Home / Pakistan Air Force / پاکستانی لڑاکا طیاروں پر نصب امریکی ساختہ بی. وی. آر میزائل

پاکستانی لڑاکا طیاروں پر نصب امریکی ساختہ بی. وی. آر میزائل

امریکی ساختہ اس بی وی آر Beyond” Visual Range میزائل کو امرام کہا جاتا ہے ۔ یہ میزائل امریکی اور اس کے اتحادیوں کی ائیر فورسز کا سب سے اہم فضآسے فضآ میں مار کرنے والا میزائل ہے جو ہر امریکی ساختہ جنگی جہاز پر نصب ہوتا ہے۔

اس کا اپنا ریڈرا ہوتا ہے جس سے یہ ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے ۔اس سے پرانا اے آئی ایم-7 سپیرو اور اے آئی ایم 9 سائیڈ وائنڈر میزائلز اس وقت فائر کیے جاتے ہیں جب دشمن کا طیارہ نظر آ رہا ہو یعنی کہ Visual Range میں ہو اور اسے لاک کیا گیا ہو, پر امرام ٹارگٹ کو دیکھے بغیر فائر کیا جا سکتا ہے یعنی Beyond Visual Range میزائل ہے ۔جو طیارے کے ریڈار کی مدد سے نشانہ لگاتا ہے اور میزائل کوڈیٹا ٹرانسفر کر دیتا ہے پہلے امرام طیارے کے ریڈار کی گائڈننس پر چلتا ہے لیکن جب ٹارگٹ امرام کے اپنے ریڈار کی رینج میں آتا ہے تو امرام آزاد ہو جاتا ہے ۔

اس کے مختلف ماڈلز بنائے گئے ہیں۔
امرام اے اور بی کی رینج 75 کلو میٹر تک ہے
امرام سی سریز کی 105 کلو میٹر امرام ڈی اور آخری سی-8 کی رینج 180 کلو میٹر ہے۔12 فٹ لمبا امرام میزائل 4900 کلو میٹر کی سپیڈ سے طیارے کو سیکنڈوں میں جا پکڑتا ہے ۔اس کے اندر جامنگ اور اینٹی جامنگ کی صلاحیت بھی ہے اور امرام کا ایک ماڈل ایسا بھی بنایا گیا ہے جو زمین سے فضا میں فائر کیا جاتا ہے جسے “SL-AMRAAM” کہا جاتا ہے ۔
Pakistan air defence

امرام امریکی کمپنی ریتھیون کا بنا ہوا ہے اور اسکا وزن 152 کلو ہے۔ یہ دشمن کے طیاروں کو آزادانہ ٹارگٹ کر کے اپنی فضآئی حدود سے دور کھنے میں مدد گار ہوتا ہے ۔

اسے فائر اینڈ فارگٹ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے کہ دشمن پر فائر کر کے اسے بھول جاؤ ، پر اب روس کے بنے نئے طیاروں میں اس کو کاونٹر کرنے کی صلاحیت والے جامرز لگائے گئے ہیں جس سے یہ مکمل فائر اینڈ فارگٹ نہیں ہے ۔

پاکستان ائیر فورس کی بی وی آر کیپیبلٹی اتنی اچھی نا تھی R-Darter میزائل جنہیں پاکستان میں اپگریٹ کر کے بلیک ایرو کا نام دیا گیا تھا میراج جہازوں پر نصب ہوتے تھے جن کی رینج 60 کلو میٹر ہے اور یہ جنوبی افریقہ کی ٹیکنالوجی تھی اور پاکستان کے فرنٹ لائن ایف سولہ اس صلاحیت سے محرم تھے ۔

اصل میں پاکستان کے ایف سولہ بھی اس طرح کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ۔ایف سولہ بلوک 15 کے اے پی جی -66 ریڈار اور ایویونکس ہارڈ پوائنٹس امرام کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ۔

امرام ان جہازوں کے کئی سال بعد بنا تھا۔اس لیئے پاکستان نے جب نئے ایف سولہ بلاک- 52 پلس جہازوں کا آرڈر دیا تو ساتھ میں ایک بہت بڑا پیکیج پاکستان کے پرانے ایف سولہ طیاروں کو اپگریڈ “MLU” کا بھی تھا جس کے بعد یہ طیارے بلاک-15 سے بلوک-52 پلس ہو جاتے ۔اور ان پر ایویونکس کے ساتھ ساتھ نیا ریڈار اے این /اے پی جی 68 وی9 نصب ہیں جو کہ پرانے 150 کلو میٹر رینج والے اے پی جی 66 کے بدلے 300 کلو میٹر کی رینج والے جدید ترین ریڈار ہیں۔

اسی طرح اس سودے میں 650 ملین ڈالر کے 506 عدد امرام سی-5 میزائل پاکستان نے خریدے ۔ ان میزائلوں پر بھی انڈیا نے خوب واویلا کیا پر کچھ نہیں ہوا۔ پاکستان نے میزائلوں کو 2010 اور 2011 میں حاصل کیا اور اب یہ ہمارے تمام ایف سولہ طیاروں پر نصب ہے۔
Pakistan Air Force lethal weapons

اس صلاحیت کے ساتھ اب پاکستانی ایف سولہ ایک بہت ہی لیتھل ہتھیار بن چکا ہے ۔ جسے بلا جھجھک ائیر ٹو ائیر کومبیٹ میں کسی بھی طیارے کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

About yasir

Check Also

وہ وقت جب پاکستانی فضائیہ کے میراج طیاروں کو امریکی نہیں پکڑ سکے

پاکستان ائیر فورس کے جنگجو ہوابازوں کو ہدف دیا گیا کہ انہیں بغیر کوئی سراغ …