Home / Pakistan / کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

کن کن محاذوں پر ملک کا دفاع ضروری ہو چکا ہے

جہاں پاکستان کے دفاع کی بات آتی ہے تو یہ دفاع صرف اور صرف میدان جنگ کے حوالے سے نہیں ہوتا یہ دفاع ہر سطح پر ہم کرنا جانتے ہیں، جہاں پاکستان کو دشمنوں کی میلی نظروں سے بچانا ہے وہیں اس پیارے ملک پاکستان کے اندرونی مسائل کو حل کرکے اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے۔

جہاں پاکستان کے اندرونی مسائل کی بات ہو تو وہاں میڈیا کے کردار پر بھی نظر جاتی ہے، جو کہ زیادہ تر منفی رہا ہے، کسی بھی ملک کا میڈیا اداروں کی کوتاہیوں کو سامنے لاتا ہے تاکہ وہاں کی حکومت جلد از جلد ایکشن لے۔ کیونکہ جب کسی ملک کے ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو مظبوط ادارے ملک کو مضبوط کرتے ہیں۔

جہاں ہماری حکومتوں کو بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے وہیں میڈیا کو بھی اپنا کردار ٹھیک کرنا ہوگا، مثال کے طور پر جیسے کہ حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں، تو اسی پیج پر میڈیا کو بھی آنا ہوگا، یہاں ایک دوسری مثال دینے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ جیسے وزیراعظم نے ملک میں ڈیم بنانے کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے شروع کیے تو میڈیا نے بھی اس میں حصہ لیا اور عوام کو ڈیموں کی اہمیت بتائی، انہیں ڈیمز کی تعمیر کے لیے قائم کردہ اکاؤنٹ میں پیسہ بھیجنے کا طریقہ کار بتایا۔

میں ایک عرصے سے نیوز چینلز پر کچھ پروگرامز بہت شوق سے دیکھتا ہوں، جن میں سرفہرست “سر عام” ہے, جو کہ اے آر وائی نیوز پر نشر ہوتا ہے، اسی طرح کے دوسرے پروگرامز بھی اے آر وائی نیوز کے علاوہ دوسرے نیوز چینلز پر نشر کیے جاتے ہیں۔ یقین کیجئے کے سرعام جیسے پروگراموں کی بے حد ضرورت ہے، کیونکہ یہ پروگرام حکومتی اداروں کے علاوہ پرائیویٹ اداروں میں موجود کرپشن، لاپرواہی اور دوسرے جرائم کو سامنے لاتا ہے۔

اس پروگرام کے میزبان محترم اقرارالحسن ہیں، جس طریقے سے اقرارالحسن کام کرتے ہیں یوں لگتا ہے کہ یہ انسان واقعی میں ان اداروں کو ٹھیک کرنا چاہتا ہے نہ کہ حکومت پر تنقید کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اور ان جیسے باقی لوگوں کو جو کہ ملک کی بقا کے لیے کام کرتے ہیں انہیں حکومت کی طرف سے شاباشی ضرور ملنی چاہیے۔

ہمارے ملک میں دہشت گردی عام تھی، جس سے پاکستان کا ہر شہری خوفزدہ رہتا تھا، دہشتگردی ایک ایسا ایشو تھا جسے ختم کرنے کے لئے فوج کو حکومت کا ساتھ چاہیے تھا، مگر پچھلی حکومت اس معاملے پر سنجیدہ نہیں تھی، اور اس بات کا اندازہ اس وقت لگایا گیا جب اقرار الحسن نے ریلوے کو استعمال کرتے ہوئے کچھ اسلحہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا، یہ اسلحہ بھیجنے کا مقصد دہشت گردی کروانہ نہیں تھا بلکہ ریلوے جیسے بڑے ادارے کو اپنی غلطی اور لاپرواہی کو ٹھیک کرنے کا موقع دینا تھا۔

مگر پھر کیا ہوا، ویسا بالکل نہیں ہوا جیسا ہونا چاہئے تھا، اقرارالحسن اور ان کی ٹیم پر وزیر ریلوے سعد رفیق نے کیس کردیا، اور وہ کافی عرصہ اس کیس میں الجھے رہے اور کام نہ کر سکے، بالآخر عدالت نے انہیں اس کیس سے باعزت بری کر دیا، حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ ان کے کام کرنے کا طریقہ کار ایسا ہی ہے، اگر میڈیا یہ سٹنگ آپریشن کرنے سے پہلے ہی کہتا کہ ریلوے میں لاپرواہی ہو رہی ہے تو کوئی بھی اس خبر پر کان نہ دھرتا، اسی لیے میڈیا نے ایسا کر کے ثبوتوں کے ساتھ ریلوے انتظامیہ کی مجرمانہ لاپرواہی دکھائی۔

خود سوچیں کے اگر واقعی اس ریل گاڑی میں بم بارود ہوتا تو کتنے لوگوں کی زندگیاں ختم ہو جاتیں، سینکڑوں زندگیوں کو بچانے کے لیے ایسے سٹنگ آپریشن کرنے پڑتے ہیں۔

اس کے علاوہ ملاوٹ شدہ اشیاء تیار کرنے والی فیکٹریوں کا خاتمہ نہایت ضروری ہے، بھارت باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت افغانستان کے ذریعے گٹکا تیار کرکے پاکستان بھیجتا ہے، تاکہ پاکستان کے نوجوان کینسر شروع کرنے والے اس گٹکے کو استعمال کریں، یہ ایک انتہائی خطرناک چیز ہے جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے، یہ نوجوان نسل کو تباہ کر دینے والی چیز ہے، یہ نہ صرف کینسر کی شروعات ہے بلکہ دماغ کو مفلوج کر دینے والا زہر ہے۔

اس کے علاوہ بھارت سے ادویات اور ایسی دوسری اشیاء درآمد کرنے پر پابندی ہونی چاہیے، اصل میں بھارت اپنی ادویات میں گائے کا پیشاب بھی استعمال کرتا ہیں۔ جس کا علم عام شہری کو نہیں ہے۔

یہاں ایک بار پھر میں اس بات کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ حال ہی میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہدایت پر شرجیل میمن جو کہ کرپشن کے کیس میں مجرم ٹھہرے ہیں کے خون کے ٹیسٹ کیئے گئے، جو کہ شراب پیتے پکڑے گئے تھے، کیونکہ شراب کی بوتلیں ان کے کمرے سے ملیں۔ ان بوتلوں کا بھی ٹیسٹ کیا گیا۔ مگر حیرانگی ہوئی جب ان ٹیسٹوں کی رپورٹ آئی، رپورٹ کے مطابق نا تو شرجیل میمن کے خون سے شراب کے اثرات ملے اور نا ہی ان بوتلوں میں شراب تھی۔

ایک بار پھر سرعام کی میزبان نے سندھ کی سرکاری لبارٹری پر جہاں یہ ٹیسٹ ہوئے تھے چھاپہ مارا۔ اور پھر وہ کچھ دیکھنے کو ملا جس کی توقع قطعاً نہیں کی جاسکتی تھی۔

اس پر یہ سوچ زہن میں آتی ہے کہ اگر شرجیل میمن کی رپورٹ غلط دکھائی جا سکتی ہے تو کتنے ہی بااثر لوگوں نے قتل ، ریپ اور ایسے جرائم کرکے اپنی رپورٹ تبدیل کروائی ہو گی، جس کے بعد وہ مجرم سزا سے بچ گئے ہوں گے اور ان کی جگہ کئی بے گناہ پھانسی چڑھ چکے ہوں گے یا پھر ساری زندگی کیلئے جیل میں سڑ رہے ہوں گے۔

یاد رہے یہ لیبارٹری سندھ میں ہے اور اسے ٹھیک کرنا سندھ حکومت کا کام ہے، اور یہاں سندھ حکومت کی نیت کا امتحان ہے، اس لیبارٹری کی مجرمانہ غفلت اور غیر معیاری ہونے کا ثبوت دکھا دیا گیا ہے مگر سندھ حکومت نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔

ایک احساس رکھنے والی حکومت کو اداروں کو ٹھیک کرنے کے لئے اداروں کی غلط کاریوں کی نشاندہی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ تنقید کی، تنقید اس وقت ہوتی ہے جب حکومت احساس کرنا چھوڑ دے، اور بےحس ہو جائے، جیسے کہ اس وقت سندھ حکومت کر رہی ہے۔

اگر ہر حکومت ایسے پروگراموں سے سبق سیکھے تو یقینی طور پر پورے ملک میں جرائم کا خاتمہ کرنے میں چند ماہ ہی لگیں، یہاں میڈیا کو بھی تلقین کرنے کی کوشش کروں گا کہ وزرا کے کارٹون بنا کر مزاق اڑانے کے بجائے، اپنا حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ میڈیا بھی ہمارا ہے، یہ ملک بھی ہمارا ہے اور اس میں موجود ادارے بھی ہمارے ہیں۔ ہم سب کو مل کر انہیں ٹھیک کرنا ہے اور ملک کا دفاع کرنا ہے۔ تا کہ ہمارا ملک صحت مند رہے۔ پاکستان زندہ آباد

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

جنگ ستمبر لاہور محاذ کے آخری مناظر کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی زبانی

بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئس کرار نے 23 ستمبر …

error: Content is protected !!