Home / Pakistan Army / فوج نے عوام کو جنگ کے لیئے تیار رہنے کا کیوں کہا

فوج نے عوام کو جنگ کے لیئے تیار رہنے کا کیوں کہا

آپ سب نے سنا کہ فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پانچویں نسل کی جنگی حکمت عملی  کا ذکر کیا اور کہا کہ ہمیں اس بارے میں تیاری کرنی ہے۔ اس کے بعد بوس نے فرمایا کہ پاکستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر موجود مجاہدوں کو بھی اس بارے میں ضروری اقدامات کرلینے چاہییں۔ تو آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کس طرح تیاری کرنی ہے، تو اسی لیے میں نے سوچا آج آپ کو تفصیل سے سمجھادوں کہ سوشل میڈیا پر کس طرح لڑنا ہے اور یہ پانچویں نسل کی جنگی حکمت عملی کیا بلا ہے !

پیارے پاکستانیوں میں کافی عرصے سے آپ کو بتاتا رہا ہوں کہ دشمن آجکل سرحدوں پر کم جبکہ میڈیا کے زریعے ٖڈس انفارمیشن یعنی پروپیگنڈہ اور غلط معلومات پھیلاکر زیادہ لڑتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ میڈیا مالکان کو پیسے دیکر کروایا جاتا ہے، میڈیا پر فحاشی پھیلاکر مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کی دولت نکالی جاتی ہے، ثقافتی یلغار کرکے یعنی ہندو ڈرامے دکھا دکھا کر مسلمانوں کو ہندؤں کا ذہنی غلام بنایا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے دین اسلام کی منفی باتیں دکھا دکھا کر مسلمانوں کو مولیوں اور اسلام سے ہر ممکن بدظن کی جاتا ہے۔

ان سب کے علاوہ اہم ترین چیز جو آجکل سوشل میڈیا پر دشمن لڑ رہے ہیں وہ ہے افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا اور جمہوریت جیسے یہودی نظام کو بہترین نظام بناکر پیش کرنا۔ اسے ہم معلوماتی جنگ بھی کہتے ہیں، 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں ہر طرح کے سوشل میڈیا پر ہونے والے حملوں کو جواب دینے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ آپ سب بھی پاک فوج کے سوشل میڈیائی سپاہی ہیں، آپ کو بھی اس جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
Pakistani Army Action

جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ انڈیا سنجیدگی کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور وہ اگلے سال اپریل یا جون تک جنگ چھیڑ بھی سکتا ہے کیونکہ مودی وزیراعظم بننے سے پہلے اعلان کرچکا تھا کہ پاکستان سے جنگ کریں گے اسی لیے اگلے الیکشن سے پہلے وہ ہر صورت محدود یعنی دو تین مہینے کی جنگ کرنا چاہتا ہے تاکہ ہندوستانی عوام کو بےوقوف بناکر پھر الیکشن جیت سکے۔

لیکن آجکل جنگ لڑنے کا انداز یکسر بدل چکا ہے، آجکل جنگیں سرحدوں پر کم جبکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیادہ سنجیدگی سے لڑی جاتی ہیں اور ہمیں اسی سوشل میڈیا کے جنگی میدان کو سنبھالنا ہے۔

ہانچویں نسل کی جنگی حکمت عملی کیا ہے ؟

یہ ایک طرح کی اندرونی خانہ جنگی پھیلا کر ملک میں فسادات برپا کرنی کے حکمت عملی کا نام ہے، جیسے عراق میں پہلے شیعہ سنی فسادات کروائے گئے پھر لسانی فسادات کروائے گئی اور یوں عراق میں اندرونی سطح پر ہر گروپ دوسرے گروپ کو قتل کرنے لگا اور امریکہ کے لیے آسانی ہوگئی۔ یہ ایک طرح کا ایسا کھیل ہے جس میں دشمن پردے کے پیچھے رہ کر اپنے پراکسی کارڈ کھیلتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستانی را، امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئے سکس نے مشترکہ طور پر پاکستان میں الطاف حسین کو اپنے پراکسی کارڈ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، الطاف حسین نے ان سے خفیہ مدد اور فنڈز لیکر کراچی پر مکمل قبضہ کرلیا، جو بھی کراچی میں الطاف کے خلاف کھڑا ہوتا الطاف اسے مروا دیتا تھا، اگر الطاف کے خلاف کوئی وزیراعظم آپریشن کرتا تا امریکہ اور انڈیا دباؤ ڈلواکے اس آپریشن کر رکوادیتے تھے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور الطاف حسین ایک مافیہ بن گیا، اس کے ایک حکم سے کراچی دس منٹ میں بند ہوجاتا تھا۔ زرا سوچئے الطاف حسین جیسے دس بندے پاکستان میں ایسا ہی کھیل کھیلتے اور اسی موقع پر انڈیا سندھ میں اپنی فوج بھیج کر قبضہ کرلیتا تو کیا الطاف حسین انڈیا کا ساتھ نہ دیتا؟ کیا کراچی ہم سے الگ ہوکر الگ صوبا یا الگ ملک نا بنا دیا جاتا….؟

مت بھولیں کہ بنگلادیش میں بھی کھیل کھیلا گیا تھا، جس طرح کراچی میں الطاف تھا اسی طرح بنگال میں شیخ مجیب الرحمٰن تھا، جس طرح الطاف کی ایم کیو ایم میں ٹارگٹ کلرز تھے اسی طرح شیخ مجیب کے پاس بھی ایک دہشت گرد تنظیم تھی جس کو دنیا “مکتنی باہنی” کے نام سے جانتی ہے۔ جی ہاں یہی مکتی باہنی تھی جس نے سقوط ڈھاکہ میں اہم کردار ادا کیا، جب پاک فوج ڈھاکا گئئ تو مکتی باہنی کے دہشت گرد ہندوستانی فوج کے ساتھ مل کر پاک فوج پر حملے کرتے تھے، پاک فوج کا یونیفارم پہن کر بنگالیوں کو قتل کرتے تھے، بنگالی عورتوں کی عصمت دری کرتے تھے پھر بڑی مہارت سے سارا الزام پاک فوج پر ڈال کر لاعلم بنگالیوں کو کہتے تھے دیکھو پاک فوج کتنی ظالم ہے تم پر ظلم کر رہی ہے یہ کر رہی ہے وہ کر رہی ہے، اس طرح بنگالیوں کی برین واشنگ کرکے انہیں پاک فوج کے خلاف اکسایا گیا۔ ان سارے کھیل کا بعد میں ہندوستانی را، امریکی سی آئی اے اور روسی ایجنسی کے جی بی کے سابق افسران نے کھل کر اعتراف بھی کیا۔ سب نے کہا کہ ہم نے بڑی پلانگ سے لوگوں کی برین واشنگ کی، پاک فوج کو بدنام کیا۔

یہی کھیل آج پاکستان میں ایک مرتبہ پھر بلوچستان اور سندھ میں بھی کھیلا جارہا ہے، بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ آرمی وغیرہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے پیچھے ہندوستانی را ہے اور کل بھوشن یادیو اس کی زندہ مثال ہے جس نے باقائدہ اعتراف کیا کہ وہ بلوچ طلباء تنظیموں کو فنڈ دیتا تھا اور ان کی برین واشنگ کرکے پاک فوج کے خلاف حملے کرنے پر اکساتا تھا۔ یہی کھیل سندھ میں جیئے سندھ تنظیم کے زریعے بھی کھیلا جارہا تھا۔
kulbhushan indian spy

پاک آرمی اور آئی ایس آئی نے ان سب کو نہ صرف ختم کیا بلکہ ان کے ہندوستانی را سے رابطے اور فنڈ لینے کے ثبوت بھی دنیا کو دکھائے۔ پاک فوج نے الطاف حسین کی بوری بھی بند کردی۔ اب کراچی میں اس کے دہشت گرد قسمیں کھا کھاکر لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے الطاف سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب پاک فوج اور آئی ایس آئی کے گمنام سپاہیوں کی محنت سے ممکن ہوا۔ یہ سب سوشل میڈیا پر موجود گمنام سپاہیوں کے دشمنوں کے پھیلائے پروپیگنڈے کو جواب دینے سے ممکن ہوا۔ اگر سوشل میڈیا پر محب وطن نہ ہوتے تو آج کیا سے کیا ہوچکا ہوتا۔

ایم کیو ایم مہاجروں کے ساتھ ظلم کا کارڈ 90 فیصد سوشل میڈیا پر کھیلتا ہے، بلوچوں کے نام پر بنی دہشت گرد تنظیمیں اپنا 90 فیصد کام سوشل میڈیا کے زریعے کرتی ہیں، سندھی جیئے سندھ والے بھی اپنا زیادہ تر کام سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔ ان سب کے پیچھے ہندوستان، امریکہ اور اسرائیل ہیں جن کا مقصد پاکستان کو بھی عراق، شام اور افغانستان کی طرح تباہ کرنا ہے۔ آپ ایم کیو ایم کے بڑے پیجز گروپس میں جاکر دیکھیں وہاں آپ اگر ان کو آئینہ دکھائیں گے تو وہ آپ کی پوسٹ ڈلیٹ کردیں گے تاکہ محب وطن مہاجروں تک صحیح معلومات نہ پہنچ سکے اور لوگ مسلسل پروپیگنڈے کا شکار رہیں۔ یہی معاملہ بلوچوں اور سندھیوں کے ساتھ بھی ہے۔ سندھی اب جاگ رہے ہیں لیکن بلوچ پھر بھی بہت پسماندہ ہیں، وہ انٹرینٹ کم ہی استعمال کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں ان سب کو پروپیگنڈہ کرکے یعنی معلوماتی جنگ کے طریقے سے اور کل بھوشن جیسے ایجنٹوں کے زریعے افواج پاکستان کے خلاف اکسایا جاتا ہے۔ بلوچوں کو بھی بنگالیوں کی طرح ہی کہا جاتا ہے کہ پاک فوج تم پر ظلم کرتی ہے، پنجابیوں پر نہیں کرتی، ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے کہ یہ پاک فوج نہیں بلکہ پنجابی فوج ہے اور یہی نظریہ سندھی قوم پرستوں کے ذہنوں میں بھی انڈیل دیا جاتا ہے کہ یہ صرف پنجابی فوج ہے جو سندھیوں اور بلوچوں پر ظلم کرتی ہے۔ حالانکہ حقائق کچھ اور ہوتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کو حقائق سے آگاہ کون کرے ؟؟

یہاں پر سوشل میڈیائی مجادین کی ضرورت پڑتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے تمام پاکستانیوں کو حکم دیا ہے کہ کمر کس لو، دشمن مل کر ہمیں چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں، تمام پاکستانی بھی تیار ہوجائیں اور پانچویں نسل کی جنگ کا مقابلا کرنے کے لیے پہلے سے ذہنی طور پر تیار رہیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ جب بھارت معلوماتی جنگ چھیڑ دے تو آپ بھی فوج کے خلاف جھوٹی کہانیاں سن سن کر کنفیوژ ہوجائیں کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ۔ دشمن کا کام ہی یہی ہے کہ آپ کو کسی طرح پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بدظن کرسکے۔ یاد رہے نواز شریف اور مریم نواز نے جو سوشل میڈیا ٹیمیں بنانے کا اعلان کیا ہے یہ بھی دشمنوں کے پلان کے عین مطابق ہورہا ہے۔ جب دشمن مل کر پاک فوج کو گالیاں دیں گے اور آئی ایس آئی کو ہر مسئلے کی جڑ کہیں گے تو پھر یہ نون لیگی سوشل میڈیا ٹیمیں بھی انہی کی زبان بول کر پاکستانی عوام کو ایک دم سے پریشان کردیں گے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو آپ کیا کریں گے؟ وہ اتنی زبردست جھوٹی کہانیاں گھڑیں گے کہ آپ انکار نہیں کرسکیں گے اور یوں آپ اپنی ہی فوج اور آئی ایس آئی سے بدظن ہوکر کنفیوژ ہوجائیں گے۔ یعنی آپ اس معلوماتی جنگ میں فوج کا ساتھ دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرلیں گے یا پھر آپ بھی دشمن کی باتوں میں آکر اپنی ہی فوج اور آئی ایس آئی کو برا بھلا کہنا شروع ہوجائیں گے۔

دوستوں اس سے پہلے کہ یہ وقت آئے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ہمیں وقت سے پہلے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ کیا آپ ایسے وقت میں فوج کے ساتھ ہوں گے ؟ کیا آپ ذہنی طور پر تیار ہیں ……؟؟

Share This

About yasir

Check Also

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی …