Home / Pakistan / پاکستان میں کیسے تباہی مچائی گئی

پاکستان میں کیسے تباہی مچائی گئی

دس سالوں کے دوران آصف علی زداری اور میاں محمد نواز شریف کے ہاتھوں پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ۔

بیرونی قرضے:

آصف زرداری کے پانچ سالوں میں بیرونی قرضہ 34 ارب ڈالر سے 59 ارب ڈالر تک پہنچا۔ آصف زرداری نے پاکستان کو 25 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔

نواز شریف کے دور میں بیرونی قرضہ 59 ارب ڈالر سے 93 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یوں نواز شریف نے پانچ سال کے دوران پاکستان کو 34 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ نواز و زرداری نے ملکر صرف 10 سال کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کو 59 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ جب کہ اس سے پہلے کے 60 سالوں میں پاکستان کل 34 ارب ڈالر کا مقروض تھا۔ زرداری نے نواز شریف کی نسبت کم بیرونی قرضہ اس لیے لیا کہ آصف علی زرداری ایک “فوجی آمر” کے فوراً بعد حکمران بنا تھا اور اس کو قومی خزانہ بھرا ہوا ملا تھا۔ اس کا زیادہ تر پیٹ اسی سے بھر گیا تھا۔

دیگر قرضے و واجبات:

پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آکر تقریباً 6000 ارب روپے کے اندرونی قرضے لیے اور یوں ان قرضوں کا حجم 9306 ارب روپے تک پہنچا دیا۔ نواز شریف کے پانچ سالوں میں یہ قرضے 16000 ارب روپے کا ہندسہ عبور کر گئے۔ یوں نواز شریف نے اندرونی طور پر پاکستان کو تقریباً 6700 ارب روپے کا مقروض کیا۔

60 سال کے دروان جو قرضے 3000 ارب روپے کے لگ بھگ تھے وہ ان دو شیر جوانوں نے صرف 10 سال میں 16000 ارب روپے تک پہنچا دئیے اور یوں ان میں 12000 ارب روپے اضافہ کیا جس کا مطلب دس سالوں کے دوران ان قرضوں کو پانچ گنا بڑھا دیا۔ جب مشرف گیا تو ایک پاکستانی تقریباً 40،000 روپے کا مقروض تھا۔ زرداری گیا تو ہر پاکستانی 80،000 روپے مقروض ہوچکا تھا اور نواز شریف ہر پاکستان کو 145،000 روپے کا مقروض کر کے گیا ہے۔

تجارتی خسارہ:

جس وقت پرویز مشرف جا رہا تھا اس وقت پاکستان کا کل تجاری خسارہ 373 ارب روپے تھا۔ آصف زرداری کے دور میں مجموعی تجارتی خسارہ جمپ لگا کر 1441 ارب روپے تک پہنچا۔ اور نواز شریف کے موجودہ دور میں یہ تجاری خسارہ بڑھ کر ریکارڈ 3276 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

زرداری اور نواز شریف نے پاکستان کا کل تجارتی خسارہ 373 ارب روپے سے بڑھا کر 3276 ارب روپے کر دیا۔ یعنی دس سال میں تجارتی خسارے کو 10 گنا بڑھا دیا۔ اس ریکارڈ تباہی کی بڑی وجہ پاکستان کی صنعت و زراعت کی تباہی ہے۔ صرف نواز شریف کے پانچ سالوں میں کم از کم 500 انڈسٹریاں بند ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے اپنے کارخانے بنگلہ دیش منتقل کر دئیے۔

روپے کی قدر:

پرویز مشرف 61 روپے کا ڈالر چھوڑ کر گیا, زرداری دور میں روپے کی قدر کم ہوتی چلی گئی۔ جب زرداری کی حکومت ختم ہو رہی تھی تو ڈالر 100 روپے کا تھا۔ نواز شریف کی حکومت میں اسحاق ڈار نے روپے کی قدر مستحکم رکھنے کا اعلان کیا لیکن تمام تر دعوے جھوٹ ثابت ہوئے اور ان کی حکومت ختم ہوتے ہوتے ڈالر کی قیمت 121 روپے ہوچکی تھی۔ یعنی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر جتنی 60 سال کے دوران گری تھی ان دونوں صاحبان نے اتنی صرف 10 سال میں گرا دی۔

بیرونی سرمایہ کاری:

مشرف دور میں پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 6000 ملین ڈالر کا ہندسہ چھو رہی تھی۔ آصف زرداری کے دور میں یہ سرمایہ کاری کم ہو کر صرف 800 ملین ڈالر رہ گئی۔

نواز شریف کے موجودہ دور میں یہ براہ راست سرمایہ کاری مزید کم ہوکر صرف 197 ملین ڈالر رہ گئی۔ کچھ لوگ سی پیک کے لیے کی جانی والی چینی سرمایہ کاری کا کریڈٹ نواز شریف کو دیتے ہوئے اس کو بھی بیرونی سرمایہ کاری میں شامل کرتے ہیں حالانکہ اس کا بڑا حصہ قرض ہے جس کا بھاری بھرکم سود الگ سے دینا پڑے گا۔ سی پیک پر الگ سے آگے بات ہوگی۔

قومی ادارے:

سٹیل مل نے آخری بار پرویز مشرف کے دور میں منافع کمایا تھا۔ تاہم پچھلی حکومتوں کا خسارہ سٹیل مل کے سر پر ابھی باقی تھا۔ اس لیے 2008/9 میں سٹیل مل کا مجموعی خسارہ 16.9 ارب روپے تھا۔

