Home / International / امریکہ افغانستان سے واپس کیوں نہیں جانا چاہتا؟

امریکہ افغانستان سے واپس کیوں نہیں جانا چاہتا؟

(تجزیہ رستم شاہ مہمند) حقانی نیٹ ورک افغانستان کے تین صوبوں خوست، پکتیا اور پکتیکا میں سرگرم ہے، حقانی کا تعلق زدران قبیلے سے ہے اور زدران قبیلہ ان تین صوبوں میں آباد ہے اس سے آگے نہیں ہے۔

کبھی کبھی وہ کابل میں بھی حملے کر لیتے ہیں لیکن ان کا جو لیڈر ہے سراج حقانی وہ مستقل طور پر افغانستان کے اندر موجود ہے

اور امریکہ کو اس کا اچھی طرح علم ہے، ان کا ایک بھائی خلیل الرحمن حقانی جس کا کبھی بھی جنگجو کردار نہیں رہا اور شاید میرے خیال میں اس نے کبھی بندوق بھی نہیں اٹھائی وہ کبھی پاکستان میں میران شاہ وغیرہ میں کبھی خوست میں کبھی پکتیا میں آتا جاتا رہتا ہوگا،

اس کاکام ثالثی ہے کہ کیسے ثالثی کی طرف بڑھا جائے، خلیل الرحمن حقانی کے متعلق بھی امریکہ کواچھی طرح علم ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا افغانستان میں کردار 10 فیصد سے بھی کم ہے،

ملک کے 34 میں سے صرف تین صوبوں میں حقانی نیٹ ورک آپریٹ کرتا ہے۔ سراج حقانی طالبان کے امیر اخوندزادہ کے نائبین میں سے ایک نائب ہے۔

اب پاکستان کو امریکیوں سے یہ پوچھناچاہئے کہ آپ کے پاس اتنے وسائل ہیں وہاں آپ کی اتنی فوج ہے اتنی افغان فوج بھی ہے اتنے ذرائع اور وسائل ہیں،

پندرہ سال میں کبھی ایک بار بھی ایسا ہوا ہے کہ پاکستان سے افغانستان جانیوالے لوگوں کو کبھی آپ نے روکا یا قتل کیا ہو ان کو کیمرے میں پیش کیا ٹی وی پر دکھایا تا کہ لوگوں کویہ بتایا جاسکے کہ پاکستان سے لوگ تخریب کاری کیلئے افغانستان آتے ہیں۔

میرے خیال میں امریکہ ایک بھی ایسا واقعہ نہیں بتا سکتا۔ دوسرا امریکہ سے یہ پوچھا جائے کہ آپ کے یہاں اتنے زبردست خفیہ ذرائع ہیں،

اسلام آباد میں دنیا کا سب سے بڑا سفارتخانہ ہے، تو آپ ہمیں بتائیں کہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے آخر کہاں ہیں۔

قطر میں جو طالبان کے نمائندے ہیں ان سے رابن رافیل نے چھ ماہ پہلے ملاقات کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

 robin raphel

وہ سمجھتا ہے اگر امریکہ یہاں سے چلا گیا تو خطہ چین کی بالادستی میں آجائیگا اور امریکہ کا کردار غیر متعلقہ ہو کر رہ جائیگا۔

دوسری بات یہ کہ امریکہ سی پیک کے بھی خلاف ہے کیونکہ سی پیک سے چین کیلئے راستے نکل سکتے ہیں جب تک افغانستان میں شورش رہے گی وہ کسی نہ کسی بہانے سی پیک کو روکے رکھے گا۔

تیسری بات یہ کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کڑی نگرانی رکھنا چاہتا ہے۔

امریکہ خطے سے نہ نکلنے کے لئے مختلف بہانے بنا کر پیش کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کو سمجھ لینا چاہئے جب تک افغانستان میں لڑائی ہے پاکستان کا استحکام خطرے میں رہے گا۔

گیس پائپ منصوبے، سی پیک وغیرہ متاثر رہیں گے۔ امریکہ پالیسیاں بناتے وقت لابیوں سے مرعوب نہیں ہوتا، اسکے اپنے مقاصد ہیں، افغان حکومت امریکہ کا ساتھ دے رہی ہے۔

پاکستان کو چاہئے روس، چین اور ترکی کو اپنے ساتھ ملائے کیونکہ چین اور روس کے ساتھ طالبان کے رابطے بڑھنے لگے ہیں، طالبان صرف چین پر اعتماد کریں گے وہ پاکستان پر بھی اعتماد نہیں کریں گے۔
Pakistan Friend Countries

Share This

About yasir

Check Also

نریندر مودی’ ٹرمپ اور مسلمان

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد کو بند اور …