Home / Pakistan Army / ایک گمنام جانباز کے بھارت میں ایس ایس جی کے ساتھ مل کر کیئے گئے آپریشن کی حقیقی روداد

ایک گمنام جانباز کے بھارت میں ایس ایس جی کے ساتھ مل کر کیئے گئے آپریشن کی حقیقی روداد

اس بار ميں نے اپنے ان جيالے کمانڈوز کے ساتھ کام کرنا تھا۔ جنہوں نے 1965ء ميں بھارتي سورمائوں کو تگني کا ناچ نچايا تھا۔ ميرے کان ان کي ہر آہٹ پر لگے رہتے اور نظريں بار بار گھڑي کا جائزہ لينے لگتيں کہ کس لمحے ميرے جانباز ميرے دروازے پر آ دستک ديتے ہيں؟

کمانڈوز کے ساتھ ميرا کام کرنے کا يہ پہلا موقع تھا جو ميرے لئے کسي سعادت سے کم نہيں تھا۔ان شيردل جوانوں کے ساتھ ميدان عمل ميں کودنے کي لذت سے آشنا ہونے کےلئے ميری طبيعت ايک عرصےسے بيتاب تھی. ليکن ميرے فرائض چونکہ سپيشل سروس گروپ سے مختلف تھے۔اس لئے اس سعادت سے ابھي تک محروم رہا۔ آج جب خوش قسمتي سے يہ موقعہ نصيب ہوا تو ميري جزباتی حالت ناقابل بيان ہو رہي تھی۔

مقررہ وقت پر ميں سرحدي علاقے کي ويران مسجد کے اردگرد اگي جھاڑيوں ميں آ کر بيٹھ گيا۔ ابھي مجھے وہاں بيٹھے پانچ منٹ ہي گزرے تھے جب اچانک ميری دائيں طرف سے ايک مخصوص جانور کي آواز ابھري اور خاموشي چھا گئی، چند لمحوں کے توقف کے بعد پھر وہي آواز وقفے وقفے سے سنائی دی۔ يہ ميرے دوستوں کي آمد کا سگنل تھا۔ ميں نے بھي ايسي ہي آواز نکالي اور وقفے وقفے سے دو مرتبہ يہ عمل دہرايا۔ جس کے جواب ميں ميرے نزديک ايک پنسل ٹارچ جل کر بجھي۔ اسي طرح کي چھوٹی سی ٹارچ ميں نے بھی جلا کر بجھا دی اور چند سيکنڈ کے بعد ہي ايک آہٹ ميرے قريب سنائ دی۔
يہ “راہبر” تھا جو مجاہدوں کو راہنمائی کرتا ہوا يہاں تک لايا تھا۔

اس نے ميرے ساتھ کوڈ ورڈ کا تبادلہ کيا اور مجھے مسجد کے قريب ٹھہرنے کا کہہ کر خود واپس رينگ گيا۔
چند منٹ کے جان ليوا انتطار کے بعد اس کي واپسی پانچ جيالوں کے ساتھ ہوئ۔ اندھيرے ميں باری باری وہ آگے بڑھ کر مجھ سے بغلگير ہو گئے۔ ان ميں سے چار جونيئر رينک کے تھے ، ان کا کمانڈر ايک پٹھان کيپٹن تھا۔اتنے عرصے بعد اپنے بہادر فوجيوں کو اپنے وطن کي ورديوں ميں ملبوس ديکھ کر مجھے خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ ميں نے “راہبر” کو وہيں سے رخصت کر ديا کيونکہ اس کا کام اب ختم ہو چکا تھا اور جناب! ميرا کام شروع ہوا تھا۔

