Home / Pakistan Navy / پاکستان نیوی میں کمانڈوز اور چھوٹی آبدوزوں کا کردار

پاکستان نیوی میں کمانڈوز اور چھوٹی آبدوزوں کا کردار

پاکستان کے دفاع میں نیول کمانڈوز کا کردار انتہائی اہم ہے نیوی کے کمانڈوز کئی طرح سے نیوی کے لیے کام کرتے ہیں، وہ اپنی ڈیوٹی سطح سمندر کے علاوہ سمندر کی تہوں میں بھی دیتے ہیں، اس ڈیوٹی میں دشمن سے لڑنے کے علاوہ دشمن کی جاسوسی کرکے اُس کی دفاعی معلومات حاصل کرنا اور نقل وحرکت پر نظر رکھنا شامل ہے۔
Pakistan Naval Commandos

جاسوسی سطح سمندر پر ریڈاروں اور جہازوں کے ذریعے کی جاتی ہے جبکہ کمانڈوز سمندر کی گہرائیوں سے ہوتے ہوئے دشمن کے علاقے میں باآسانی دشمن کی جاسوسی کر سکتے ہیں،جاسوسی کرنے کے لئے کئی طرح کے وسائل استعمال ہوتے ہیں، کمانڈوز بغیر نظر آئے دشمن کی جاسوسی کے علاوہ باقی خفیہ آپریشن کرنے کے لیے دشمن کی سمندری حدود میں داخل ہوتے ہیں، دشمن کی سمندری حدود میں پہنچنے کے لئے نیوی کے کمانڈوز چھوٹی آبدوزیں استعمال کرتے ہیں۔
Pakistan New Submarine

یہ چھوٹی آبدوز کمانڈوز کو دشمن کی سمندری حدود کے نزدیک چھوڑ دیتی ہے,اس ایک آبدوز میں دو “Swimmer Delivery Vehicles” موجود ہوتی ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے نیوی کے کمانڈوز دشمن کے انتہائی نزدیک پہنچ سکتے ہیں اور غیر معمولی خفیہ آپریشن سرانجام دے کر انہی
“Swimmer Delivery Vehicles” کے زریعے کمانڈوز واپس آبدوز تک پہنچتے ہیں۔
Swimmer Delivery Vehicles

الحمد للہ پاکستان یہ چھوٹی آبدوزیں بھی خود بناتا ہے، پاکستان “MG110 Class Midget Submarine” بنتا ہے، پاکستان نے ان چھوٹی آبدوزوں کی ٹیکنالوجی اٹلی سے 1988 میں حاصل کی، پاکستان کی بنائی ہوئی ان آبدوزوں میں تورپیڈ فائر کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، اس کے علاوہ یہ آبدوزیں دشمن کے سمندری راستوں میں مائنز بچھانے کے بھی کام آتی ہیں، ایک آبدوز میں 8 نیوی کے کمانڈوز اور 2 “Swimmer Delivery Vehicles” یعنی سمندری گاڑیاں سما سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان مستقبل کے لیے ایسی چھوٹی آبدوزیں بنائے گا جو کہ اسٹیلتھ ہوں اور زیادہ جدید ہونے کے ساتھ ساتھ پوری طرح سے پاکستانی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بنائی گئی ہوں۔

Share This

About yasir

Check Also

پاک نیوی اور پاک فضائیہ کی طرف سے لانگ رینج اینٹی شپ کروز میزائل کا تجربہ

پاکستان نیوی اور پاک فضائیہ نے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں …