Home / Pakistan / ایران فورتھ/ففتھ جنریشن جنگ کی زد میں – پاکستان سے مدد کی اپیل

ایران فورتھ/ففتھ جنریشن جنگ کی زد میں – پاکستان سے مدد کی اپیل

تاریخ میں پہلی مرتبہ ایرانی حکومت کے پاؤں ہل گئے ہیں اور انہوں نے پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں سے مدد مانگی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک نے ٹرمپ کو ایک رپورٹ پیش کی جس کے مطابق گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ایرانی حکومت رکاوٹ بن رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ایران میں حکومت گراکر نئے من پسند افراد کو حکومت میں لانا اہم ہے، اس رپورٹ کے بعد امریکی بدنام زمانہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران پر کام کرنا شروع کیا اور عوام کو حکومت کے خلاف نکال لیا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ تو بیروزگاری اور مہنگائی سے تنگ آ کر نکلے ہیں ! تو جناب اس کا جواب آسان اور آنکھوں کے سامنے ہے۔ ایجنسیاں کچھے پلان نہیں بناتی بلکہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتی ہیں اور موقع کی تلاش نہیں کرتی بلکہ خود موقع پیدا کرتی ہیں۔

ایرانی احتجاج بیشک مہنگائی اور بیروزگاری پر شروع کیا گیا لیکن آپ دیکھیں اس احتجاج کو بڑی مہارت سے اب حکومت کے خلاف موڑ دیا گیا ہے، اب کوئی بیروزگاری کا رونا نہیں رو رہا بلکہ اب عوام ایرانی سپریم لیڈر کے پوسٹر پھاڑ رہی ہے، آگ لگا رہی ہے اور خمینی کو گالیاں تک دے رہی ہے۔ سی آئی اے اور موساد نے بڑی پلاننگ سے لوگوں کو سڑکوں پر نکال کر پھر اس میں اپنے ایجنٹ شامل کرواکے پرامن احتجاج کو شدت میں بدل کر ایرانی حکومت کے پاؤں ہلادیے ہیں۔ اسے دوسرے معنی میں ہم پانچوں نسل کی جنگی حکمت عملی بھی کہتے ہیں جس میں دشمن ملک کی ایجنسیاں شہری فسادات پھیلاکر ملک کو کمزور کرتی ہیں۔

ایران کو سمجھنے میں بڑی دیر لگی کہ اس احتجاج کے پیچھے بیروزگاری یا مہنگائی نہیں بلکہ سی آئی اے اور موساد ہیں۔ اور اب ایرانیوں کی عقل ٹھکانے آئی تو انہوں نے فوراََ پاکستان سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے لیفٹننٹ جنرل (ر) نصیر خان جنجوعہ سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں سے مدد طلب کی ہے۔

ٹھیک ہے ہم ایران کی مدد کریں گے کیونکہ یہ ہمارا مسلم برادر ملک ہے، دیر سے ہی سہی لیکن ایران کی عقل ضرور ٹھکانے لگی ہے، ہم ایران کی مدد کریں گے لیکن ایران کو بھی بھارت کے خلاف ہاکستان کی مدد کرنی ہوگی۔ ہندوستانی را ہمارے بلوچستان میں دہشت گردی کروانے کے لیے کل بھوشن جیسے دہشت گرد ایرانی سرحد کے راستے ہی بھیجتی ہے، ایران کو ان ایجنٹوں کو پکڑ کر ہمارے حوالے کرنا ہوگا۔
Pakistan Iran

نوٹ: اس پوسٹ کو مسلکی نظر سے مت دیکھیں، مسلکی بحث میں لڑکر ہم دشمن کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں، دشمن کی نظر میں ایرانی ہو یا سعودی یا پاکستانی سب صرف مسلمان ہیں، وہ ہمیں شیعہ، سنی یا وہابی سمجھ کر نہیں بلکہ صرف مسلمان سمجھ کر مارتے ہیں اس لیے ہمیں بھی اسلام دشمنوں سے مقابلا کرنے کے لیے شیعہ، سنی یا وہابی کے بجائے مسلمان بن کر سوچنا ہو گا۔

Share This

About yasir

Check Also

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان …