Home / Pakistan Army / پاکستان بیک وقت تین جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں

پاکستان بیک وقت تین جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں

پاکستان دنیا میں سب سے بڑی جنگی لحاظ سے ایکٹیو سرحد رکھنے والا ملک ہے جو کہ 3600 کلو میٹر ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں آئیے آج ذرا اسکے بارے میں آپکو بتاتے ہیں.

پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین ہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے۔ جسکے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پرڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکٹرائین کے لیے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں ،پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ہے میں وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ہوگی. پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے.

آپ نے سنا ہوگا پاکستان آرمی کی “عظم نو “مشقوں کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ یہ مشقیں ہر چند سال بعد پاکستان ضرور کرتا ہے۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جسکے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ہے انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ہوگی باقی امریکن” ایف پاک ” ڈاکٹرائین کی زد میں ہے ۔

امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن پاکستان کے خلاف باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی تھی جس کو اب ڈونلڈ ٹرمپ آگے بڑھا رہے ہیں۔ جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی تھی۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن کے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج قبائیلی علاقوں میں حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

اس جنگ کے لیے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ہے۔ اسکے لیے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہوں کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لیے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو انکے خلاف ان وادیوں میں اترنا پڑا۔

پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جسکی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ہونا چاہئے۔ اسکی وجہ ایک تیسری جنگی ڈاکٹرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اسکو فورتھ یا ففتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ہے!!

فورتھ جنریشن وار ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوریاں پیدا کی جاتی ہے۔ مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے۔ معیشت کو تباہ کیا جاتا ہے۔ صوبائیت اور قوم پرستی کو ہوا دے جاتی ہے۔ لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے۔

اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، شام، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور شام پر آزمایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ہو چکی ہے خاص کر شام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں۔ باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائنگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے۔ افتخار چودھری نے اپنے دور میں جیو چینل میں انڈیا کی 200 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری کو درست قرار دے کر دشمنوں کے لیے یہ دروازہ کھول دیا تھا۔

اس وقت پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے, یہ واحد جنگ ہوتی ہے جسکا جواب فوج نہیں دے سکتی۔ فوج اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے۔ اسی جنگ کی بدولت پاک فوج کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل رہی نہ سول حکومتوں کی نہ ہی میڈیا کی اسلئے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اب تک اس جنگ کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور اسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں، علمائے کرام، دانشور اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں ان سب سے اب کوئی امید باقی نہیں اسلئے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا۔ آپ کے پاس سوشل میڈیا ہے جہاں آپ اس جہاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔

دشمن کے اس سارے حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام۔”ہر اس چیز کو رد کر دے جو اسلام، پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو”

انڈین کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا انحصار بھی ایف پیک اور فورتھ جنریشن وار کی کامیابی پر ہے.

About yasir

Check Also

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی …