Home / Pakistan Army / افغان جہاد میں سب سے زیادہ نقصان کرنے والا ہتھیار

افغان جہاد میں سب سے زیادہ نقصان کرنے والا ہتھیار

اگر آپ 80 کی دہائی میں لڑے گئے افغان جہاد میں شریک رہے کسی شخص سے پوچھیں کہ اس جنگ میں آپ کے لئے سب سے خطرناک کیا چیز تھی ؟
تو وہ بلا تردد کہے گا، ایم آئی 24 گن شپ ہیلی کاپٹر۔
اس جنگ کے دوران افغان شہریوں اور گوریلوں کا سب سے زیادہ نقصان اسی وار مشین نے کیا تھا اور افغان مجاہدین سٹنگر میزائل کی آمد تک اس کے آگے بالکل ہی بے بس تھے۔
اس کے اینٹی ٹینک میزائل اور راکٹ تو اپنی جگہ لیکن اس کی مشین گنیں جب 3500 راؤنڈز فی منٹ کے حساب سے برساتی تھیں تو سمجھ آجاتا تھا کہ “گولیوں کی بارش” کیا ہوتی ہے۔
زیر نظر پوسٹ میں جو تصاویر ہیں یہ اسی ایم آئی 24 کی آج کی ترقی یافتہ شکل ایم آئی 35 ایم کی ہیں جس کا آڈر گزشتہ برس پاکستان نے بک کرایا تھا۔
mi 35 pakistan

یہ ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ چکے اور یقین مانئے پہاڑی علاقوں میں بیٹھے دہشت گردوں کے لئے یہ ایف 16 سے زیادہ خطرناک چیز ہے۔ لڑکا طیارے کے ساتھ تو رفتار اور مسلسل متحرک رہنے جیسے مسائل بھی ہوتے ہیں
جبکہ ان کا استعمال مہنگا بھی پڑتا ہے کیونکہ اسے مہنگے میزائل اور بم خرچ کرنے پڑتے ہیں جو بہر حال ایک محدود ریڈیس کو نشانہ بناتے ہیں اور وہ کارگر بھی زیادہ ٹھوس اہداف کے لئے ہوتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں گن شپ ہیلی کاپٹر تو آپ کے سر پر کوے کی طرح مسلط ہوجاتا ہے اور وہ پورے کیمپ کو صرف اپنی مشین گنوں سے ہی بھون کر رکھ سکتا ہے۔
اس کی مشین گن کی زد میں آنے والے کے جسم کے پھر سوراخ گننے بھی ممکن نہیں رہتے۔ آپ ان کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگا لیں کہ پاکستان نے فی الحال یہ صرف چار خریدے ہیں۔ مجھے پہلی بار یہ لگنے لگا ہے کہ اب دہشت گردوں کی “کمر” نہیں بچے گی.

Share This

About yasir

Check Also

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی …