Home / Pakistan / مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان کے مقاصد اور مذاکرات کی اندرونی کہانی

مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان کے مقاصد اور مذاکرات کی اندرونی کہانی

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے پاکستان آنے سے پہلے امداد روکنا روایتی امریکی ہتھکنڈ ے ہیں جو پاکستان کے حوالے سے ناکام ہوچکے ہیں، دباؤ کے ذریعے انہوں نے پاکستان کو ڈرانے کی کوشش کی جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہوئے۔

امریکا کی پوز یشن اس وقت کافی کمزور ہے، جنگ وہ جیت نہیں سکے، پاکستان کی مدد کے بغیر امن نہیں لایا جاسکتا، پائیدار ایران کے خلاف نیا فرنٹ کھول دیا ہے، امریکن پالیسی میں مجھے لچک نظر آرہی ہے، امریکہ افغان جنگ کا خاتمہ لیکن افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے کیونکہ چین
سے ایک نئی سرد جنگ شروع ہوچکی ہے۔

وہ پاکستان کو مسئلہ سمجھ رہے ہیں، ہمارا کہنا یہ ہے کہ ہم معاملات حل کرانے کا حصہ بن سکتے ہیں اور انہوں نے اپنی سولہ سترہ سال کی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی، افغانستان سے انخلا کے حوالے سے اُنہیں کوئی حل نہیں مل رہا ، نہ کوئی جواب مل رہا ہے جو وہ اپنی پارلیمنٹ میں دے سکیں اور امریکا کی مسلسل کوشش ہے کہ وہ اپنے اوپر سے الزامات کی بونچھاڑ کو اتار پھینکے۔

دوحہ میں چند ہفتے پہلے امریکہ کی طرف سے افغان طالبان سے براہ راست گفتگو بھی کی گئی، افغانستان میں ریٹائرڈ ہونے والے امریکی صدر کے خاص جنرل جنرل نیکلسن نے آخری خطاب میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے، یہ اُن کی بنیادی لائن ہے اور امریکا کے مفادات اور مقاصد کے تناظر میں پاکستان کی پوزیشن علاقائی طور پر بہتر اور مضبوط ہے ۔

امریکی فوج کا مقصد جنگ لڑنا نہیں ہے، اُن کابنیادی مقصد انٹیلی جنس اور اپنے اڈے ہیں، اُن کا مقصد پاکستان، ایران، چین اور وسطی ایشیا کی ریاست جو روس سے قریب ہے اُن پر نظر رکھنا ہے، جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے کیونکہ چین سے ایک نئی سرد جنگ شروع ہوچکی ہے ،

ماضی کی غلطیوں سے ہمیں سیکھنا چاہیے،اس وقت امریکا کا بنیادی دوست ہندوستان ہے جس کو وہ چین کے مقابلے کے لئے تیار کر رہے ہیں، چین کو امریکی اپنا بنیادی حریف سمجھتے ہیں، ایشیا ء میں پاکستان کی اس لئے ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی لوکیشن بہت اہم ہے اور مسلم اُمہ کا سب سے اہم ملک ہے۔

افغانستان میں پائیدار امن کے لئے پاکستان کا ہونا لازمی ہے، جہاں تک آگے معاملات کو لے کر چلنا ہے پاکستان اور امریکا کو چاہیے ایک دوسرے سے سچ بولیں، پاکستان اُن کو واضح طور پر کہہ دے کہ ہم ہندوستان کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرے، پاکستان کے خلاف اور چین سے جو ہمارے تعلقات ہیں اُس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو دہشت گردی کو ختم کرنے میں ہم سب اکٹھے ہیں لیکن اُس میں سب ایک ہی پیج پر ہونے چاہئیں اور پالیسی برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

اصل ایشو امریکا کے لئے چین ہے افغانستان نہیں، انہیں چین پاکستان دوستی کھٹکتی ہے، اس میں ہندوستان اور امریکا کے مشترکہ تعلقات اور مفادات ہیں، ہم برابری کی بنیاد پر اچھے تعلقات رکھ سکتے ہیں، افغانستان میں امن قائم کرنا پاکستان، ایران، چین اور امریکا کی ضرورت ہے لیکن ہندوستان کی ضرورت شاید کچھ اور ہے ۔

رانا جواد کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت زیادہ خراب ہیں، گزشتہ دو سالوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بتدریج نیچے جارہے ہیں، لیکن امریکن سیکرٹری اسٹیٹ کا پاکستان میں آنا اور پاکستان کی عسکری اور سیاسی لیڈر شپ سے ملنا، اُن کے ساتھ امریکا کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسٹاف بھی تھے، سترہ رکنی وفد بھی تھا، اس لحاظ سے یہ بریک تھرو تو ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے سامنے اپنا نقطہ نظر بتانے کا موقع ملا،امریکا چاہتا ہے پاکستان افغانستان میں ڈیلیور کرے۔

امریکا سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان کے حالات ٹھیک نہیں تو پاکستان اس کا ذمہ دار ہے، پاکستان میں ایسے گروپ موجود ہیں لیکن پاکستان اس کا ہمیشہ سے انکار کرتا ہے اور ان کو بتاتا ہے کہ پاکستان نے قربانیاں دی ہیں، پاکستان کی آرمی اور عوام نے قربانیاں دی ہیں اور معاشی نقصان اس کے علاوہ ہے۔

بہرحال اس میٹنگ میں سخت باتیں متوقع تھیں، مگر شاید امریکی وزیر خارجہ اور جنرل کو اس وقت حیرانگی یا مایوسی ہوئی جب انہوں نے پاکستانی وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیرخارجہ کے تاثرات جانچے، جس کے بعد وہ چلتے بنے۔ پاکستانی لیڈر شپ نے اس میٹنگ میں امریکہ کو ایک خاموش پیغام بھی دیا، اور وہ خاموش پیغام یہ تھا کہ ہمیں امریکہ کا پیسہ نہیں چاہیے اور ہم امریکہ کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، پاکستانی لیڈر شپ کے چہروں پر مسکراہٹ عیاں تھی۔

اصل بات یہ ہے کہ پومپیو نے آنے سے پہلے یہ اشارہ دیا تھا کہ نئی حکومت نئے وزیراعظم کے ساتھ چاہیں گے کہ اپنا نقطہ نظر سے اُن کو آگاہ کریں اور مشترکہ مفادات نکالیں، انہوں نے مستقبل میں پروگریس کے لئے نہیں کہا کہ بلکہ انہوں نے جو مشکلات ہیں اُن کو حل کرنے کے لئے کہا، اُن کے بیانیہ سے اور یہاں کے حالات سے یہی لگتا ہے کہ گفتگو کا محور افغانستان کے حوالے سے پالیسی تھی اور امریکا کی جو پوزیشن ہے پاکستان کو افغانستان کے اندر امریکی افواج کی مدد کرنی چاہیے۔

اُسی پر فوکس رہا ہوگا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان پر جو دباؤ ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ مفاہمت کی جائے، اُن کو ٹیبل پر لایا جائے اس بات میں کس حد تک پیشرفت ہوئی ہے، افغانستان کے حوالے سےجو پاکستان کے خدشات ہیں کہ وہاں پر بھی دہشت گرد نیٹ ورک ہیں جو پاکستان میں آپریٹ کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ہندوستان کے حوالے سے بھی شکایات ہیں کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی افغانستان میں اثرورسوخ بڑھا رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ باور کروایا ہے کیونکہ پومپیو نے بھارت روانہ ہونے سے پہلے کہا تھا کہ عمران خان نے اُن کو یقین دلایا تھا کہ افغانستان کے اندر امن پاکستان کی پہلی ضرورت ہے، اس کے علاوہ وزیراعظم نے امریکہ کو یہ بھی باور کروایا کہ اب پاکستان پرائی جنگ میں شامل نہیں ہو گا، اس وقت پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا بھی وہاں موجود تھے۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

جنگ ستمبر لاہور محاذ کے آخری مناظر کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی زبانی

بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئس کرار نے 23 ستمبر …

error: Content is protected !!