Home / Pakistan Air Force / پاکستان فضائیہ کے پاس میراج طیاروں کی افادیت

پاکستان فضائیہ کے پاس میراج طیاروں کی افادیت

پاکستان نے میراج-3 طیارے 1966 کو فرانس سے حاصل کیے اور اس وقت یہ طیارے دوسری نسل (Second Generation) سے تعلق رکهتے تهے. اور ان طیاروں کو تیز رفتاری کی وجہ سے انٹرسیپٹنگ کے لیے بہترین سمجها جاتا تها.

لیکن 1990 میں انکی مدت معیاد ختم ہونے کے بعد پاکستان نے نئے مہنگے طیارے خریدنے کی بجائے انہی طیاروں کو جدید بنانے کا فیصلہ کیا. اور 90ء کی دهائی میں ہی ایک پروجیکٹ”روز” کے نام سے شروع کیا جس کے تحت پاکستان ائیرفورس کے انجینیرز نے صرف پانچ سال میں اپنے موجودہ 160 کے لگ بهگ میراج 3 اور میراج 5 طیاروں کو جدید ترین چوتهی جنریشن کے “گریفو” نام کے ریڈار سے لیس کر دیا گیا.
Grifo Pakistan radar mirage

اس ریڈار کے علاوہ میراج طیاروں کو دوران پرواز رفیولنگ کی خاصیت سے بهی لیس کر دیا گیا اور میراج طیاروں کے ہتهیار لیجانے کی صلاحیت ،حملہ آور میزائل سے بچانے والا فلیرز آپشن اور رینج میں بهی واضع آضافہ ہوا.

اپگریڈیشن کے بعد پہلی بار میراج طیارے موٹروے پر لینڈنگ اور پرواز بهرنے کے قابل ہو گئے.

گریفو ریڈار کی اپنی رینج 74.1 کلومیٹر تک ہوتی ہے.جسے پہلی بار اٹلی نے بنایا. میراج طیاروں سے نیوکلیئر راعد کروز میزائل اور فرانسیسی ساختہ ایگزوسٹ اینٹی شپ میزائل داغے جا سکتے ہیں.یہ طیارے ہماری نیوی کے دفاع کیلیئے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ نیوی کیلئے استعمال کیے جانے والے میراج طیاروں کو لانگ رینج اینٹی شپ ایگزوسٹ میزائل سے لیس کیا گیا ہے۔
PAF Fighter Jets Capabilities

گریفو ریڈار کی وجہ سے میراج طیارہ ایک میڈیم رینج کا حامل بی وی آر میزائل بهی داغ سکتا ہے.

اس ڈیلوپمنٹ کی بدولت پاکستان کے میراج طیارے 2025 تک سروس میں رہنے کے قابل ہیں. پاکستان کے یہ اڑتی ہوئی ابابیلیں زمینی دشمن کے لیے فضائی عذاب سے کسی طور کم نہیں. کیونکہ میراج طیاروں کو بہترین گراونڈ اٹیک ائیرکرافٹ مانا جاتا ہے.
Mirage Fighter jet Upgraded

Share This

About yasir

Check Also

وہ وقت جب پاکستانی فضائیہ کے میراج طیاروں کو امریکی نہیں پکڑ سکے

پاکستان ائیر فورس کے جنگجو ہوابازوں کو ہدف دیا گیا کہ انہیں بغیر کوئی سراغ …