“راہبر” نے کچھ عجيب سی نظروں سے ہماري سمت ديکھا۔ شايد وہ بھي اس جزباتي کيفيت کا شکار تھا۔ جس نے مجھے اسير کر رکھا تھا۔ اس کي آنکھيں ہم سے يہي التجا کر رہي تھيں کہ “مجھے بھي اس سعادت سے سرفراز ہونے کا موقع دو۔”ليکن نظم و ضبط بھي بہر حال کوئ شے ھے۔ زندگي ميں سبھي کچھ جزبات ہي تو نہيں ہوتے۔”راہبر” کے رخصت ہوتے ہي ميں نے کيپٹن کو آنکھوں ہي آنکھوں ميں اشارہ کيا اور ايک سمت کو چل ديا۔

وہ لوگ اپني ٹرينگ کے مطابق بکھر کر ميرے پيچھے پيچھے آ رھے تھے اور ميں ان کو لے کر يہاں سے ايک دوسرے ٹھکانے کی طرف جا رہا تھا کيونکہ ميری پہلی کمين گاہ کا علم “راہبر” کوتھا اور اس کي ممکنہ گرفتاری کی صورت ميں اپنے عقيدے کی سچائی کے باوجود بشري کمزوريوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان تھا کہ تشدد کي تاب نہ لاتے ہوئے وہ اپنے صيادوں کو اس ٹھکانے سے آگاہ کر دے اور ہم کچھ کرنے کي حسرت ہي دل ميں لے کر مر جائيں۔
قريباً دو گھنٹے تک ميں اپنے ہمراہيوں کو مختلف کھيتوں، کھليانوں، ندي نالوں سے گزار کر اب اس جگہ پہنچ چکا تھا جسے ميں نے ان کے “آپريشن روم” کے لئے چنا تھا۔

يہ بھی ايک گاوں سے ڈيڑھ دو ميل کي فاصلے پر ہندو مشرکوں کی خباثت کا نشانہ بنی ایک شہید مسجد تھی۔ جسے منوجی کے خونخوار بھیڑیوں نے قیام پاکستان کے بعد شہید کر کے اپنی مزہبی عصبیت کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔ میں چاہتا تھا مسجد کے انہی کھنڈرات میں بیٹھ کر جہاں سے میرے اسلاف کی “حی علی الفلاح” کی آوازیں چاروں طرف گونج کر بت پرستی کے غرور کو خاک میں ملایا کرتی تھیں، میرے جیالے قرون اولٰی کی تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائیں اور براہمنی سامراج کو خاشاک کا ڈھیر بنا کر رکھ دیں۔

ایسی مساجد کے صحن میں نجانے کالی کے پجاریوں نے کتنے مسلمانوں کا لہو بہانے کے نعد انہیں شہید کیا تھا، لیکن اب وہ ان کے نزدیک بھٹکنے سے بھی ڈرتے تھے۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات سما گئ تھی کہ”یہاں مقتولوں کی روحیں قیام پزیر ہیں جو کسی بھی لمھے ان کی جان لے سکتی ہیں۔” شاید اسی وجہ سے اکثر دیہاتی علاقوں میں ان شہید کردہ مساجد کے اردگرد۔ قریباً میل میل کے فاصلے تک آبادی کا نام و نشان دکھائ نہیں دیتا نہ ھی ان کے زیادہ نزدیکی زمین کو زیر کاشت لایا جاتا ھے۔

ایسے مناظر دیکھ کر میں اکثر سوچا کرتا کہ ایسی بزدل قوم کو جو مسلمان شہیدوں کی روحوں سے خوف کھاتی ھے آخر کونسی طاقت برسر حکومت رکھے ہوۓ ھے؟؟؟انکے کردار کو گھن لگ چکا، ان کے پاس سواۓ بے حیاء اور منافقت کے اور رہ ہی کیا گیا ھے۔ لیکن مجھے اپنے سوالوں کا ایک ہی جواب سوجھتا کہ اس کا سبب صرف میری قوم کی بے حسی، برسراقتدار طبقے کی “مصلحت کوشی” اور لیڈروں کی”پریم سبھائ” زہنیت ھے۔ بدقسمتی سے ابھی تک میری مقدس سرزمین پر ایسے لوگ مزعم خویش لیڈر دندناتے پھرتے تھے جنہوں نے کبھی صدق دل سے پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا۔۔۔۔۔! اور یہی لوگ آج ہمارے لمجاد میویٰ ہونے کے بھی دعویدار ہیں۔

