Home / Pakistan / آئی ایس آئی کو سائیڈلائن کرنا ہے – دشمن کی گریٹ گیم

آئی ایس آئی کو سائیڈلائن کرنا ہے – دشمن کی گریٹ گیم

چین امریکہ حالیہ “کولڈ وار” جس میں بھارت امریکہ اور مغربی دنیا کا اہم مہرہ اور پاکستان چین کا حمایتی ہے۔ بین الاقوامی لیول پر اس لڑائی (نیو گریٹ گیم) کے امریکی اہداف تیل وگیس کی ذخائر (سنٹرل ایشیاء)، دنیا کی اسی فی صد منشیات (افغانستان جہاں یہ پیدا ہوتی ہیں اور جہاں پاک فوج اور آئی ایس آئی کا بڑا اثرورسوخ بھی ہے) جس کی کل مالیت دوسو چالیس بلین ڈالر سالانہ اس کے روٹس کے علاوہ چین اور روس کا گرم پانیوں تک راستہ اور امریکہ اور مغربی دنیا کا سنٹرل ایشیاء تک راستہ پاکستان (فاٹا اور بلوچستان) سے ہوکر گذرتا ہے۔ گویا اس سارے کھیل کی چابی پاکستان کے پاس ہے۔ اس لیئے جنوبی ایشیاء کے لیول پر پاکستان جب بھارت سے کشمیر کی وجہ سے دشمنی رکھتا ہے تو بھارت اور پاکستان کا ڈیڈ لاک تمام مغربی دنیا اور امریکہ کی گیم اور اکھنڈ بھارت کے خواب کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے۔ افغانستان میں ٹھہرنا اور ان روٹس پر قبضہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس مضبوط افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کی موجودگی میں امریکہ اور بھارت کے لیئے ناممکن ہے۔

پاک فوج اور آئی ایس آئی کشمیر کاز(اکھنڈ بھارت کے مخالف)، ایٹمی پروگرام پر کنٹرول ( اسرائیل اور بھارت کی نیندیں حرام کرنے والا)، حقیقی اسلامی پہچان (جو پاکستان کو دیگر اسلامی ممالک کا حمایتی) اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کیئے بغیر اور پاک فوج کا خارجی اور داخلی معاملات میں اثرو رسوخ ختم کیئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کوئی منصوبہ کامیاب ہوتے نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف امریکہ کے لیئے پاک بھارت اور بھارت چین دشمنی ایک نیا درد سر “ایک کو مناؤں تو دوسرا روٹھ جاتا ہے” والی صورتِ حال پیدا کردیتا ہے۔

امریکی اور اتحادیوں کے عزائم کا نچوڑ
یہ تمام باتیں جو ابھی میں تحریر کررہا ہوں اس کا لفظ بلفظ میں بین الاقوامی سیاسیات کی کتابوں سے شامل کررہا ہوں جو امریکی مفکرین اور تھنک ٹینکس کی رائے پر مبنی ہے۔ پاکستان میں سیاستدانوں کو مضبوط کرکے سیکولر جمہوریت کو پروان چڑھایا جائے اور پاکستانی کی معیشت کو تجارت (خصوصی طور پر بھارت کے ساتھ) اور قرضوں میں اتنا جھکڑا جائے کہ وہ اپنے آپ کو بھارت کا ماتحت کرے اور اکنامک پریشر کے آگے اپنے ایٹمی ہتھیاروں پر سودے بازی کے لیئے تیار ہوجائے، کشمیر پر موجودہ بارڈر کو مستقل سرحد مان لے، اور اپنے مستقبل کو چین کے ساتھ وابستہ کرنے کی بجائے امریکہ اور بھارت سے منسلک کرے۔ اور دوسرا حل یہ ہے کہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کی مدد کی جائے اور پاکستان کو توڑ کر کمزور کیا جائے۔ اور ایک تیسرا حل بھی ہے کہ مصنوعی طور پر اتنا انتشار پیدا کیا جائے کہ ملک میں سول وار کی سی صورت حال بن جائے اور ایسے میں یو این او میں ریزولیشن منظور کرائی جائے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں۔

