Home / International / کلبھوشن سے ملنے کی غرض سے آنے والی اسکی والدہ اور اہلیہ کے کپڑے کیوں بدلوائے گئے

کلبھوشن سے ملنے کی غرض سے آنے والی اسکی والدہ اور اہلیہ کے کپڑے کیوں بدلوائے گئے

بھارتی بحریہ کے کمانڈر اور را کے اعلیٰ افسر کل بھوشن یادیو کی با لآخر پیر کی سہ پہر دفتر خارجہ میں اپنی والدہ اور بیوی سے ملاقات ہو گئی۔ دشمن ملک کے تخریب کار سے اس کی بیوی اور والدہ کی ملاقات کا احوال دیکھنا، جدید تاریخ کا یقیناً ایک نادر موقع تھا۔ دو عظیم جنگوں اور سرد جنگ کے دوران ایک دسرے کے جاسوسوں کو پکڑنا، تبادلے میں رہائی، یا جاسوسوں کو سزائے موت دینا عام رہا ہے لیکن اس پورے عرصہ کے دوران ایسا نہیں ہوا، اعلیٰ سطح کا ا افسر دوسرے ملک میں جاسوسی اور تخریب کاری کرواتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا جائے اور میڈیا کی آنکھوں کے سامنے اس کی ملاقات کروائی جائے۔

اس طویل دورانیہ کی براہ راست میڈیا کوریج دراصل دنیا بھر میں بھارت کو برہنہ کرنے کا عمدہ موقع تھا جس سے بھر پور استفادہ کیا گیا اور کرسمس چھٹی ہونے کے باوجود، پیر کے روز عالمی ذرائع ابلاغ پر پل پل کی خبر نشر ہوتی رہی اس ملاقات سے پہلے کل بھوشن نے اظہار تشکر کیلئے جو مختصر ویڈیو ریکارڈ کروائی اس نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ اس ویڈیو میں کل بھوشن نے ایک بار پھر بھارتی بحریہ میں کمانڈر کے عہدے پر فائز افسر اور را کے ایجنٹ ہونے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوا تھا کہ گرفتار ہو گیا۔

پیر کی صبح میڈیا کو دس بجے دفتر خارجہ پہنچنے کی ہدائت کی گئی۔ اس موقع کیلئے خصوصی داخلہ پاس جاری کئے گئے۔ میریٹ ہوٹل کے بغلی راستے کے سوا، شاہراہ دستور تک آمد و رفت کے دیگر تمام راستے بند تھے۔ سیکورٹی اس قدر سخت تھی کہ ریڈیو پاکستان والے چوک پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران کو دفتر خارجہ رسائی میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ رینجر اور پولیس بھاری نفری ، پاورے علاقہ میں موجود تھی۔ فضاءمیں دو سفید ہیلی کاپٹر بھی گشت کررہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں صحافیوں کو دفتر خارجہ کے احاطہ میں داخلہ کی اجازت مل گئی۔

شاہراہ دستور پر بھی کیمروں کی لمبی قطار کل بھوشن یادیو کی والدہ اور بیوی کی آمد و روانگی کی کوریج کیلئے موجود تھی۔ درمیانی فاصلہ کے پیش نظر کوئی ایسا امکان نہیں تھا کہ میڈیا کی دونوں خواتین سے بات ہو سکتی۔ میڈیا نے بآواز بلند سوال کئے۔ خواتین نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دفتر خارجہ پہنچنے پر دونوں خواتین کا میڈیا کو پرنام کرنا ،پر اعتماد نظر آنے کی کوشش اور ملبوسات کی تراش خراش، بھارت اور یہاں ہائی کمیشن میں ہونے والی بریفنگ کا ہی نتیجہ تھیں۔ ایک بج کر پچیس منٹ پر یہ قافلہ دفتر خارجہ پہنچا۔ کل بھوشن کی والدہ قدرے پر اعتماد جب کہ بیوی پڑمردہ دکھائی دے رہی تھی۔ پہلے مرحلہ میں انہیں دفتر خارجہ کے آغا شاہی لاﺅنج میں آرام دہ صوفوں کی نشستیں پیش کی گئی۔ دفتر خارجہ کی متعلقہ افسر فریحہ بگتی ان کے ساتھ موجود تھی۔

اس دوران خواتین نے سیکورٹی لوازمات پورے کرنے کے لئے لباس تبدیل کئے۔ سوا دو بجے بلٹ پروف کنٹینر میں ملاقات شروع ہوئی۔ کل بھوشن کے درمیان شیشے کی دیوار تھی۔ گفتگو انٹر کام کے ذریعہ ہوئی۔ کل بھوشن نے شیو کی ہوئی تھی۔ عمدہ تراش خراش کے سوٹ اور نیلے رنگ کے کوٹ میں ملبوس تھا۔

ملاقات کے بعد دونوں خواتین جے پی سنگھ کی راہنمائی میں آغاشاہی بلاک سے برآمد ہوئیں۔ ساس آگے اور بہو پیچھے تھی۔ جے پی سنگھ نے دیکھا کہ خواتین کے بیٹھنے کی گاڑی پارکنگ میں پیچھے لگی ہے تو انہوں نے ناراضی دکھائی اس تاخیر کے سبب میڈیا اور خواتین کے آمنا سامنا کا خدشہ محسوس کرتے ہی دونوں خواتین کو واپس اغا شاہی بلاک جانے کا اشارہ کیا۔ کل بھوشن کی بیوی واپس جانے کیلئے واپس مڑی تو اسی اثنا میں گاڑی ان خواتین کو لینے کیلئے آگے بڑھی۔

اس موقع پر پاکستانی صحافیوں نے بآواز بلند سوال کئے کہ ” ایک قاتل کی ماں کے کیا جذبات ہیں؟“ ایک سوال تھا کہ ” آپ کے بیٹے نے لاتعداد بے گناہ پاکستانی مروائے، کیا اس پر کل بھوشن نادم ہے، بطور ماں آپ کیا سمجھتی ہیں؟“ لیکن دونوں خواتین نے ان سوالوں پر کوئی کان نہ دھرے اور جے پی سنگھ کی راہنمائی میں گاڑی میں سوار ہو کر بھارتی ہائی کمیشن کیلئے روانہ ہو گئیں جہاں کچھ وقت قیام کے بعد وہ ائر پورٹ چلی گئیں۔ صورت حال سے واقف ایک سفارتکارنے نوائے وقت کو بتایا کہ پاکستان نے بھارتی جاسوس کی والدہ اور اس کی اہلیہ کی یادیو سے ملاقات کے سلسلے میں درخواست کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر منظور کرتے ہوئے یادیو کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کی اجازت دی لیکن بھارتی سفارت کار یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو میڈیا سے ملاقات کے راستے میں حائل ہو گئے وہ نہیں چاہتے تھے کہ یادیو کی والدہ اور اہلیہ کی طرف سے پاکستان کے لئے اظہار تشکر کے کلمات میڈیا کے ذریعہ دنیا تک پہنچیں۔

مقامی اخبار ’’روزنامہ نوائے وقت ‘‘کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو شبہ تھا کہ دونوں خواتین نے اپنے لباس کے نیچے گفتگو ریکارڈ کرنے والی ڈیوائس یا فون کیمرہ نہ چھپا رکھا ہو۔ ملاقات کے بعد دونوں خواتین کا لباس ”انہیں دے دیا گیا۔ ترجمان نے یہ بتایا کہ کلبھوشن یادیو کے اہلخانہ اس کے لئے شال کا تحفہ لائے، تحفہ ہم نے رکھ لیا ہے، چیکنگ کے بعد کلبھوشن تک پہنچا دیں گے۔ کل بھوشن یادیو کی صحت مزید بہتر ہو گئی اور اس کا وزن بھی بڑھ گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران کل بھوشن یادیو کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی جاری کردی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کلبھوشن یادیو مکمل طور پر صحتمند ہے۔ یہ رپورٹ سعودی جرمن ہسپتال دبئی کے ڈاکٹر یوے جوہانس نیلسن نے تیار کی ہے۔ یہ طبی معائنہ 22 دسمبر 2017 کو کروایا گیا اور رپورٹ ہسپتال کے لیٹر ہیڈ پر مہر کے ساتھ جاری کی گئی، اس رپورٹ کے تحت کلبھوشن مکمل طور پر صحتمند ہے۔ 15اپریل1969کو پیدا ہونے والا اڑتالیس سالہ کلبھوشن کے نہ تو کوئی فریکچر ہے، نہ کوئی بڑا زخم ہے۔

اس کا قد 177سنٹی میٹر اورو زن 67کلوگرام ہے جو اس کے قد کے حساب سے ا?ئیڈیل ہے۔ اس کی ای سی جی، پیٹ کا الٹراساونڈ، چھاتی کا ایکسرے، لیبارٹری ٹسٹ، ہیپاٹائٹس ٹسٹ اور پیشاب کے تجزیات سب معمول کے مطابق اور درست آئے ہیں۔ ایک مستند ذریعہ کے مطابق کل بھوشن کی صحت اتنی اچھی ہے کہ ، اسے پرانے ناپ کے کپڑے قدرے تنگ ہو گئے ہیں اور وزن بھی بڑھ گیا ہے۔

Share This

About yasir

Check Also

نریندر مودی’ ٹرمپ اور مسلمان

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد کو بند اور …