اپنے اسلاف کی عظمتوں کے ان کھنڈرات میں نے نجانے کیسے کیسے سپنے دیکھے۔ میرا دل گواہی دیتا تھا کہ جس روز میری قوم نے ہندو اور ہندو ذہنیت کے حامل پاکستان کی اصلیت جان لی، وہ بھارت ماتا کی موت کا دن ہوگا۔

کاش میری بھولی قوم ہندو ذہن کی چالبازیوں سے آگاہ ہو سکے ! کاش۔”
اپنے مہمانوں کی مہمان نوازی کیلۓ میں نے چاۓ سے بھرا تھرموس اپنے پاس رکھا تھا۔
سب سے پہلے میں نے ان کی تواضع چاۓ سے کی۔ پھر کیپٹن کے اشارے پر اس کے چاروں ساتھی اس جگہ کے چاروں طرف بکھر کر پہرہ دینے لگے جب کہ کیپٹن صاحب ایک نقشہ بچھا کر میرے سامنے زمین پر بیٹھ گۓ۔ ایک چھوٹی سی ٹارچ کی روشنی میں انہوں نے اپنے”ٹارگٹ” کی نشاندہی کی ، یہ ایک فوجی نوعیت کا پل تھا جسے وہ تباہ کرنے آۓ تھے۔
آؤ کنا!

کشمیر میں نظام رسد اور مواصلات کا انحصار ان چھوٹے چھوٹے پلوں پر ھے جو تیز رو پہاڑی ندی نالوں پر بناۓ جاتے ہیں۔ ایسے پلوں کی حیثیت بھارتی آرمی کے نزدیک شہ رگ کی طرح ہوتی ھے۔ اگر ایک دو پل بھی تباہ ہو جائیں تو فوج کا بہت بڑا حصہ مفلوج ہو کر رہ جاتا ھے۔ پلوں کی اسی اہم نوعیت کے پیش نظر یہاں ہر وقت فوج تعینات رہتی تھی اور ایسے اہم نوعیت کے پلوں کے دونوں اطراف پر مضبوت مورچہ بندیاں کی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمانڈوز کے ممکنہ حملے کے پیش نظر یہاں بڑے بڑے پختہ بنکر تعمیر کۓگۓ تھے جس کا سلسلہ اندر ہی اندر کافی دور تک پھیلتا چلا گیا ھے۔

ان بکھری ہوئ پوزیشنوں پر مورچہ زن افواج کے لۓ جگہ جگہ پٹرول ڈمپ اور گولہ بارود کے ذخیرے بھی رکھے جاتے تھے اور ان ذخائر سے پوزشنوں تک اسلحہ لانے لے جانے کے لۓ یہاں فوجی گاڑیوں کا تانتا بندھا رہتا اور ان کی نقل و حرکت جاری رہتی تھی۔ پاکستانی کمانڈوز اور کشمیری حریت پسند چھپ کر اچانک حملہ کرتے اور زیادہ تر اسلحے کے ڈپوؤں، پٹرول کے مراکز اور فوجی کنواۓ کو اپنی سرگرمیوں کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ ایسے کسے پل کی تباہی سے بھارتی افواج کی سپلائ لائن میں اچھا خاصا شگاف پڑجاتا تھا جس کو پر کرنا ان کے لۓ فوری طور پر ناممکن ہو جاتا کیونکہ اکثروبیشترایک کے فوراً بعد انہیں دوسرے ناگہانی حملے کا سامنا کرنا پڑتا۔

یہ سرفروش بھی ایک ایسے ہی اہم نوعیت کے پل کو تباہ کرنے آۓ تھے۔ سب سے اہم کام تھا اپنے ٹارگٹ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کا بھرپور جائزہ لینا تاکہ اُس کی تباہی کے لۓ مؤثر منصوبہ بندی کی جاسکے۔ میں تو اس پل سے دو تین مرتبہ گزر چکا تھا، لیکن کیپٹن صاحب کو اس کا نظارہ کروانا پھر بھی ضروری تھا جس کا بندوبست میں نے پہلے ہی کر رکھا تھا۔ اردگرد کے مقامی دیہاتوں سے جو لوگ پٹھانکوٹ یا جموں جاتے تھے انہیں اس پل سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔ علی الصبح کیپٹن صاحب نے اپنے ساتھیوں کو ضروری ہدایات دے کر وہیں چھپ کر انتظار کرنے کا حکم دیا اور خود میرے ساتھ دیہاتیوں کے لباس میں چل دیے۔

بطور احتیاط ہم نے اپنے لباسوں میں پستول چھپا رکھے تھے اور مقامی لباس میں چل نکلے تھے۔ کپڑے کا ایک تھیلا میرے ہاتھ میں تھا جس میں کچھ کاغزات تھے اور دوسرا ان کے ہاتھ میں جس میں کھانے کی اشیاء رکھے تھیں۔ کیونکہ براہمن زیادہ تر اپنے گھر کے پکے کھانے پر ہی انحصار کرتے ہیں۔
میں نے تمام باتیں پلان کے مطابق کیپٹن کو سمجھا دیں اور سفر شروع کیا۔ ہم نے جان بوجھ کر وہ راستہ اپنایا تھا جو اردگرد کے دیہاتوں سے ہٹ کر اور یقریباً آٹھ میل دور تھا۔

سورج طلوع ہونے تک ہم پل کے قریب پہنچ چکے تھے جہاں دونوں طرف ہر آنے جانے والے کو سنتری ٹھونک بجا کر دیکھنے کے بعد ہی وہاں سے گزرنے کی اجازت دیتے تھے۔ ہم دونوں ساتھ چلتے اس پل تک ہہنچے تھے اور پہریداروں کی طرف دیکھے بغیر ہی منہ اٹھاۓ چلے جا رھے تھے۔”ہالٹ۔ کون ہو تم، کدھر جا رھے ہو ؟ “اچانک ایک فوجی للکارتا ہوا ہماری طرف بڑھا”۔
جواب میں، میں نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ جوڑ کر اسے اپنی شناخت بتلائ اور نزدیک کے ایک گاؤں کا نام بھی لے لیا۔”تو کون ھے؟” اس نے کیپٹن صاحب سے بڑے درشت لہجے میں پوچھا۔

کیپٹن صاحب ہونقوں کی طرح اس کا منہ دیکھ رھے تھے۔”گونگا ھے مہاراج جی!” اس کی مصیبت تو بھگتنے جا رھے ہیں”۔ رشتہ داروں نے بے چارے کی ساری زمین ہتھیا لی ھے۔ ہم عدالت ہی بھگتنے جا رھے ہیں مہاراج۔” “یہ کیا ھے؟” اس نے تھیلے کی طرف اشارہ کیا۔”کاغز ہیں عدالت کے مائ باپ!” میں نے تھیلے میں رکھے کاغزات جو اسی مقصد کیلۓ بنواۓ تھے اسے نکال کر دکھاۓ تو کہنے لگا “ٹھیک ھے جاؤ۔” اس دوران کیپٹن صاحب کی متجسسانہ نظریں بڑی مہارت سے اپنے ٹارگٹ کا جائزہ لے رہی تھیں۔

پل عبور کر کے ہم بس میں سوار ہو کر شہر کی طرف چل دیے۔ دوپہر کے بعد واپس آۓ دوبارہ پل پر سے گزر کر حالات کا جائزہ لیا اس دوران کیپٹن صاحب نے اپنے ذہن میں کوئ پلان ترتیب دے لیا تھا۔ واپسی پر بھی وہی چیکنگ ہوئ اور شام کے وقت ہم اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گۓ تھے۔ کیپٹن نے نقشہ زمین پر پھیلا کر اس پر کچھ لکیریں کھینچیں اپنے مشورے میں مجھے شامل کیا اور اپنے جانبازوں کے پلان سے آگاہ کیا اور جیسے ہی آخری رات کا چاند ڈوبا، سرفروش کھڑے ہو گۓ۔

کیپٹن نے مجھے کہا کہ آپ ہمیں مطلوبہ ٹاگٹ تک پہنچا کر واپس آ سکتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ممکنہ خطرے کی صورت میں میں بھی دشمن کا نشانہ بن جاؤں کیونکہ ایسی مہمات میں بچنے کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں شاید اسی لۓ اللہ کے شیروں کا انتخاب کیا جاتا ھے جو اپنی زندگی کا مقصد صرف ایک باوقار موت سمجھتے ہیں۔ اللہ کے یہی شیر اب پہلو بہ پہلو کڑے تھے اور مشن کی کامیابی کیلۓ ہاتھ اٹھاۓ دعا مانگ رھے تھے۔ کیپٹن نے جانبازوں کو آخری ہدایات دیں اور اس کے ساتھ ہی ہم براہمنی تکبر سے ٹکرانے چل دیۓ۔

پل تک پہنچنے کیلۓ انتہائی لمبا راستہ اختیار کرنے کہ وجہ دشمن سے بغیر کسی مڈبھیڑ کے پل تک پہنچنا تھا تاکہ پل اڑانے کی آرزو دل میں لیۓ ہی اللہ کے حضور نہ پہنچ جائیں۔
سب سے آگے میں تھا پھر کیپٹن اور پھر باقی جانباز قدم بہ قدم اپنی تربیت کے مطابق چلے آ رہے تھے اور جہاں کہیں حالات مخدوش نظر آتے میں انہیں روک کر خود آگے بڑھ کر حالات کا جائزہ لیتا اور انہیں راستہ بدلنے یا آگے بڑھنے کا سگنل دیتا۔

جس وقت ہم پل کے نزدیک پہنچے، رات کا ایک پہر بیت چکا تھا۔ کیپٹن نے یہاں پہنچ کر تین ٹولیاَں ترتیب دیں۔ ایک میں’ میں اور کیپٹن تھے دوسری اور تیسری میں دو دو جوانوں نے پل کے ایک کنارے پر پوزیشن سنبھال لی۔ باقی دو کے ذمے ڈائنامائیٹ لگانا تھا اور یہی کام سب سے خطرناک تھا۔

دونوں ٹولیوں کو اپنے اپنے ٹارگٹ پر بھیج کر کیپٹن میرے ساتھ اپنے لئے پہلے سے مخصوص جگہ پر دبک کر بیٹھ گیا۔ ہم نے پل کے ایک کنارے پر بنے بنکر کے پہلو میں چھوٹی سی پہاڑی پر مورچے جما لۓ جہاں سے وہ بنکر بمشکل پندرہ گز کے فاصلے پر تھا۔ اس بنکر کے اوپر ایک سرچ لائٹ نصب تھی جسے وقتاً فوقتاً گھما کر وہ لوگ پل کی صورت حال کا جائزہ لیتے تھے۔ جبکہ پل کے دونوں اطراف پر بنی پہریداروں کی پوسٹوں میں مسلح پہریدار موجود تھے۔ یہاں کچھ فاصلے پر فوج ڈپلاۓ تھی اور اینٹی ایئرکرافٹ گنز بھی نصب تھیں۔

اتنے زبردست حفاظتی انتظامات کی ماجودگی میں پل کو تباہ کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن ان جانبازوں کی لغت میں تو ناممکن کا لفظ تھا ہی نہیں۔ ہم پل سے قریباً چالیس گز دور ایک دوسرے سے الگ ہوۓ تھے۔

میرے کندھے پر لٹکتے تھیلے میں دستی بم موجود تھے اور کیپٹن کے ہدایت کے مطابق اس کے سگنل دینے پر میں نے بنکر کے اندر دستی بم پھینکنا تھے۔ ہم دونوں بنکر کو اپنی زد میں لئے ایک پتھر کی اوٹ میں اس پر نظریں جمائے ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر لیٹے تھے۔ اور ہماری کل حسیات پل اور بنکر کی جانب مرکوز تھیں اور میرے ہاتھ میں پکڑا دستی بم اور کیپٹن کی اسٹین گن کسی بھی لمحے دھاوا بولنے کو تیار تھیں۔

پل کے نیچے تیز رفتار ندی کی شوریدہ سر لہروں کی پتھروں سے ٹکرانے کی آواز تھی یا پھر کبھی کبھی پل پر گشت کرتے کسے فوجی کے بوٹوں کی کھڑکھڑاہٹ، اس کے علاوہ تو فضا پر چاروں طرف ہولناک سناٹا طاری تھا۔

پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ اس میں قدم جمانا مشکل نظر آرہا تھا۔ لیکن عزم و ہمت کی چٹانوں کے آگے یہ تیز رفتار لہریں سواۓ سر پٹخنے کے اور کر ہی کیا سکتی تھیں!۔
کیپٹن صاحب نے دو تین مرتبہ بے چینی سے اپنے بازو پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا، پھر میں نے ان کے چہرے پر تشویش کے آثار ابھرتے دیکھے، شاید اب تک ہمارے ساتھیوں کو اپنا کام مکمل کر لینا چاہیئے تھا۔

اچانک مجھے اپنا سانس سینے میں اٹکتا ہوا محسوس ہوا کیونکہ سرچ لائٹ روشن ہو چکی تھی اور اس کی تیز شعاعوں نے پل کا احاطہ کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اب سارا منظر میرے سامنے تھا۔ پل کے ایک کونے سے میں نے اپنے ایک ساتھی کو چھلانگ لگا کر جھاڑیوں میں گرتے دیکھا۔ شاید وہ سرچ لائٹ کی رینج میں آنے سے بچ رہا تھا، لیکن اب وہ بھارتی بھیڑیوں کو دکھائ دے چکا تھا۔ پھر تین باتیں یکلخت وقوع پزیر ہوئیں۔ بنکر کے ایک کنارے پر لگی لائٹ مشین گن نے اپنا جبڑا کھولا اور سرخ انگاروں کی ایک لکیر اس مجاہر کے تعاقب میں لپکی ۔

کیپٹن کی اسٹین گن نے شعلے اگلے اور سرچ لائٹ بجھ گئ۔ انہوں نے سرچ لائٹ کو ہی نشانہ بنایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھ میں پکڑا گرنیڈ اچھلا اور بنکر میں جا گرا۔ پھر تو جیسے مجھ پر دیوانگے طاری ہو گئ تھی، میں نے ایک ڈیڑھ منٹ میں یکے بعد دیگرے پانچ گرنیڈ اس طرف اچھال دئے تھے۔ اسی اثناء میں پل کے دوسرے کنارے پر مورچہ زن ہمارے ساتھیوں نے راکٹ لانچر سے حفاظتی چوکی پر آگ برسانی شروع کردی تھی۔

اگلے ہی لمحے کیپٹن کی مضبوط گرفت نے مجھے گرنے سے بچالیا کیونکہ کانوں کے پردے پھاڑ دینے والے دھماکے کی زوردار آواز گونجی تھی اور پل کے پرخچے اڑ گئے۔ میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے کیپٹن صاحب اور میں مختلف ٹیلوں کی اوٹ لیتے ہوئے ہم مخصوص پوائنٹ کی طرف بھاگ رہے تھے۔
جب میرے حواس بحال ہوۓ تو ہم پل کے نزدیک ہے ایک محفوظ جگہ کھڑے تھے اور کیپٹن کی نظریں گھڑی کی سوئیوں پر جمی تھیں اور پل کی جگہ خس و خاشاک کا ایک ڈھیر ندی میں بہہ رہا تھا اور مورچوں سے بھارتی فوجی دیوانہ وار فائرنگ کر رھے تھے لیکن کس پر۔۔۔۔؟

اس کا علم شائد ہماری طرح انہیں بھی نہیں تھا۔

ابھی ھمیں کھڑے دو منٹ ہے گزرے تھے کہ دو سائے اپنی سمت رینگتے دکھائ دیئے جو قریب آنے پر ہمارے راکٹ لانچر بردار ساتھی نکلے جو پل کے دوسری جانب ماجود تھے۔۔ یہی جگہ کامیابی کے بعد اکھٹے ہونے کیلئے منتخب ہوئ تھی اور ایک طے شدہ وقت تک ایک دوسرے کا انتظار کرنا تھا۔ مقررہ وقت اب ہوا ہی چاہتا تھا کہ میرا دل بیٹھنے لگا۔ابھی تک میرے دو جانباز نہیں پلٹے تھے۔ پھر میں نے کیپٹن کے چہرے پر جلال کی ایک اور جھلک دیکھی اور انہوں نے گھڑی کی بجائے اپنی نظریں مجھ پر گاڑھ دیں جس کا مطلب تھا “وقت پورا ہو چکا” اور ابھی روانگی کا حکم دینے ہی لگے تھے کہ ایک سائے کو قریباً زمین پر گھسٹتے ہوئے اپنی جانب بڑھتے دیکھا۔

ہم فوراً پوزیشن میں آگئے، پر قریب آنے پر وہ ہمارا ایک جانباز نکلا جس کے ذمے پل کو اڑانے کا مشن تھا۔ ہمارے قریب پہنچ کر وہ بمشکل اٹھ کر کھڑا ہوا، اس کی وردی خون میں لت پت تھی کہ اس نے کیپٹن کو سلیوٹ کیا اور کہا “سر! حوالدار صاحب شہید ہو گئے۔”اس کے ساتھ ہی اس نے حوالدار کی وردی کے نشانات اور ان کی اسٹین گن گلے سے اتار کر کیپٹن کی طرف بڑھادی۔ میرا کلیجہ کٹ کر رہ گیا اور آنکھیں چھلک پڑیں۔

جانبازوں نے تحمل سے یہ خبر سنی اور ان کی زبان سے “انا للہ و انا الیہ راجعون” نکلا۔ سب نے باری باری شہید کی گن کو بوسہ دیا۔ ان کی آنکھوں میں نمی تیررہی تھی لیکن وہ روئے نہیں، شاید اس لئے کہ فوجی رویا نہیں کرتے۔ جبکہ میں فوجی نہیں تھا اسی لئے میرے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ چکے تھے۔ کیپٹن نے شہید کے نشانات احترام سے اپنی جیب میں ڈالے اور جھک کر اپنے زخمی ساتھی کی طرف متوجہ ہو گئے جس میں اب اٹھنے کی سکت بھی باقی نہیں تھی۔اس کے سینے پر گہرا زخم نظر آرہا تھا۔ تینوں غازیوں نے اپنی فیلڈ پٹیاں اس کے سینے پر باندھ دیں۔ یہ ایثار کا عظیم مظاہرہ تھا ورنہ میدان کارزار میں ایک فوجی کیلئے اس کی ایمرجنسی پٹی کی کیا اہمیت ھے اس سے فوجی لوگ بخوبی آگاہ ہیں۔

اس اثناء میں جانبازوں نے ہنگامی سٹریچر ترتیب دے لیا تھا۔ انہوں نے زخمی ساتھی کو اس پر لٹایا اور ہم اپنی سرحدوں کو چل دیۓ۔ ہمارے ساتھی پر نیم بے ہوشی کی کیفیت طاری تھی۔ جب اس کی حالت بگڑنے لگتی تو کوئ جوان اپنی پانی کی بوتل سے چند گھونٹ اسے پلا دیتا۔

واپسی کا سفر کچھ کم خطرناک نہیں تھا۔
کمانڈوز اپنا مشن پورا کر کے واپس جا رہے تھے اور یہاں چپے چپے پر پھیلی پوئ بھارتی افواج کو سگنل مل چکا تھا کہ اس علاقے میں پاکستانی کمانڈوز موجود ہیں اور اب وہ شکاری کتوں کی طرح ان کی بو سونگھتے پھر رھے تھے۔ لیکن میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ جو راستہ میں نے چنا ہے وہ محفوظ ھے۔ اس دوران میں دو تین مرتبہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر زخمی ساتھی کی عیادت کر چکا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے اسے بڑبڑاہٹ میں قرآنی آیات تلاوت کرتے دیکھا اور دوسری بار اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھنے پر ہی اکتفا کیا تھا۔ قریباً دو گھنٹے تک مختلف نوعیت کے خطرناک مراحل سے گزر کر اب بارڈر (وائٹ لائن) کے نزدیک پہنچ گئے۔ میں نے بیقراری سے آگے بڑھ کر ایک بار پھر اپنے زخمی مجاہر کو دیکھنا چاہا۔

اس نے ہمت کر کے گردن اٹھا کر کہا “پاکستان آگیا؟” جواب میں میں نے سر ہلا کر “ہاں” کہا اور ہاں سنتے ہی اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئ۔ میں اور کیپٹن ایک ساتھ ہی اس پر جھکے۔ وہ بہت دھیمی آوز میں کلمہ شہادی کا ورد کر رہا تھا۔ کیپٹن نے اسے آہستہ سے پکارا لیکن شہید تو جیسے اپنی سرزمیں ہی کا منتظر تھا۔ جیسے ہی وہ اپنی دھرتی پر پننچا، اس نے اپنی جان جان آفریں کو سونپ دی تھی۔ میں نے شدت غم سے بے قابو ہوتے ہوئے اپنا ہاتھ منہ میں دبوچ لیا تاکہ اپنی سسکیوں کو ضبط کر سکوں۔ کیپٹن نے جھک کر اس جانباز کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا، شایر وہ اپنی جزباتی کیفیت کا اظہار مجہ پر نہیں کرنا چاہتا تھا یا پھر وہ فوجی زبان میں یوں کہ لیجۓ کہ وہ اپنی کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوۓ کیپٹن نے مجھے سینے سے لگا کر میری پیٹھ پر تھپکی دی اور “شکریہ دوست، خدا حافظ!” کہہ کر وہ اپنی سرحدوں کو چل دیئے۔

وہ مادر وطن کی آغوش میں آسودگی حاصل کرنے کے لئے آہستہ آہستہ چلے جا رھے تھے۔
وہ ٹیڑھے میٹھے راستے ان کیلئے ہموار ہوتے چلے جا رہے تھے اور درختوں کی اوٹ میں کھڑا میں سسک رہا تھا۔”کاش! میں بھی اس وقت اپبے وطن کی مقدس مٹی کی خوشبو کو محسوس کر سکتا۔ میں بھی اپنے پیاروں کے سنگ اپنے وطن میں اپنی جوانی کے یہ خوبصوری; لمحات بسر کر سکتا لیکن یہ سوچ صرف چند لمحوں کی تھی جیسے کوئ بلبلا تھوڑی دیر کے لئے بانی پر نمودار ہو اور بس۔
تب میرے وجدان نے مجھے آگاہی دی کہ اس تقدس مآب دھرتی کی آبرو تجھ جیسے جوانوں کے دم سے ھے۔ پگلے اگر تو بھی یہاں آگیا تو کون دشمن کے ناپاک ارادوں سے بروقت آگاہی دے گا، کان اپنے سرفروشوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ ڈسنے سے پہلے ہی سانپ کی گردن کچل دیں۔

میں نے آخری بار انہیں موڑ کاٹتے دیکھا۔ سینے پر ہاتھ رکھا اور ایک نئے عزم کے ساتھ بھارت کی ﷽طرف مڑگیا۔
کاش یہ قوم اب ان جانxبازوں کی قربانی کو فراموش نہ کریں اور دوست و دشمن کا فرق حق اور باطل کا فرق سچے اور جھوٹے کا فرق بے ایمان میں فرق کرنے کا گر جان جائیں۔

Share This

About yasir

Check Also

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی …