Home / Pakistan / کیا انڈیا کے پاس جنگ کے علاوہ کوئی آپشن ہے؟

کیا انڈیا کے پاس جنگ کے علاوہ کوئی آپشن ہے؟

کچھ دنوں سے پاک فوج کی اعلی قیادت مسلسل انڈیا کو کسی جنگ یا مہم جوئی کے نتائج سے خبردار کر رہی ہے۔ کیوں؟

انڈیا پاک فوج کے ہاتھوں کے پی کے میں ٹی ٹی پی، بلوچستان میں بی ایل اے اورکراچی میں ایم کیو ایم سے محروم ہو چکا ہے۔ ان تینوں جماعتوں کی آپریشنل قوت کا بہت بڑا حصہ تباہ کیا جا چکا ہے۔ فقط ان کے سیاسی بازو ہی کسی حد تک متحرک ہیں۔

پیپلز پارٹی کی دہشت گردوں کو اور مسلم لیگ ن کی انڈین ایجنٹوں کو سپورٹ ایکسپوز ہو چکی۔

اے این پی، اچکزئی اور فضل لرحمن سے پاکستان بھر میں نفرت اپنے عروج پر ہے۔

افغانیوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے اور افغانستان کے ساتھ سرحد بندی ہورہی ہے۔

یعنی انڈیا پاکستان میں اپنے سیاسی اور غیر سیاسی مہروں سے تقریباً محروم ہو چکا ہے۔

سی پیک تقریباً آپریشنل ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے روس پاکستان کے قریب آچکا ہے,سعودی عرب کو سی پیک میں تیسرا فریق بنایا جا چکا ہے اور ایران کے ساتھ دوبارہ معاملات درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چین ہمیشہ سے ہی پاکستان کے ساتھ رہا ہے۔ یعنی انڈیا اس وقت خطے میں سیاسی تنہائی کا بھی شکار ہے۔
Pak China

انڈیا کو جن عالمی طاقتوں کی سپورٹ حاصل ہے ان کی دلچسپی کا مرکز انڈیا نہیں بلکہ پاکستان، چین، ایران اور روس ہیں۔ سی پیک نہ صرف ان چاروں کو آپس میں جوڑ سکتا ہے بلکہ انکو مضبوط بھی کرے گا۔ سی پیک کے ثمرات آنے کے بعد پاکستان لازمً اپنی دفاعی قوت میں بھی مزید اضافہ کریگا۔ تب پاکستان، پاکستان کے ان اتحادیوں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے انڈیا کوئی بھی موثر کردار ادا کرنے کے لائق نہیں رہے گا۔ کیا انڈیا وہ وقت آنے کا انتظار کرتا رہے گا ؟

چین جب براہ راست خلیج سے تیل خریدنا شروع کرے گا تو نہ چاہنے کے باوجود خلیجی ممالک کو بھی اپنی پالیسیز انڈیا اور پاکستان کے حوالے سے کچھ تبدیل کرنی پڑینگی۔ جو انڈیا کے لیے ایک اور بری خبر ہوگی۔

سی پیک انڈین معیشت کو بھی متاثر کرے گی خاص کر جب نسبتاً ایک مختصر راستے سے چینی مصنوعات انڈین منڈیوں میں پہنچنے لگیں گی تو وہاں کی اپنی صنعت کا کیا ہوگا اس حوالے سے بھی سے انڈیا میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
CPEC Against India

ان سب کے علاوہ کشمیر کی اپرائزنگ اپنےعروج پر ہے جس پر قابو پانا انڈیا کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ سکھوں کی تحریک دوبارہ اٹھ رہی ہے۔ افغانستان میں انڈیا اور امریکہ ملکر افغان طالبان کو شکست نہیں دے سکے اور وہ افغانستان کے اکثر علاقوں پر حکومت کر رہے ہیں جسکا اعتراف اب خود امریکن کر چکے ہیں۔ یاد رکھئے کہ افغان طالبان کو پاک فوج کے قریب سمجھا جاتا ہے جبکہ وہاں کی حکومت کو انڈیا کے۔

ان حالات میں انڈیا کی آخری امید پاکستان میں موجود جمہوریت اور عدالت سے تھی۔ لیکن جمہوریت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود سی پیک کو متنازعہ نہ بنا سکی اور عدالت دہشت گردوں کو تمام تر رعائتیں دینے کے باوجود ضرب عضب سے نہ بچا سکی۔

اب بتائیے انڈیا کیا کرے ؟ بیٹھ کر اچھے وقت کا انتظار کرتا رہے ؟؟ یہ بھی ذہن میں رہے کہ انڈین اتحادیوں کو انڈیا سے نہیں بلکہ اپنے مفادات سے ہمدردی ہے جن کو حاصل کرنے کے لیے اگر انڈیا کو پاکستان سے براہ راست لڑانا پڑے تو وہ ضرور ایسا کرینگے۔

میں نے کچھ عرصہ پہلے لکھا تھا کہ ضرب عضب دراصل غزوہ ہند کا آغآز ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان کے نطریاتی حامی درحقیقت ہند کا ہراؤل دستہ تھا جو شکست کھا چکا ہے۔ ضرب عضب ہی کی بدولت پاکستان سی پیک کو آپریشنل کرنے میں کامیاب ہوا جس نے حقیقتاً انڈیا کو ایک بند گلی میں پہنچا دیا ہے۔

انڈیا کو یقین ہے کہ چین اور پاکستان کے مضبوط ہونے کے ساتھ ہی انڈیا کے اندر کام کرنے والی مرکز گریز قوتیں بھی مضبوط ہونگی کشمیر اور خالصتان جنکا نقطہ آغاز ہے۔ جس کے بعد انڈیا کا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔

ایل او سی پر جاری انڈین گولہ باری صرف توجہ ہٹاؤ مہم نہیں ہے بلکہ انڈیا کے پاس اور کوئی آپشنز نہیں بچے ہیں۔  یہ گولہ باری کسی بھی وقت ایک بڑی اور فیصلہ کن جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ انڈیا پاکستان کے کسی ممکنہ معاشی دیوالیہ پن کے نتیجے میں  پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔

ہم سب کو بطور قوم کسی بھی وقت غزوہ ہند کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار رہنا چاہئے!

About yasir

Check Also

پاکستان آنے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے ایئرکرافٹ کیریئر کا دورہ کیوں کیا۔

امریکہ اپنے ڈومورکے مطالبے پر قائم ہے مگر دھیمے لہجے کے ساتھ، مائیک پومپیو یہ …