Home / Pakistan / انڈیا اور امریکہ پاکستان کے خلاف اپنا سب سے مضبوط پتہ کھو بیٹھے ہیں

انڈیا اور امریکہ پاکستان کے خلاف اپنا سب سے مضبوط پتہ کھو بیٹھے ہیں

سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے پاکستان ایک انتہائی مثالی دور میں داخل ہو چکا ہے جس کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ قوم میں اس حوالے سے ایسا جوش و جذبہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

عمران خان کے خلاف امریکہ اور انڈیا کا واویلا بے جا نہیں تھا۔ پاکستان میں خراب سول ملٹری تعلقات کو امریکہ اور انڈیا نے جتنا کیش کیا ہے شائد ہی کسی اور چیز کو کیا ہوگا۔ ہمارے سابقہ سولین حکمران اس کو خوب سمجھتے تھے اور بکنے میں کبھی نہیں ہچکچائے۔

ان سولین حکمرانوں کی حالت یہ تھی کہ محض پاک فوج کو دبانے کے لیے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری امریکہ کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوتیں دیتے نظر آئے۔ ن لیگ رانا افضل صاحب میڈیا پر اعلان کرتے نظر آئے کہ ” نواز شریف کو کچھ ہوا تو امریکہ پاکستان کو تورا بورا بنا دے گا” اور وزیراعظم ھاؤس میں وزیراعظم کی بیٹی اپنی ہی فوج کے خلاف سوشل میڈیا سیل چلاتی نظر آئیں۔

پاکستان میں سول ملٹری تعلقات پر جس قدر بھی تحقیقی کام ہوا ہے ، اس میں دو بنیادی باتیں سامنے آتی ہیں ۔ تمام محققین ایک تو اس بات پر متفق ہیں کہ سیاسی اور حکومتی امور میں فوج کی مداخلت کے اسباب میں ایک بنیادی سبب سیاست دانوں کی ناکامی ہے ۔ سیاسی حکومتیں ایک تو ’’ گڈ گورننس ‘‘ دینے میں ناکام رہی ہیں ۔ دوسرا سیاست دانوں پر کرپشن کے الزامات ہیں ۔ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت نہ صرف بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی ہیں بلکہ انہوں نے ہمیشہ عوام کی بجائے طاقت کے مراکز پر انحصار کیا ہے ۔ انہوں نے اپنی سیاسی جماعتوں کو بطور سیاسی ادارہ مضبوط نہیں ہونے دیا ہے ۔ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا الزام فوج پر لگاتے رہے۔

لیکن عمران خان ایک بہت مختلف سولین حکمران ثابت ہو رہا ہے جس کے بعد اب حالات بدلتے نظر آرہے ہیں۔ حالیہ امریکی سول اور ملٹری قیادت سے ریاست پاکستان کی قیادت کے وزیراعظم آفس میں مزاکرات۔ایک پیغام پاکستان کے مفادات سب سے پہلے’ پر سب نے بیک زبان موقف اپنایا۔ نہ امداد مانگی نہ ہاتھ پھیلایا۔ نہ امریکہ پاکستان کو ‘ڈومور’ کا پیغام دے سکا۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا امریکی وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ملکی موقف کا دفاع میری ذمہ داری ہے۔ ہم نے امریکا کے سامنے حقیقت پسندانہ موقف نہایت بردباری، خودداری اور ذمہ داری سے پیش کیا۔ آج کی نشست سے یہ پیغام گیا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا نے افغانستان کے معاملے پر اپنی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا، ڈومور نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا تاثر دیا ہے، امریکا اب اس نتیجے پر پہنچا کہ افغانستان کا حل سیاسی ہے۔ سول ملٹری تعلقات میں بہتری کے بعد انڈیا اور امریکہ پاکستان کے خلاف اپنا سب سے مضبوط پتہ کھو بیٹھے ہیں۔ اس کے اثرات اب دہشت گرد کے خلاف جنگ، پاک افغان تعلقات، کشمیر اور پانیوں کے معاملات پر نظر آئیں گے۔

اب شائد وہ سارے ثبوت بمع کل بھوشن کے عالمی برداری کے سامنے رکھے    جائیں جو پاکستان انڈیا اور افغانستان کی پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے اب تک جمع کر چکا ہے۔ اب شائد پاک افغان سرحد پر باڑ اور افغانیوں کی باعزت واپسی کے لیے سول حکومت بھی پاک فوج کے ساتھ تعاؤن کرے۔ کشمیر پر اب پاکستان سے ایک مضبوط آواز اٹھے گی۔ اور پاکستان کے پانیوں پر اب انڈیا مزید اللے تللے نہیں کر سکے گا۔

” پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان تعلقات میں عدم توازن کی بات ایک ’’وہم یا غلط عقیدہ‘‘ (Myth) ہے۔” یہ بات وزیر اعظم عمران خان نے اگلے روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہداء کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن کا غلط تاثر پیدا کیا گیا ۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے کوئی بڑا تصادم ہو رہا حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ دونوں متفق ہیں اور دونوں کا مقصد یہ ہے کہ مل کر پاکستان کو ایک بار پھر عظیم ملک بنایا جائے ۔

وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین یہ الزام لگاتے ہیں کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ خصوصاََ فوج کی حمایت حاصل ہے ۔ اگر مخالفین کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ سول ملٹری تعلقات کے ایک نئے اور خوشگوار دور کے آغاز کا یہ بہترین موقع ہے بشرطیکہ سویلین حکومت بہتر کارکردگی اور اچھی حکمرانی کا مظاہرہ کرے۔

امید ہے کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں بہتری اس ساری تباہی کو ریسورس کر دے گی جو ہمیں پچھلے تین عشروں میں نظر آئی۔

تحریر شاہدخان

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

جنگ ستمبر لاہور محاذ کے آخری مناظر کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی زبانی

بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئس کرار نے 23 ستمبر …

error: Content is protected !!