Home / International / سٹنگر میزائل خود امریکہ کے خلاف کیوں نہیں چلا؟

سٹنگر میزائل خود امریکہ کے خلاف کیوں نہیں چلا؟

روس کی شکست کا باعث بننے والا سٹنگر میزائل امریکا کے خلاف افغانستان میں کامیاب کیوں نا ہو سکا؟

یہ ایک ایسا معمہ تها جس کا جواب کہیں سے بهی نہیں مل پا رہا تها کہ آخر ان سٹنگر میزائلز کا کیا بنا جو روس کے خلاف کامیاب استعمال کیے گئے لیکن امریکا کے خلاف انکی کوئی بهی کاروائی نظر نہیں آئی؟

سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ سٹنگر زمین    سے فضا میں مار کرنے والا ایک ہلکا ہتهیار ہے جس کا میزائل جہاز کے انجن کی گرمی کا پیچها کرتے ہوئے انجن کو تباہ کرتا ہے.

مجاہدین کو یہ میزائل 80 کی دهائی کے شروع میں ملنے شروع ہوئے اور جنگ ختم ہونے سے چند ماه پہلے امریکا نے مزید 1000 سٹنگر میزائل فراہم کیے تھے مگر یہ میزائل جنگ میں استعمال نا ہو سکے.جس کے باعث سی آئی اے نے یہ میزائل مجاہدین سے واپس خریدنے شروع کر دئیے لیکن امریکا صرف چند کے علاوہ کوئی بهی میزائل واپس نا لے سکا.اس پوری جنگ میں روس کو بهاری نقصان اٹهانا پڑا جو الگ داستان ہے.

چونکہ سٹنگر میزائل لانچر کی بیٹری سے منسلک ہوتا ہے اس لیئے بیٹری کے ایکسپائر ہونے کی معیاد ہوتی ہے.لیکن یہاں تو صورتحال ہی الگ تهی، مجاہدین کو جو سٹنگر فراہم کیے گئے انکے لائف 10 سے 12 سال تهی، یعنی اس عرصے کے بعد یہ میزائل ایکسپائر ہو جاتے تهے.(اس چال سے امریکی چلاکی عیاں ہے).

 لیکن افغانستان پر حملے سے پہلے امریکا پورا انتظام کر چکا تها. اس نے اپنے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں پر فلئیر کاونٹر مئیر سسٹم لگائے جو کہ سٹنگر میزائل کو اپنی پیدا شدہ گرمی(ہیٹ) کی وجہ سے رستے میں ہی تباہ کر ڈالتے ہیں.روس کے تباہ شدہ ہیلی کاپٹرز میں یہ دفاعی نظام نہیں تها. جہاز سے نکلنے والا فلیئر سٹنگر سے ٹکرا کر اسے بے کار کر دیتا ہے.

امریکا نے افغانستان پر زیادہ تر رات کے اندهیرے میں فضائی حملے کیے. چونکہ سٹنگر میزائل کے ساتھ ٹیلی سکوپ یا رات میں دیکهنے والے آلے فراہم نہیں کیے گئے تهے جس کے باعث میزائل کا آپریٹر حملہ آور جہاز کی پوزیشن دیکهنے سے محروم رہا.

اس کے ساتھ ہی امریکا کے لڑاکا طیاروں نے فضائی حملے 10 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر رہتے ہوئے کیے. سٹنگر میزئل کم بلندی تک مار کرنے والا میزائل ہونے کے باعث ناکام رہا. لیکن اس کے ساتھ ہی سٹنگر میزائل نے کچھ کامیابی بهی حاصل کی. جسے امریکا نے دبانے کی پوری کوشش کی۔

مثال کے طور پر 2007 کے شروع میں ایک “CH-47 Chinook” ہیلی کاپٹر جو کہ کمانڈوز کو اتار کر واپس آرہا تها.سٹنگر میزائل کا نشانہ بنا.جس میں 7 امریکی و برطانیوی کمانڈوز جہنم واصل ہوئے. اس واقعے سے تهوڑے عرصے بعد ایک دوسرا ہیلی کاپٹر بهی سٹنگر کا نشانہ بنا جس میں 30 امریکی کمانڈوز مارے گئے.

امریکا نے ان دونوں حملوں کی تباہی کا ذمہ دار آر پی جی کو قرار دیا لیکن افغانستان میں موجود امریکی نمائندوں نے اس جهوٹ کا پردہ فاش کر ڈالا. سٹنگر میزائل نے امریکیوں کو انتہائی اضطراب میں مبتلا تب کیا جب امریکا کے بنے آپاچی ہیلی کاپٹر پر بهی سٹنگر میزائل سے حملہ ہوا لیکن بروقت فلیر چهوڑنے کے باعث ہیلی کاپٹر محفوظ رہا.

اس کے ساتھ ہی کوئی 11 ہزار فٹ کی بلندی پر ری فیولنگ کرنے والا سی- 130 بهی سٹنگر کے خطرے سے دوچار ہوا لیکن زیادہ بلندی پر ہونے کے باعث بچ گیا.

اس کے علاوہ بهی کئی واقعات گزرے لیکن سٹنگر میزائل کسی بهی امریکی جہاز کو گرانے میں ناکام ہی رہا. یاد رہے سٹنگر سے تباه ہونے والے ہیلی کاپٹرز کا ذمہ دار بهی پاکستان کو سمجها جاتا رہا ہے.امریکا کے بقول یہ چند جدید مین پیڈ میزائل پاکستانی ساختہ تهے جو کہ ہیلی کاپٹرز کو مار گرانے میں استعمال ہوے.

آخر پر ایک دلچسپ بات بهی جان لیں کہ سٹنگر ایک ایسا میزائل ہے جس میں ریڈار نہیں ہوتا.اس کے باعث اسے جام نہیں کیا جاسکتا. اسی خاصیت کے باعث (چند خاص حالات میں) یہ کسی سٹیلتھ طیارے کو بهی مار گرا سکتا ہے.

تحریر: سعید غالب

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

بھارت کی خفیہ جنگی تیاری یا پھرخوف کا سدباب

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ بھارت بڑی تعداد میں …

error: Content is protected !!