Home / International / ترکی کا امریکہ کو بھرپور جواب – ترک معاشی جنگ اور آئی فون

ترکی کا امریکہ کو بھرپور جواب – ترک معاشی جنگ اور آئی فون

ترکی میں لاکھوں لوگ آئی فون استعمال کرتے ہیں. آئی فون بڑی تعداد میں امریکہ سے خریدا جاتا ہے. اس کے بدلے میں ترکی سے اربوں ڈالر امریکہ بھیجے جاتے ہیں. اس طرح ترکی میں آئی فون آتا ہے, اور ڈالر امریکہ جاتا ہے. اسکے برعکس, امریکہ سٹیل اور الومینیم ترکی سے منگواتا ہے اور ڈالر ادا کرتا ہے. دو سال سے امریکہ اور ترکی کے تعلقات خراب چلے آ رہے تھے.

حال ہی میں تعلقات مزید خراب ہو گئے. امریکی صدر نے ترکی کو قابو کرنے کے لئے ایک چال چلی. امریکہ نے ترکی سے اربوں ڈالر کی سٹیل اور الومینیم کی خریداری پر ٹیکس (ٹیریف) بڑھا کر دوگنا کر دیا. نتیجہ ترکی میں ڈالر کی قیمت میں 40% یکدم اضافہ ہو گیا . ڈالر کی قیمت ایک دم سے اس وقت بڑھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹر پر کہا کہ ہم خراب تعلقات کی وجہ سے ترکی کی معیشت کو نقصان دے رہے ہیں. اس بیان کے سامنے آتے ہی ڈالر %20 مہنگا ہوگیا.

ڈالر کی قیمت میں یک دم کثیر اضافہ سے ترکی میں ہر طرف افراتفری کا عالم ھے. ہمارے جو دوست کارخانوں میں کام کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ سب فیکٹریوں میں کام بند ہے. مالکان پریشانی اور غیر یقینی کی کیفیت میں ہیں. کیوں کہ جب انہوں دوسرے ممالک سے اپنی پروڈکٹ کی سپلائی کے آرڈر لیئے تھے اس وقت ڈالر سستا تھا جو کہ اب بہت مہنگا ہوگیا ہے.

آرڈر مکمل کرنے کے لئیے جو سامان دوسرے ممالک سے منگوانا ہے وہ اب مہنگا آئے گا مگر آرڈر کی قیمت ڈالر کی پرانی قیمت کے مطابق کم وصول ہوگی. اس وجہ سے منافع کے بجائے نقصان ہو گا. لہذا ہم نے کام ہی بند کر دیا ہے. فیکٹری مالکان کے ساتھ دوسری طرف دوسرے لوگ بھی غیر یقینی کی کیفیت میں رہے. ایک ترکش دوست کا کہنا ہے کہ اس مہینے میرے گھر گیس اور بجلی کا بل نہیں آیا.

گزشتہ ایک سال سے ہمیشہ مہینے کے شروع میں بل آجاتا تھا. مگر اس بار ایسا نہیں ہوا. یہ بھی تشویش رہی کہ شاید حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے. ڈالر کی قیمت بڑھنے لگی ہے, کتنی بڑھتی ہے, اس کے مطابق بل دے گی. صورتحال یہ ہوگئی تھی کے ہم ہر دو گھنٹے بعد ڈالر کا ریٹ چیک کرتے, اور معلوم ہوتا مزید مہنگا ہوگیا ہے.

اسکے بعد دستوں کو کال کر کے بتاتے. جن کے پاس ڈالر تھے وہ خوش ہوتے, جنہوں نے ڈالر میں ٹکٹ یا کچھ اور خریدنا تھا وہ پریشانی کا اظہار کرتے. ترکی کی حکومت نے امریکہ کے رویے کو کھلی معاشی جنگ قرار دیا.

امریکہ ترکی پر یہ معاشی دباؤ ڈال کر اسے مذاکرات کی میز پر لانا اور اپنی مرضی ترکی پر مسلط کرنا چاہتا تھا. مگر اچانک خبر آئی کے ترک صدر نے جوابی کاروائی کے طور پر آئی فون کی خریداری پر پابندی لگا دی ہے. ایسا کرنے سے ڈالر کی ترکی سے اخراج میں کمی آئی اور ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی.

ساتھ ہی قطر نے اعلان کیا کہ وہ 15 ارب09 ڈالر ترکی کی امداد کو بھیج رہا ہے. اس سے ڈالر مزید سستا ہوگیا. آئی فون پر اور دیگر زیرے غور اشیا پر پابندی سے دو دن میں حالت یہ ہوگئی کہ ترکی میں لوگ ڈالر فروخت کرنے لگے. ڈالر کی قیمت تیزی سے گرتی جا رہی ہے. مضبوط فارن پالیسی کی بدولت ترکی امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے میں کامیاب ہو سکا.

اگر قطر پر امریکی پابندیوں کے دور میں ترکی اسکی امداد نہ کرتا تو آج قطر بھی 15 ارب ڈالر کی خطیر رقم سے ترکی کی امداد نہ کرتا. مجھے قطر سے دوست بتا رہے ہیں کہ حکومت عوام سے اپیل کر رہی ہے کہ ترکی کی مصنوعات خریدیں اور ترکی معیشت کو فائدہ دیں.

اس آرٹیکل کو لکھنے کا مقصد مسلم دنیا کو بتانا ہے کہ ہم مسلمان ممالک چاہیں تو جس کو چاہے مرضی سبق سکھا سکتے ہیں، ہمارا عروج ہمارے ہی ہاتھوں میں خدا نے رکھا ہے، ہم مسلمان ممالک کو اتحاد کرنا ہوگا، اسی میں ہماری بقا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی بھی۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

نریندر مودی’ ٹرمپ اور مسلمان

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد کو بند اور …

error: Content is protected !!