوسری جنگ عظیم میں ایسے سر پهرے جاپانی بهی دیکهنے کو ملے جنہوں نے امریکی بحری جہازوں کو تباہ کرنے کے لیے خودکش تارپیڈوز بنائے. ان تارپیڈوز کو ایک بندہ آپریٹ کرتا تها جو کہ خود کو کسی جہاز یا آبدوز کے قریب بلاسٹ کر دیتا تها.
torpedo rider

کولڈور میں تارپیڈوز کی تیاری مزید تیز ہو گئی اور جدید سے جدید تارپیڈوز بنائے جانے لگے. موجودہ وقت میں دنیا کے سب سے خطرناک تارپیڈوز میں پاکستان کا بهی ایک تارپیڈو(Mk-50) شامل ہے.پاکستان کے پاس کئی طرح کہ تارپیڈوز ہیں جو کہ فضا ، بحری جہاز یا آبدوز سے فائر کئے جاتے ہیں.
pakistan navy torpedos

پاکستان کے پاس Mk-50 تارپیڈو بحری جہاز سے فائر ہونے والا ایک ہلکی جسامت کا تارپیڈو ہے جس کا وزن زیادہ سے زیادہ 350 کلوگرام تک ہوتا ہے. یہ امریکی ساختہ تارپیڈو ہے۔ دراصل یہ تارپیڈو Mk-46 کی جدید قسم ہے جبکہ Mk-50 کی جدید قسم Mk-54 تارپیڈو کے نام سے جانی جاتی ہے.

کسی بهی بهارتی آبدوز کو 11 کلو میٹر کے فاصلے سے ہٹ کر سکتا ہے. جسامت میں چهوٹا اور تیز رفتار ہونے کی وجہ سے آبدوز کا ریڈار تارپیڈو کو دیکهنے سے محروم رہتا ہے.
Torpedo Hit

ایک امریکی نیوی کپتان کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کی طرف داغا جانے والا ہیوی تارپیڈو بهی کلوز رینج سے تباہ کیا جا سکتا ہے. اگرچہ اس تارپیڈو کو سونار کی مدد سے انگیج کیا جائے اور وائرلیس موڈ پر Mk-50 کو اس تارپیڈو پر فائر کر دیا جائے. یعنی اس تارپیڈو کی مدد سے حملہ آور بڑے تارپیڈو کو تباہ کرنا بهی ممکن ہے.

یاد رہے امریکا کا Mk-54 تارپیڈو دنیا کا بہترین لائٹ ویٹ تارپیڈوز مانا جاتا ہے.
پاکستان نیوی کا تقریبا” ہر بحری جہاز ان امریکی ساختہ تارپیڈوز سے لیس ہے.

Share This

About yasir

Check Also

پاک بحریہ کی زبردست کامیابیاں

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بعد پاکستان کو بحری قوت بڑھانے کا خیال آیا، اگرچہ …