Home / International / مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے پیچھے بھیانک مشن

مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے پیچھے بھیانک مشن

بالاآخر گیرٹ ولڈرز نے گستاخانہ خاکے شائع کروا ہی دیے، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اضطراب بڑھ چکا ہے، ہر مسلمان کے یہی جذبات ہیں کہ کب موقع ملے اور گیرٹ ولڈرز کو اس غلیظ حرکت کی اسے سزا دی جائے۔

بظاہر ان خاکوں کو شائع کروانے کے پیچھے ایک انسان یا پھر ایک ملک ہے مگر ایسا نہیں ہے، آج میں ایک بہت بڑے اور خطرناک مشن سے جو کہ کفار نے مسلمانوں کے خلاف شروع کردیا ہے، پردہ اٹھاؤں گا۔

یہ بات ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے کفار کی دنیا کیا کچھ کر رہی ہے، اسلام کو دہشت گرد مذہب ثابت کرنے کے لیے کتنے بڑے بڑے مشن جاری کئے گئے، مگر دوسری طرف مسلمانوں کے بہتر رویے کی وجہ سے وہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جو امریکا حاصل کرنا چاہتا تھا۔

مثال کے طور پر نائن الیون کا واقعہ خود امریکی حکومت نے سرانجام دے کر اسلام کو بد نام کیا۔ مگر دوسری طرف دین اسلام اتنی ہی تیزی سے پھیلا جتنا اسے نشانہ بنایا گیا۔ اب یہی کفار دین اسلام کو پوری دنیا سے ختم کرنے کے لئے نئی چال چل چکے ہیں، گستاخانہ مواد شائع کرکے مسلمانوں کے دلوں میں آگ بھڑکائی جارہی ہے۔

ظاہر ہے اس وقت آپ بھی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ اگر گستاخانہ خاکے شائع کرنے والا آپ کے سامنے ہو تو آپ اس کی جان لے لیں گے۔ اور اگر کوئی مسلمان ایسا کرتا ہے تو اسکی طرف سے کی گئی کروائی کو دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔ جبکہ کسی دوسرے مذہب کا انسان کوئی غلیظ حرکت کرتا ہے تو پوری دنیا میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ یہ حرکت فرد واحد کی حرکت ہے۔

اس پر ایک زبردست مثال یہ ہے کہ حال ہی میں ایک امریکی طالب علم نے ٹیکساس کے سکول میں فائرنگ کرکے کتنی معصوم جانوں کو ضائع کیا جن میں ایک پاکستان کی ہونہار طالبہ بھی شامل تھیں۔ اس واقعے پر کس چینل کس میڈیا نے اس لڑکے کا مذہب جاننے کی کوشش کی؟ اس کی جگہ اگر کوئی مسلمان حق پر بھی قتل کر دیتا تو وہ دہشتگرد کہلاتا۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ گستاخانہ مواد شائع کرنے کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے۔

ایک حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں”، تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہوگے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوگے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں ”وہن” ڈال دے گا”، تو ایک شخص نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:” یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈرہے ”۔

جی ہاں ایسا ہی ہونے جا رہا ہے، کفار کی دنیا سب سے پہلے ہمارے جذبات مجروح کرے گی ہمیں کارروائیاں کرنے اور بدلہ لینے پر مجبور کیا جائے گا۔ جس کے بعد پوری دنیا کی نظر میں ہم ہی دہشت گرد ٹھہرائے جائیں گے اور ہم پر بے رحم ہتھیاروں سے حملے شروع کر دیے جائیں گے۔ مغربی ملک کی قومیں پوری طرح سے اپنی حکومتوں کے ساتھ ہوں گی۔ لہذا کفار فوجیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں گی۔

اس حدیث مبارکہ میں جو صورتحال بیان کی گئی ہے یہ اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے کچھ ایسا ردعمل آئے گا کہ ہر کافر یہی چاہے گا کہ بس کسی طرح مسلمان اور اسلام اس دنیا سے چلے جائیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں بطور مسلمان ایسا کیا کرنا چاہیے کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم سے سہی معنوں میں وفا نبھا سکیں۔ سب سے پہلے ہمیں ان پروڈکٹس کا بائیکاٹ کرنا ہوگا جو ہالینڈ کی پیدا کردہ ہوں۔ اس کے علاوہ اپنے ملک کی بنائی ہوئی اشیاء کو ترجیح دینا ہو گی۔ اگر آپ کو کوئی گستاخانہ خاکہ نظر آ بھی جائے تو یہ کوشش کریں کہ کسی اور مسلمان کی آنکھ وہ خاکہ نہ دیکھ پائے۔

ہم بطور مسلمان صرف اتنا ہی کرلیں تو ہم سے وہ ممالک نہ تو پیسا کما سکیں گے اور نہ ہی وہ سب کچھ ہمیں دکھا سکیں گے جو کچھ وہ ہمیں دکھانا چاہتے ہیں۔ یاد رہے اگر کوئی مسلمان وہ خاکے جانے یا انجانے میں بھی کسی سے شئیر کرتا ہے تو اس میں اور گیرٹ ولڈرز میں کوئی فرق نہ ہوگا۔

حکومت پاکستان بھی یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے جا رہی ہے اور انشاء اللہ کامیاب لوٹے گی۔ مغربی عوام کو بتایا جائے گا کہ ان خاکوں کی وجہ سے ہم پر کیا گزرتی ہے۔ لہذا ہمارے جذبات مجروح مت کیے جائیں۔ اور نہ ہی ایسے لوگوں کی پشت پناہی کی جائے جو اسلام سے بغض رکھتے ہیں۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

ترکی کا امریکہ کو بھرپور جواب – ترک معاشی جنگ اور آئی فون

ترکی میں لاکھوں لوگ آئی فون استعمال کرتے ہیں. آئی فون بڑی تعداد میں امریکہ …

error: Content is protected !!