Home / Pakistan Air Force / پاکستان چین کے اشتراک سے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے بنائے گا

پاکستان چین کے اشتراک سے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے بنائے گا

ائیر چیف سہیل امان نے ایئر یونیورسٹی اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان لڑاکا طیاروں کے لیے کسی ملک سے بھیک نہیں مانگے گا پاکستان اپنے لئے خود لڑاکا طیارے بنائے گا،یہ بیان خاص طور پر امریکی حکام کے لیے دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایئر چیف نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ سمیت اگر کسی بھی ملک کا ڈرون پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرے گا تو پاکستان کی فضائیہ اسے مار گرائے گئی، یہ بیانات انتہائی موزوں وقت پر دیئے گئے،کیونکہ امریکی صدر نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ تسلیم کر لیا ہے اور اس امریکی فیصلے پر مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایسے حالات میں اس بات کی ضرورت تھی کہ پاکستان بھی اپنا موقف اور آئندہ کا لائحہ عمل سامنے رکھے۔اور امریکا کو باور کروائے کہ ہم تم سے نہیں ڈرتے ہم نے روس کو توڑا تمہیں بھی توڑ سکتے ہیں۔ روس بھی افغانستان میں آنے کے بعد ٹوٹا تھا اور امریکہ بھی مزید افواج 2018 تک افغانستان میں بھیجے گا۔

اس کے علاوہ ائیر چیف نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ کا پروجیکٹ عزم چین کے اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے، پاکستان کو پانچویں نسل کے سٹیلتھ لڑاکا طیارے بنانے میں چین تکنیکی مدد دے گا۔
Will shoot down American drone if it enters our airspace

یاد رہے کچھ عرصہ پہلے ایئرچیف سہیل امان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان ایک پروجیکٹ کے تحت ملکی سطح پر اسٹیلتھ لڑاکا طیارے بنائے گا اور اور اس پروجیکٹ میں کسی دوسرے دوست ملک کو بھی شامل کیا جائے گا، تاہم اس وقت ائیر چیف نے اس دوست ملک کا نام نہیں بتایا گیا تھا، اس پروجیکٹ کا نام “پروجیکٹ عزم” رکھا گیا ہے۔

ائیر چیف سہیل امان نے فی الحال یہ نہیں بتایا کہ پاکستان فضائیہ کے لیے بنائے جانے والے اس اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کا ڈیزائن نیا تیار کیا جائے گا یا پھر چینی ساختہ “J-31” لڑاکا طیارے کے ڈیزائن کو ہی چنا گیا ہے۔

پاکستان کے لیے اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی پروڈکشن چند سالوں میں ہی شروع کردی جائے گی، “پروجیکٹ عزم” کے تحت نہ صرف لڑاکا طیارے بنائے جائیں گے بلکہ زیادہ دیر تک پرواز کرنے والے اسلحہ بردار ڈرونز بھی بنائے جائیں گے، اور ان جدید ڈرونز کی پروڈکشن 2019 تک شروع ہوگی۔ اس کے علاوہ “پروجیکٹ عزم” کے تحت مزید جدید ہتھیار بھی بنائے جاسکتے ہیں، لیکن فلحال پاک فضائیہ کی ترجیحات میں اسٹیلتھ لڑاکا طیارے اور جدید ڈرونز شامل ہیں۔
Pakistan Air Force Projects

پاکستان کو ہمیشہ سے ہی مغرب سے ہتھیار خریدنے میں مشکلات پیش آتی رہی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ملکی سطح پر “JF-17” لڑاکا طیارے بنانا پڑے، مگر موجودہ دور سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا ہے اور ہر ملک اس ٹیکنالوجی کو حاصل کررہا ہے، پاکستان نے بھی حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے حامل لڑاکا طیارے خود تیار کیے جائیں، یہ جدید طیارے مستقبل میں مسلم برادر ممالک کو بھی فروخت کیے جا سکیں گے۔

Share This

About yasir

Check Also

وہ وقت جب پاکستانی فضائیہ کے میراج طیاروں کو امریکی نہیں پکڑ سکے

پاکستان ائیر فورس کے جنگجو ہوابازوں کو ہدف دیا گیا کہ انہیں بغیر کوئی سراغ …