Home / Pakistan / ڈیموں کی تعمیر میں آسانی پیدا کرنے کا بہترین فارمولا

ڈیموں کی تعمیر میں آسانی پیدا کرنے کا بہترین فارمولا

پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر جیسے کاموں کو حکومتیں ہاتھ نہیں ڈالتیں تھیں، کیونکہ ڈیموں کی تعمیر میں بہت سا پیسہ چاہیے ہوتا ہے اور ڈیم مکمل ہونے میں پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ سیاست دانوں نے اگلا الیکشن بھی لڑنا ہوتا ہے، مگر یہ کام اگلی نسلوں کے لئے سوچنا ہی پڑتا ہے، اس کام کے لیے نیک نیت ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے۔

اگر ہماری پچھلی حکومتوں میں سے کوئی سربراہ نے نیک نیت اور ایماندار ہوتا تو یقینی طور پر ڈیموں کی تعمیر کم ازکم شروع ہی کر دیتا، مجھے یقین ہے کہ اس کام کی شروعات اگر کر دی جاتی تو یہ قوم اسے مکمل کروانے میں ضرور مدد دیتی،

حال ہی میں پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس اہم مسئلے پر غور کیا اور ڈیموں کی تعمیر کے لیے فنڈ ریزنگ شروع کردی، مگر چونکہ پاکستان کی قوم نواشریف کے قرض اتارو ملک سنوارو جیسے ہتھکنڈوں سے ڈری ہوئی تھی اس لیے قوم نے بہت کم پیسہ ڈیموں کی تعمیر کے لیے قائم کردہ اکاؤنٹ میں چیف جسٹس کی اپیل کے بعد جمع کروایا۔

اس کے بعد الیکشن میں عمران خان کی پارٹی جیت گئی اور وہ وزیراعظم منتخب ہوگئے، چونکہ وزیراعظم عمران خان کو ایماندار انسان سمجھا جاتا ہے اور نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ دوسرے ممالک بھی انہیں قابل اعتماد انسان سمجھتے ہیں، نے چیف جسٹس کے اس نیک کام کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے اور ڈیموں کی تعمیر جیسے اہم کام کو سمجھتے ہوئے خطاب کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈیموں کی تعمیر کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور زیادہ سے زیادہ پیسے پاکستان بھیجیں۔

اس طرح نہ صرف ڈالر کی قیمت نیچے آئے گی بلکہ ڈیموں کی تعمیر میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو دوسرے ممالک میں جا کر فنڈ ریزنگ کرنے کی تلقین کی ہے، اس فنڈ ریزنگ کی مدد سے اربوں روپیہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اکٹھا کرکے پاکستان لایا جائے گا۔

میرے مطابق اب وقت ہو چکا ہے کہ پاکستانی قوم کو ڈیموں کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے، ان کے ذہنوں میں بٹھایا جائے کے پانی زندگی کی نشانی ہے، پچھلی حکومتیں اس عوام پر غیرضروری ٹیکس لادتی رہی ہیں مگر جواب میں اس قوم کو غیرضروری پروجیکٹس دیکھنے کو ملے۔

پاکستان کی قوم ایک عرصے سے موبائلوں کے ری چارج پر 25 فیصد ٹیکس دیتی آئی ہے جسے حال ہی میں چیف جسٹس نے ختم کیا اور اور اب سو روپے پر سو روپے کا ہی بیلنس ملتا ہے، میرے مطابق یہ ٹیکس ہر پاکستانی شہری کو ڈیم فنڈ ریزنگ کے طور پر دینا چاہیے۔ اور ہر سو روپے کے پیچھے تقریبا بیس روپے کٹوتی ہونی چاہیے اور وہ 20 روپے ہمیشہ کے لئے قائم کردہ ڈیموں کی تعمیر کیلئے بنائے کے بینک اکاؤنٹ میں جانے چاہیے۔

اس ٹیکس کی کٹوتی ڈیم کی تعمیر ہونے کے بعد بھی ہونی چاہیے، کیونکہ وقتاً فوقتاً ہر ملک کو نئے ڈیم بنانے کی ضرورت پڑتی ہے، اگر پاکستان کو آئندہ کبھی ڈیم بنانے کی ضرورت ہوگی تو اتنی رقم اس اکاؤنٹ میں پڑی ہوگی کے فوری طور پر ڈیموں کی تعمیر شروع کر دی جائے۔اس کے علاوہ پرانے ڈیموں کی صفائی کا کام بھی اسی پیسے کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔

ویسے بھی آج سے پہلے یہ پیسہ پچھلی حکومتیں زبردستی عوام سے لیتی رہی ہیں اور سیاستدان اس پیسے کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے ممالک میں اپنی جائیدادیں بناتے رہے۔ اب کم از کم اس عوام کو یہ تو پتہ ہو گا کہ ہر سو روپے میں سے اسکے 20 روپے اس کے مستقبل کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس عوام کو میری یہ تجویز قبول ہوگی۔

اسی طرح بجلی کے بلوں میں بھی غیرضروری ٹیکس مثال کے طور پر ٹیلی ویژن کا ٹیکس ختم کرکے ڈیم ٹیکس لگانا چاہیے۔ اور یہ ٹیکس 25 روپے فی بل ہونا چاہیے۔ یہ ٹیکس بھی ہمیشہ کے لئے قائم کر دینا چاہیے۔ کیونکہ جب عوام یہ ٹیکس دے گی تو اپنے حکمرانوں سے یہ بھی پوچھے گی کہ ہمارے ٹیکس سے کون کون سے ڈیم بنے اور کون کون سے بن رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 22 کروڑ عوام ہے جس میں سے چند لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ اور خاص طور پر امیر لوگ تو ٹیکس دیتے ہی نہیں، پاکستان کی اس حکومت کو ایسا نظام لانا ہوگا کہ اس ملک کا ہر فرد اس نظام پر اعتماد کرتے ہوئے ٹیکس دے۔ ہم عوام ٹیکسوں سے نہیں ڈرتے مگر ہمیں ٹیکسوں کی وصولی کا بہتر نظام اور رہنمائی چاہیے۔ بےشک قومیں اپنے بہتر مستقبل کے لئے ٹیکس دیتی ہیں اور اس پر فخر کرتی ہیں۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

جنگ ستمبر لاہور محاذ کے آخری مناظر کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی زبانی

بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئس کرار نے 23 ستمبر …

error: Content is protected !!