گریٹ گیم کا پاکستانی معاملات سے تعلق
ہمیں یاد کرنا ہوگا کہ اوپر ذکر کیئے گئے تینوں منصوبوں پر ساتھ ساتھ کام کیا جارہا ھے۔ پاکستان نے ایک سو دس بلین ڈالر دہشت گردی کی جنگ میں جھونکے اور امریکی امداد بیس بلین ڈالر سے زیادہ نہیں اور اب وہ بھی بند ہوگئی ہے۔ کیری لوگر بل کے ذریعے جو پاکستان پر پابندیاں لگائی گئیں ان میں سے سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ پاک فوج سیاسی معاملات میں دخل اندازی بند کرے۔ بلوچستان اور فاٹا میں جو ہوا اس سے اوپر ذکر کیئے گئے روٹس، پاکستان کو توڑنے کی سازشیں سب واضح ہوکر ہمارے سامنے آجاتی ہیں۔ فوج کی امداد بند کرکے زرداری اور نواز حکومت کو دھڑا دھڑ قرضے، زرداری کی بھارت کو “موسٹ فیورٹ نیشن” کا خطاب دینے کی کوشش اور پاک فوج کی مخالفت، زرداری دور میں ایٹمی ہتھیاروں اور آرمی اور آئی ایس آئی پر سول حکومت کے کنٹرول کی کوشش ۔ نواز حکومت کی بھارتی بزنس مینوں سے اربوں ڈالرز کی تجارت اور پاک فوج کی تشویش یہ سب اس گریٹ گیم کے شاخسانے ہیں۔ جن میں پاکستان میں امریکہ اور اتحادی ایک اسٹریٹیجی کے تحت پاکستان کو ہینڈل کرکے اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔

امریکی اسٹریٹیجی پاکستان میں کیسے کام کررہی ہے؟
دوقومی نظریہ، اسلامی پہچان کو ختم کرنے اور سیکولر نظریات کو پروموٹ کرنے کے لیئے پاکستانی میڈیا، سوشل میڈیا، این جی اوز، بین الاقوامی مالیاتی ادارے گاہے بگاہے جعلی سروے رپورٹیں جاری کررہے ہیں، پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ پاک بھارت دوستی کے میڈیا پروگرام کلچرل شوز، طلباء کو دھڑا دھڑ مغربی ممالک کے ویزے، تعلیمی نصاب میں ردوبدل، وقفے وقفے سے انتشار پھیلانے کے لیئے مختلف قسم کی لیکس سب پاکستان کے اندر ایک پروگرام کے مطابق تغیر، فرسٹریشن، انتشار اور غیر یقینی صورت حال پیدا کی جارہی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بڑے واضح ہیں کہ پاکستان کو مضبوط نہیں ہونے دینا، اس کی افواج اور آئی ایس آئی کو سائیڈ لائن کرنا ہے، اس سے نیوکلئیر ہتھیار ختم کرانے ہیں۔ جس طرح بھی ممکن ہو، خواہ بھارت سے جنگ ہو، سول وار ہو یا پھر پاکستان رفتہ رفتہ خود ہی راہ راست پر آجائے۔

ہماری اجتماعی دانش کا امتحان
اگر امریکی چار اھداف پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ہم سب ہی غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ کوئی جمہوریت بچانے کی خاطر اپنی افواج اور اداروں کے پیچھے لگا ہوا ہے تو کچھ لوگ ترقی کے نام پر اسلامی اقدار کی دھجیاں اُڑانے، کوئی تجارت اور امن کے نام پر پاکستان کو بھارتی غلامی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ کیا ہم قومی نظریہ، اسلامی پہچان، اپنے ایٹمی اثاثے اور کشمیر کاز بچا پائیں گے یہ وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اس ساری صورت حال میں ایک واحد حل ہے کہ تمام اداروں کے سربراہان مل کر بیٹھیں بیرونی گیم کو سمجھیں اور قانون کی حکمرانی کے نام پر ایک دوسرے پر قبضے اور کنٹرول کا خیال دل سے نکال کر پاکستان کے بارے میں سوچیں اور اجتماعی کوشش سے دشمن کی تمام چالوں کو ایک بار پھر ناکام بنادیں۔ ہمیں اپنی ذات اور محکمانہ مفادات پر اس نازک دور میں قومی مفادات کو ترجیح دینی ہوگی اور اپنی ستر سالہ تاریخ کی غلطیوں سے بچنا ہوگا۔ ہمیں فکر کرنی ہوگی اور ادراوں کے تصادم اور انتشارسے بچنا ہوگا ورنہ دشمن تو تیار بیٹھا ہی ہے۔

Share This

About yasir

Check Also

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان …