Home / Pakistan Army / امریکی سی آئی اے چیف کی بھارت میں ہندوستانی را چیف سے خفیہ ملاقات

امریکی سی آئی اے چیف کی بھارت میں ہندوستانی را چیف سے خفیہ ملاقات

امریکی سی آئی اے چیف کی بھارت میں ہندوستانی را چیف سے خفیہ ملاقات۔

حالات بہت سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، امریکی خبطے بڈھے ٹرمپ نے صرف دھمکیاں ہی نہیں دیں بلکہ پاکستان کے خلاف عملی اقدام بھی اٹھانے کے پلان بنا چکا ہے۔ امریکی سی آئی اے چیف نے ہندوستانی را چیف سے خفیہ ملاقات کی ہے اور دونوں نے افغان ایجنسی این ڈی ایس سے بھی ملاقات کی ہے۔ امریکہ اور بھارت تو ہمارے شروع سے دشمن رہے ہیں لیکن افغانستان ان کے ہاتھوں استعمال ہورہا ہے جس کی افغانستان کو آنے والے وقت میں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

جب سے پاکستان ڈو مور کے جواب میں No More کہہ دیا ہے، ٹرمپ پاگل ہوگیا ہے، اس کو سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستان ایسا کیسے کر سکتا ہے، یعنی وہ امریکی غلامی سے کیسے نکل سکتا ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان کے No More پر سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے یعنی اب پاکستان میں ایک نئی دہشت گردی کی لہر داخل کی جائے گی۔

سی آئی اے چیف کی ہندوستانی را چیف سے ملاقات اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ دونوں افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گرد بھیجیں گے، خودکش حملہ آور بھیجیں گے اور پاکستان میں بم دھماکے کروائیں گے۔ مت بھولیے بھارت پہلے ہی اس سال اپریل تک جنگ کرنے کا اعلان کرچکا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ پچھلے ایک سال سے خفیہ تیاریوں میں مصروف ہے۔

سی آئی اے یعنی امریکہ کے ساتھ مل کر اب یہ حتمی پلان ترتیب دے رہے ہیں جس کے بعد پاکستان میں ایک ہی وقت میں کئی محاز کھولے جاسکتے ہیں۔ جیسے انڈیا اپنے بارڈر سے جنگ شروع کردے گا تو دوسری طرف امریکہ افغانستان کے بارڈر سے دہشت گرد بھیج کر پاکستان کے شہری علاقوں میں پانچویں نسل کی جنگی حکمت عملی کے تحت خون خرابہ کروائے گا۔

لیکن جنگ شروع کرنے سے پہلے پاکستان کے حالات خراب ہونا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے نواز شریف کو آگے کررکھا ہے۔ نواز شریف ہر دوسرے روز اداروں کو آپس میں لڑانے کے بیان دے رہا ہے۔ کبھی فوج کو دبے الفاظ میں للکار رہا ہے تو کبھی اعلیٰ عدلیہ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ یہ سب ایسے ہی نہیں کر رہا بلکہ یہ سب انڈیا کے پلان کے مطابق کر رہا ہے۔

پاکستان کے اندرونی حالات سے آپ سب واقف ہیں۔ سیاستدان دشمنوں کی چالیں نہیں سمجھ رہے۔ یا پھر مجرمانہ لا پرواہی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ملک عوام اور فوج کے بارے میں کوئی بھی نہیں سوچ رہا۔ نواز شریف ایک ذمہ دار سیاستدان ہوتے ہوئے بھی سر عام پاکستان کی افواج کو دھمکیاں دینے میں لگا ہوا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہا مگر نواز شریف جو کہ اس وقت پاکستان کا وزیر اعظم تھا کبھی بھارتی وزیر اعظم کو مخاطب کرکے جواب نہی دیا۔

پاکستان کو دنیا میں اکیلا کرنے کی دھمکی پر بھی جناب نواز شریف صاحب نے زبان نہیں کھولی۔ اسی بھارتی وزیر اعظم کی ماں کو ساڑھیاں بھیجی گئیں, پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی نواسی کی شادی میں بغیر ویزے کے مودی سمیت اجیت دوول جو کہ بھارت کا نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ہے اور پاکستان میں دہشتگردی کے پلان وہی بناتا ہے۔ اسے اور اسکی ٹیم پوری اس شادی میں شریک ہوئی۔ پھر انھیں پاکستان کے ان علاقوں تک لے جایا گیا جہاں ان بھارتیوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں جن کے پاس پاکستان کا باقاعدہ ویزہ موجود ہو۔
Nawaz Sharif

یاد رہے اجیت دوول بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ تھا اور پاکستان میں کئی سال جاسوسی کی غرض سے مقیم تھا۔ کیا یہ باتیں نواز شریف کو معلوم نہیں؟ کیوں اس انسان کو ایک بار پھر اس دھرتی پر پاوں رکھنے دیئے گئے جس نے پاکستان میں دہشتگردی کا جال بچھا رکھا تھا۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ اس جال کو تباہ کرنے میں ہماری فوج نے کتنے قیمتی فوجی کھو دیئے؟

جس انسان نے پاکستان کا کیس دنیا میں لڑنا تھا اور آرمی کا ساتھ دیتے ہوئے بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا تھا وہ بھارتیوں کی دعوتوں میں مصروف تھا۔

جب یہ حالات ہوں تو عوام میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ ملکی سربراہان سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ لوگ قانون ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں ۔ یہی ففتھ جنریشن جنگ ہوتی ہے۔ جسکا مقصد ملک میں انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ خدا کے لیئے پاکستانیوں اسے سمجھو۔ سب سے بڑھ کر اپنے ملک کے لیئے سوچو۔ اپنے اندر چھپے دشمن کے خاص لوگوں کو تلاش کرو۔ اس ملک سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔
خدا جانتا ہے یہ تحریر بلکل سچائی پر مبنی ہے اسکا مقصد کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانیوں کو نئی نسل کی جنگ کی مقابلے میں صرف ایک جھنڈے تلے اکٹھا کرنا ہے۔

یاد رہے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ میں ذاتی طور پر ان پاکستانیوں کا شکرگزار ہوں جو پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف کیے گئے پراپگینڈا کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کے مہذب انداز میں اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
Asif Ghafoor

ہم بطور عوام اپنے ملک کی بقا کے لئے اپنی فوج کا ساتھ ضرور دیں گے اور عہد کرتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو ہم سے جو امیدیں ہیں ہم ان پر پورا اتریں گے۔انشاءاللہ

Share This

About yasir

Check Also

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی …