Home / Pakistan Army / پاکستان کے ایٹمی اثاثے منجمد کرنے کا خوفناک منصوبہ

پاکستان کے ایٹمی اثاثے منجمد کرنے کا خوفناک منصوبہ

سولہ نومبر 2009 کو مشہور امریکی صحافی سیمور ہرش نے پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں پر ایک نہایت مفضل آرٹیکل لکھا جو کہ “دی نیوریارکر” میں چھپا۔ اس آرٹیکل کا مرکزی خیال یہ تھا کہ اگر ایک ایسی صورتحال پیدا ہو جائے کہ پاکستان کو ایک خود ساختہ غیر یقینی صورتحال کی طرف بڑھا دیا جائے اور اس کی ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں، طالبان یا دیگر نان سٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھ لگنے کا خطرہ ہو تو اس صورت میں ان ایٹمی ہتھیاروں کو کس طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے یا اگر محفوظ مقام پر نہ لے جایا جا سکے تو کیسے تلف کیا جا سکتا ہے۔

سیمور ہرش نے لکھا کہ “ایک سابق سینئیر انٹیلی جنس آفیشل نے بتایا کہ امریکہ کے ادارے کاؤنٹر ٹیررازم میں ایک یونٹ ایسا ہے جس کو اس بات کی مکمل ٹرینگ دی گئی ہے کہ اگر پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں تک پہنچ جائیں تو کیسے ان کو ہتھیانا یا تلف کرنا ہے اور یہ پروفیشنل ٹرینگ کے حامل فوجی افسران 2009 سے سٹینڈ بائی پوزیشن پر ہیں۔ اور یہ لوگ صرف ایک کال پر کبھی بھی ، کسی بھی وقت حرکت میں آ سکتے۔

اس میں تین قسم کی صورتیں پیش آ سکتی ہیں

آرٹیکل میں یہ لکھا گیا کہ اگر پاکستان کے اندر سے کوئی دہشت گرد گروہ یا آرمی بیکڈ گروپس بھارت میں کسی بڑے پیمانے پر آپریشن کر دیں، جس کے نتیجیے میں ایک خوفناک بحران پیدا ہو جائے تو ایک موقع مل جائے گا کہ ہم پاکستانی ایٹمی اثاثوں کو ہتھیا لیں یا تلف کر دیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہم خود “فالز فلیگ” کے ذریعے یہ کام کر کے الزام پاکستان پر دھر سکتے ہیں اور پھر وہی ٹیم ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے نام پر وہ نیوکس تلف کر دے یا امریکہ منتقل کر دے گی۔

دوسری صورت میں پاکستان کے اندر داخلی محاذ پر صورتحال اس قدر غیریقینی کر دی جائے کہ پورے ملک میں ایک افراتفری اور انتشار کی سی کیفیت ہو (مثلاً دہشت گردی کے بڑے واقعات یا مقبول لیڈرز کا قتل، وغیرہ) پھر معاملات کو ایک خاص مقام پر لے جا کر ایٹمی ہتھیاروں کو ہتھیا لیا جائے۔

تیسری صورت میں پاکستان کو معیشت کے محاذ پر اس قدر پسپا کر دیا جائے کہ پورا ملک دیوالیہ پن کے کنارے پر آ کھڑا ہو اور تمام ادارے بکھر جائیں اور پھر کسی بہت بڑی دہشت گردی سے ملک میں ایک ایسی بھونچال کی کیفیت طاری کر دی جائے کہ پھر ایک دفعہ وہ موقع مل جائے کہ ایٹمی ہتھیاروں کو چرا کر پاکستان کو اس کی طاقت سے محروم کر دیا جائے۔

اس ساری صورتحال کے بعد ذرا نون لیگ کی پچھلے پانچ سال کی کارکردگی ملاحظہ کر لیجیے۔ نون لیگ گورننس دینے میں تو بری طرح سے ناکام رہی ہی ہے۔ ہسپتالوں، سکولوں، شہروں، دیہاتوں، کسانوں کا تو کوئی پرسانِ حال ہی نہیں یعنی ڈیلور کرنے میں شدید ترین ناکامی ہوئی ہی ہے لیکن داخلی، خارجی اور معاشی محاذ پر بھی پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں آج لگ رہا ہے کہ یہ بالکل وہی جگہ ہے جس کا سیمور ہرش نے اپنے آرٹیکل میں ذکر کیا تھا۔

خارجی محاذ پر پاکستان نے آج تک وزیرخارجہ نہیں لگایا، پچھلے چند مہینوں سے ایک ہومیوپیتھک وزیرخارجہ لگا رکھا تھا لیکن اس سے پہلے چار سال تک پاکستان کا کیس دنیا بھر کے سامنے لڑنے والا کوئی نہیں تھا، جس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں اپنا موقف دینے میں مکمل طور پر ناکام رہا، اپنی خدمات گنوانے میں ناکام رہا اور بھارت کا خطہ میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کم کرنے میں بری طرح سے ناکام رہا، امریکہ کو یہ باور کروانے میں ناکام رہا کہ کس طرف افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

داخلی محاذ پر یہ عالم ہے کہ ہر تین مہینے بعد ایک نیا بحران کھڑا ہوتا ہے۔ تمام وفاقی وزیر اور کابینہ ممبران ہر روز عدالتوں کے باہر کھڑے ہو کر عدالتوں اور فوج کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ ملک میں ڈان لیکس جیسی بغاوت کی جاتی ہے۔ دھرنوں کے الزامات فوج کے سر دھر کر سول ملٹری تعلقات کو آخری نہج پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ داخلی محاذ پر ناکامی کے بعد ایک بار پھر سے دہشت گردی کے واقعات سر اٹھانے لگے ہیں۔

معاشی محاذ پر پاکستان کے ساتھ تجربے کے نام پر برے طریقے سے ہاتھ کیا گیا ہے۔ پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے، کمرشل بنکوں سے بھی پیسہ اٹھا لیا گیا ہے، ایکسپورٹس تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں۔ ترقی کا سفر محض جھوٹ اور فریب بن کر رہ گیا ہے۔ مہنگائی تاریخ کی بدترین سطح پر ہے۔ جواری بیٹھ کر سٹاک ایکسچیج چلا رہے ہیں۔ وزیرِ خزانہ ایک اشتہاری مجرم ہے۔ روپیہ تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔

نون لیگ کی حکومت کو پاکستان میں بھارت اور امریکہ کی مرضی اور اشیرباد سے صرف اور صرف اس لیے لانچ کیا گیا تھا تا کہ وہ حالات کو اس نہج پر لے جائیں جہاں سیمورہرش والی تھیوری عمل میں لائی جا سکے اور آج ہم بالکل اسی مقام پر کھڑے ہیں کہ ہمارے اردگرد کوئی بھی ایک ایسا واقعہ ٹریگر آؤٹ کر کے ایک نئی جنگ چھیڑی جا سکتی ہے.

Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج کے آفیسرز کو تربیت نہ دینے پر امریکہ کو کیا نقصانات اٹھانا پڑینگے

امریکا کی طرف سے پاکستانی فوج کی ملٹری ٹریننگ پروگرام کی فنڈنگ کم کرنے پر …