Home / Pakistan Army / پاکستان میں بھارتی اور امریکی خفیہ ایجنٹس کی موجودگی اور پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی کا کردار

پاکستان میں بھارتی اور امریکی خفیہ ایجنٹس کی موجودگی اور پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی کا کردار

پاکستان ایک ایسا اسلامی ملک ہے جہاں کئی ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں اپنے خفیہ ایجنٹس چھپائے بیٹھی ہیں ہر ملک اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہے پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق سات سے بارہ ملکوں کے خفیہ ایجنٹس پاکستان کو نقصان پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں جن کا مقابلہ پاکستان کے خفیہ ادارے کر رہے ہیں۔

پاکستان میں سب سے زیادہ جاسوس بھیجنے والا ملک امریکا ہے، امریکہ کئی سالوں سے پاکستان میں اپنے جاسوس بھیج رہا ہے، یہ جاسوس زیادہ تر پاکستان کے حساس علاقوں کے ارد گرد گھومتے ہیں، پاکستان میں ان جاسوسوں کی تعداد 2009 کے بعد کئی گناہ بڑھ گئی تھی اور بتایا جا رہا ہے آصف علی زرداری نے امریکیوں کو بغیر ویزہ پاکستان میں آنے کی اجازت دے رکھی تھی، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی خفیہ ادارے بلیک واٹر نے اپنے ہزاروں اہلکار پاکستان بھیجے جن میں سے ایک ریمنڈیوس بھی تھا۔
Balck water agents In Pakistan

پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں ان اہلکاروں سے پوری طرح باخبر تھیں اور ان کے پیچھے اپنے اہلکار لگا رکھے تھے، کی امریکی جاسوس پاکستان کی حساس جگہوں سے گرفتار ہوئے جنہیں بعد میں مار دیا جاتا تھا، کیونکہ انہیں مارنے کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، یہ جاسوس بہت زبردست ٹریننگ لے کر کسی ملک میں جاتے ہیں، پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کئی بار ان سے پاکستان سے متعلق خفیہ دستاویزات اور نقشے برآمد کیے۔ اگر ان خفیہ ایجنٹس کو چھوڑ دیا جاتا تو بہت سی معلومات ان کے دماغ میں محفوظ تھیں اور انھیں چھوڑنے پر وہ تمام تر خفیہ معلومات جو کہ وہ جان چکے تھے امریکہ کے حوالے کر دیتے۔

امریکیوں کو اس بات کا شک ہو گیا تھا کہ ہمارے خفیہ ایجنٹس مارے جا رہے ہیں مگر اس حوالے سے امریکا بے بس تھا، کیونکہ وہ سب خفیہ ایجنٹ بنا پاسپورٹ کے پاکستان میں آزادانہ گھوم رہے تھے لیکن جب ریمنڈ ڈیوس پکڑا گیا تو میڈیا کی وجہ سے یہ واقعہ خفیہ نہیں رکھا جا سکا، جس کے بعد پاکستان کی پولیس نے ریمنڈ ڈیوس کو حراست میں لے لیا امریکی دباؤ میں آکر اسے امریکہ کے حوالے کر دیا، ریمنڈ ڈیوس کی لکھی ہوئی کتاب کے مطابق اس کی مدد پاکستان کی حکومت اور خاص طور پر پنجاب کی حکومت نے کی تھی۔
Pakistan Gov Helped Raymond Davis

اصل میں ریمنڈ ڈیوس کو ایک عرصے سے آئی ایس آئی اپنی نظر میں رکھے ہوئے تھی اور ریمنڈ ڈیوس کو اس بات کا خدشہ ہو چکا تھا اسی خدشے کی وجہ سے بوکھلاہٹ میں اس نے بھرے بازار میں دو معصوم پاکستانیوں کو قتل کردیا تھا، شاید ریمنڈ ڈیوس ان دو پاکستانیوں کو جو کہ اس کے ہاتھوں قتل ہوئے کو آئی ایس آئی کے اہلکار سمجھ بیٹھا تھا۔

امریکیوں کو جب پتا چلا کے ان کے خفیہ ایجنٹس پاکستان میں لاپتہ ہو رہے ہیں تو انھوں نے پاکستان کے عہدے داروں سے بات کی اور دباؤ ڈالا مگر پاکستان کی طرف سے لاعلمی ظاہر کی گئی، امریکی زیادہ واویلہ نہیں بچا سکتے تھے وہ صرف یہی کہتے کہ ہماری ٹورسٹ پاکستان میں لاپتہ ہیں، اگر امریکہ یہ کہتا کہ ہماری جاسوس یا پھر ایجنسیوں کے اہلکار گم ہیں تو دنیا میں اچھا پیغام نہ جاتا اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیاں بدنام ہوتیں، امریکیوں کو یہ معلوم تھا کہ ان کے جاسوس مارے جارہے ہیں مگر امریکہ کچھ نہیں کر پا رہا تھا، اس بات کا غصہ امریکہ نے پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹ پر اپنے آپاچی ہیلی کاپٹر سے حملہ کرکے نکالا اس حملے میں پاکستان فوج کے 23 فوجی شہید ہوگئے تھے، اس واقعے کے بعد پاکستان امریکہ کے تعلقات کافی خراب ہو گئے تھے۔
America attack On Pakistan

اس کے علاوہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے بھارت کے کافی جاسوس مارے، ان سے خفیہ معلومات لے کر ان کو مار دیا جاتا تھا، مگر حالات بدل رہے تھے اور جنگ میدان سے چل کر میڈیا پر آ چکی تھی، آپ جانتے ہیں کہ بھارت اپنا ہر حادثہ آئی ایس آئی اور پاکستان کے زمہ لگا دیتا ہے، پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں بھی سمجھ چکی تھی کہ چپ چاپ مارنے سے بہتر ہے دنیا کے سامنے بھارت کو خوب ذلیل کیا جائے اور بھارت کی طرح نئی جنریشن کی جنگ لڑنی ہوگی۔

لہذا آئی ایس آئی نے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو پکڑ کر یہی کیا جو آجکل دشمن کے ساتھ کیا جاتا ہے، کلبھوشن کی وجہ سے دنیا کے سامنے بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی کا اصل چہرہ سامنے آیا، اور جو الزامات پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسیوں پر لگتے رہے وہ سب غلط ثابت ہوئے۔

Share This

About yasir

Check Also

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی …