Home / International / ایجنڈا ٢١ نامی ایلومناتی منصوبہ

ایجنڈا ٢١ نامی ایلومناتی منصوبہ

ایجنڈا ٢١ نامی ایلومناتی منصوبہ :

جس کے ذریعے آبادی اور آبادی کے استعمال کے ذرائع کو کنٹرول کرنے کا کام کیا جا رہا ہے. کچھ عرصہ پہلے بل گیٹس (جو کہ مائکروسوفٹ کا مالک ہے ) کو ہیرو بنانے اور انسانیت کی خدمت کا نام دے کر کافی مشہور کرنے کا کام کیا گیا تھا.

اس نے افریقہ کا وزٹ کیا اور وہاں کے بچوں سے ملاقاتیں کیں. اسکی کچھ تصویر اور ویڈیوز یہودی میڈیا میں کافی پزیرائی ملی. اسکے بعد اس کی ملاقات پاکستان اور انڈیا کے وزیر اعظموں سے بھی ہوئی. جس میں کی جانے والی باتیں منظر عام پر نہ آ سکی تھیں.

ان ملاقاتوں سے پہلے اور بعد میں تینوں ممالک افریقہ ، انڈیا اور پاکستان میں کچھ ایسے منصوبوں پر کام ہوا جو معمول سے ہٹ کر تھا. ان منصوبوں میں پاکستان ، افریقہ اور انڈیا میں ویکسین کو لازم قرار دیا گیا .. اور زبردستی حکومتوں کی طرف سے پولیو اور دیگر ویکسین کے ٹیکوں کو پولیس کی نگرانی میں لگایا جانے لگا.

جب کہ ان ویکسین کے لئے عملہ کو پیسے کے ساتھ ویکسین بھی امریکہ نے خود فراہم کیں. یہ سوچ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ افغانستان ، عراق ، فلسطین ، شام ،برما اور کشمیر میں ہزاروں لوگوں اور انکے بچوں کو قتل کرنے والے امریکہ کو اچانک ہمارے بچوں کا خیال کیسے آ گیا. اتنی محبّت آخر جاگی کیسے ؟

چلیں آپ کو ان صلیبیوں کی اصلیت ایک بار پھر بتاتے ہیں. تاکہ آپ کو آپ کی حکومتوں کے یہودی غلام ہونے پر کوئی شک باقی نہ رہے .

بل گیٹس نامی شخص کو مائیکروسوفٹ کا مالک ظاہر کیا جاتا ہے. مائیکروسوفٹ وہ ادارہ ہے جو کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹم ” ونڈوز ” اور اس سے متعلقہ سافٹ ویئر بنانے کے لئے کام کرتا ہے. اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک منٹ میں چار ہزار ڈالر کما لیتا ہے .. دنیا اس شخص کو یہودی میڈیا کی بے غیرتی کی وجہ سے بہت شریف آدمی سمجھتی ہے. اسے ہمیشہ خیرات دینے اور لوگوں کی مدد کرنے والا شخص دکھایا جاتا ہے..
Bill Gates Bad man

یہ شخص ایجنڈا ” ٢١ ” نامی منصوبے پر کام کر رہا ہے، جسے کے تحت پوری دنیا کی آبادی کو کم کرنے اور انکے زیر استعمال اشیا پر ایلیٹ کلاس کا کنٹرول کرنے جیسے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے.

ایلومیناتی کے بہت سے خفیہ منصوبوں میں ایک اور اھم منصوبہ یہ بھی ہے کہ دنیا پر ایلیٹ کلاس کا کنٹرول ہو اور غریب غربا لوگوں کی آبادی کو کم کر کے ایک تہائی رہنے دیا جائے تاکہ ان پر حکومت کرنا آسان ہو سکے. اسکے لئے ادویات سے لوگوں کو ٹھیک کرنے کے بہانے انہیں مزید مہلک بیماریوں میں مبتلا کرنا ، بچوں کو اپاہج بنانا، لوگوں میں بانجھ پن کے مرض کو پیدا کرنا، زرعیاتی کاموں اور اجناس یعنی کھانے پینے کی اشیا پر کنٹرول حاصل کرنا.

چھوٹے کاروباری لوگوں کو ختم کر کے بڑی سپر اور ہائپر مارکیٹس بنانا ، تمام لوگوں کو مالک کی بجائے ملازم بنا کر انہیں سہولیات کے نام پر فلیٹس میں رکھنا اور انکے گھروں کو ختم کرنا ، لوگوں کو پیدل یا حکومتی زرائع سے بس ، ٹرین ، وغیرہ پرسفر کرنا اور لوگوں کے ہاتھوں سے کرنسی ، معدنیات ، دھاتیں ، یا ہر قیمتی چیز کو لے کر انہیں الیکٹرانک کرنسی پر لگا دینا جیسے منصوبے شامل ہیں.
Bitcoin

کرنسی ختم کر کے لوگوں کو سہولت کے نام پر الیکٹرانک ٹرانزیکشن مثلا” کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، موبائل ایپلیکیشن سے ادائیگی ، انٹرنیٹ سے ادائیگی جیسی سہولیات متعارف کروا کے انکے ہاتھ خالی کر دینے کا منصوبہ انکا سب سے خطرناک منصوبہ ہے جس کے ذریعے حکومتیں جب چاہیں عوام سے جتنا مرضی پیسہ ٹیکس کے ذریعے کاٹ لیں گی.

اور جب چاہیں دنیا کو ایک کلک کے ذریعے کنگال بنا سکیں گے اور اپنی غلامی کرنے پر مجبور کر سکیں گے. یہی سہولیات کا ڈرامہ پہلے پیپر یعنی کاغذ کی کرنسی کے ساتھ رچایا گیا تھا جس کا خمیازہ ہم آج تک انفلیشن اور کرنسی ڈی ویلیویشن کی صورت میں بھگت رہے ہیں. بارٹر سسٹم اسکا توڑ ہے اسلئے وہ ہر شے اپنے قبضے میں کرنا چاہتے ہیں.

یہ لوگ پانی، بجلی ، گیس وغیرہ جیسی ہر سہولت جسے لوگ اب اپنی بنیادی ضرورت سمجھتے ہیں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں. جیسا کہ وہ لوگ بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں. یہودی غلام حکومتیں اور ان سورسز کو کنٹرول کرنے والے ادارے جب چاہتے ہیں شارٹ فال ظاہر کر کے بندش کر دیتے ہیں .. اور جتنا چاہے ٹیکس لگا کر عوام کو ادائیگی کے لئے مجبور کر لیتے ہیں۔

انکا مقصد آبادی کو 5 بلین سے 3 بلین تک لانا ہے تاکہ ان پر آسانی سے حکومت کی جا سکے, اور ان کو ایلیٹ کلاس لوگ کنٹرول کر سکیں اور یہی ایلیٹ کلاس لوگ ایجنڈا ٢١ نامی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں. یہ لوگ انرجی پیدا کرنے کے تمام منصوبوں کو ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کم کرنے کے بہانے لگا کر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں ..
اینوایرنمنٹل کنٹرول کے بہانے سے لوگوں کے واشروم جانے کو بہانہ بنا کر لوگوں میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا کر کے انہیں مارا جا ر ہے۔

اس ایجنڈا کے ٩ نکات ہیں :

1: لوگوں کو انکے پرائیویٹ گھروں سے نکال کر انہیں چھوٹے چھوٹے فلیٹس دے دیئے جائیں اور ان بلڈنگز کے مالکان ایلیٹ کلاس لوگ ہوں جنہیں ایلومیناتی اور اس جیسے دیگر خفیہ تنظیمیں کنٹرول کریں .

2: میدانی علاقوں سے لوگوں کے گھر ختم کر کے یہاں جنگل بنائے جائیں اور وہ جانور پیدا کئے جائیں جن سے گوشت حاصل کیا جا سکے .. اور یہ بھی اسی ایلیٹ کلاس کے زیر انتظام ہو .

3: لوگوں کی ذاتی گاڑیاں ختم کر کے انہیں پیدل کر دیا جائے . ( اسکے لئے شاید بہت زیادہ ٹیکس لگا کر گاڑیوں اور انکی فروخت کو مشکل ترین بنا دیا جائے گا جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی .. ) اوربس اسی ایلیٹ کلاس کے زیر استعمال رہیں گی.

4: عوام کی سپورٹ ان کاروبار کے لئے حاصل کرنا جو یہی لوگ چلائیں گے . (جسے آپکو ملازمتیں دے کر انکے کاروبار کی مارکیٹنگ کروائی جائے گی . جس سے آپ اسے کوئی خفیہ یا یہودیوں کا کاروبار نہ سمجھیں )

5: یہ اجینڈا ” ٢١ ” ایسی پالیسیاں بنائے گا جو مخصوص ایلیٹ کلاس لوگوں یعنی انہی خفیہ یہودی ایجنٹوں کے لئے ہوں۔

6: کاربن ڈائی اکساییڈ کو ماحول سے کم کرنے کا بہانہ لگا کر اینرجی کو کنٹرول کیا جائے .. اور لوگوں کی آبادی کو کم کیا جائے تاکہ لوگوں کی کثیر تعداد کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا نہ کرے.

7: بیوروکریٹس وغیرہ لوگ صفائی کا انتظام سنبھالیں اور ماحولیاتی آلودگی سے ڈرا کر لوگوں پرجرمانے عائید کریں اور انہیں ڈرا دھمکا کر رکھیں.

8: الیکٹرانک ٹرانزیکشن کو فروغ دے کر ٹیکس اور فیسیں بڑھا دی جائیں.

9: ویکسین کے ذریعے دنیا کی آبادی کو کم کیا جا سکے اور بچے کچے لوگوں پر اوپر والے تمام نکات لاگو کر کے ان پر حکومت کی جا سکے.

آج کل بل گیٹس اسی ویکسین کے ایجنڈے پر افریقہ ، انڈیا اور پاکستان میں تجرباتی کام کر رہا ہے . کیوں کہ یہاں کی حکومتیں کم عقل اور انگریز سوچ کی غلام ہیں کہ وہ شاید جو سوچتے ہیں اسی میں فائدہ ہوتا ہے. جب کہ ہرگز ایسا نہیں, بلکہ وہ جو کرتے ہیں آپکو قابو کرنے کے لئے کرتے ہیں۔

ان کاموں کو سر انجام دینے کے لئے حکومتوں میں موجود ایسی پالیسیوں کی مخالفتیں کرنے والوں کوکوئی نہ کوئی الزام لگا کر بدنام کیا جاتا ہے اور پھر انکو ہٹانے کا کام بھی کیا جاتا ہے .. اور ایسے غلام بندے لائے جا رہے ہیں جو لوگوں کو ٹیکنالوجی کا لالچ دے کر یہودی ایجنڈے کو کامیاب بنا سکیں .. جیسے پچھلے دنوں انڈیا میں ڈیجیٹل انڈیا نامی مہم شروع کی گئی جس کے تحت لوگوں کو الیکٹرانک ٹرانزیکشن پر لگایا جا رہا ہے جو کہ سب سے خطرناک ایلومیناتی منصوبہ ہے.

آپکو یاد ہے نہ ملالہ یوسفزئی ؟اسکا گولی والا ڈرامہ , پولیومہم ؟ ، اسکی اسلام کے خلاف اور ویکسین لگانے والوں کو روکنے والے لوگوں کے خلاف بیان بازیاں ؟ اور پھر بل گیٹس سے ملالہ یوسفزئی کی ملاقات ؟ میرا نہیں خیال کہ آپ اتنا سب بتانے پر بھی وہ سب ڈرامہ اور سازش کو نہیں سمجھے ہوں گے ؟

جتنا ہو سکے ایلوپیتھی ادویات، فصلوں میں کھادوں کے استعمال ، پودوں پر سپرے ، ویکسینیشن اور ادائیگیوں کے لئے کارڈ سسٹم سے بچنے کی کوشش کریں. ورنہ غلامی آپکا انتظار کر رہی ہے .. ہمارے ہاں تو ویکسینیشن سے بچے مر بھی جائیں تو ڈاکٹرز اور لبارٹریوں والے یہ ثابت کرنے پرلگ جاتے ہیں کہ ویکسین اگر ایکسپائر بھی ہو جائے تو اس سے بچہ مر ہی نہیں سکتا. انہیں کتنا اعتبار ہے امریکہ کی بھیجی گئی ویکسین پر۔

یہی وجہ تھی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے پر زور دیا تھا تاکہ ان یہودی چالوں کو پہچان سکیں اور ان سے بچ سکیں .. ورنہ سودی بینکاری اور ایلوپیتھی ادویات کا علم پڑھ کر کون سا ان کی سازشوں سے بچا جا رہا ہے؟ بلکہ انکی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انکی مدد کی جا رہی ہے . اور افسوس کے ہمیں پتا تک نہیں چلتا کہ ہم ان کی مدد کر رہے ہیں. الله ان سازشوں سے بچائے ہم سب کی حفاظت فرمائے .. آمین !

Share This

About yasir

Check Also

پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کی خاطر کیا کچھ کرسکتا ہے۔

پاکستان میں عسکری اور سیاسی قیادت اس بات پر متفق ہیں کہ یمن میں جو …