اس کے بعد آصف زرداری آیا جس نے پاکستان سٹیل مل کی صحیح معنوں میں تباہی کی بنیاد رکھی۔ سٹیل مل میں کل 9000 ملازمین کی گنجائش ہے۔ آصف زرداری کے پانچ سالہ دور میں سٹیل مل میں پیپلز پارٹی کے 8000 مزید بندے زبردستی گھسیڑے گئے یوں سٹیل مل ملازمین کی کل تعداد 17000 کر دی گئی۔ جس کے بعد صرف پانچ سال میں سٹیل مل کا کل خسارہ 118.7 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

نواز شریف کے دور میں بھی اس عظیم قومی اثاثے کی تباہی کا عمل اسی تیزی سے جاری رہا اور کل خسارہ 200 ارب روپے کا ہندسہ عبور کر گیا۔ یوں مجموعی طور پر زرداری و نواز شریف نے ملکر سٹیل کا خسارہ 16 ارب سے 200 ارب تک پہنچا کر اس میں 13 گنا اضافہ کیا، نواز شریف حکومت نے سٹیل مل کو مفت دینے کی انوکھی پیشکش بھی کر رکھی ہے، ریلوے کی تباہی اور خسارے کا عمل صحیح معنوں میں ذولفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوا۔

پیپلز پارٹی کی آخری حکومت میں زرداری صاحب نے ریلوے کی وزارت غلام احمد بلور جیسے ٹرانسپوٹر کو دے کر صحیح معنوں میں ریلوے کا بیڑا غرق کیا۔ غلام احمد بلور نے تیزی سے ٹرینوں کی تعداد کم کرنی شروع کر دی۔ نواز شریف حکومت نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا اور 220 میں سے 120 ٹرینوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر آپ 2008ء تا 2018ء بند ہونے والی بوگیوں کا جائزہ لیں تو آپ پتہ چلے کہ ان میں ان دس سالوں میں 55 فیصد کمی آچکی ہے۔

زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ان ٹرینوں کو بھی بند کیا گیا جو منافع میں جا رہی تھیں۔ مثلاً کراچی سے روانہ ہونے والی عوام ایکسپریس 2008ء میں 19 بوگیوں اور آج بھی 19 بوگیوں پر مشتمل ہے، شالیمار ایکسپریس جو کراچی سے لاہور تک جاتی ہے، کو خسارے میں شمار کرکے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، حالانکہ اس ٹرین کا شمار پاکستان کی نفع بخش ٹرینوں میں ہوتا تھا۔ 2008ء میں شالیمار میں اے سی، لوئراے سی اور پارلر کار کے4 ڈبے شامل تھے۔

مگر 2010ء میں ان چاروں ڈبوں کو ختم کرکے صرف اکانومی کلاس کے 14 ڈبے رکھے گئے، جس سے 30 فیصد نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح ملک کی قدیم ترین ٹرین ’’تیزرو ایکسپریس‘‘ کو بھی نقصان دہ قرار دے کر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ ٹرین کراچی سے پشاور تک سفر کرتی تھی اور اس میں ہر روز اوسطاً تین سے چارہزار تک افراد سفر کرتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ٹرین کی آمدنی 2008ء میں روزانہ 18 لاکھ سے 22 لاکھ روپے، جبکہ اخراجات 10 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تھے اورالمیہ دیکھیے کہ تیز رو کو خسارے میں ظاہر کرنے کے لیے اس کی بوگیاں اٹھارہ سے کم کرکے صرف پانچ کردی گئیں۔

ریلوے ذرائع کے مطابق ریلوے میں موجود کرپٹ عناصر فنی طریقے سے منافع بخش ٹرینوں کو خسارے میں ڈالتے ہیں، اس کے بعد انہیں بند کردیا جاتا ہے۔ ٹرینوں کو خسارے میں ڈالنے کے لیے پہلے ان کی حالت خراب کی جاتی ہے، پھر ان کی بوگیاں کم کی جاتی ہیں اور اسی دوران کرایوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے مسافروں کی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے اور پھر خسارہ یقینی ہے۔ ان لوگوں کے مطابق ریلوے کو تباہ کرنے کے لیے ان عناصر کو سابقہ دونوں حکومتوں کی آشیر باد حاصل رہی۔

خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کی کمائی مصنوعی طریقے سے زیادہ ظاہر کرنے کے لیے ریلوے کے کرائے دو سے تین گنا بڑھا دئیے اور اسی کو اپنی کارگردگی ظاہر کرتا رہا۔ اس وقت ریلوے کا سالانہ خسارہ 50 ارب روپے سے اوپر ہوچکا ہے۔ پی آئی اے ایوب خان کے آمرانہ دور میں دنیا کی نمبر ایک ائر لائن تھی۔ لیکن آج اس پی آئی اے کا کیا حال ہے؟

پی آئی اے حکام کے مطابق قومی ائیرلائن کا پی آئی اے کا خسارہ 406 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جب کہ اس کے مجموعی اثاثے 111 ارب روپے کے ہیں۔ زرداری دور میں پی آئی اے میں بے شمار لوگوں کو زبردستی گھسیڑا گیا جبکہ نواز شریف دور میں پی آئی اے کا چیرمین ایک نااہل ترین شخص کو لگایا گیا۔

اس وقت پی آئی اے کے پاس 14500 کا عملہ ہے جو عالمی ہوابازی کے اصولوں کے مطابق 125 طیاروں کےلیے کافی ہے؛ جبکہ پی آئی اے کے پاس اپنے اور لیز پر لیے گئے طیاروں کی مجموعی تعداد 38 ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیر انچارج ہوابازی نے تحریری بیان جمع کرایا کہ سکروٹنی کے دوران پی آئی اے 659 ملازمین کی ڈگریاں جعلی نکلیں۔ اس پر 391 افراد کو نوکریوں سے برطرف کردیا گیا۔251 کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ 17 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارورائی ہورہی ہے۔

پی آئی اے کی اس تباہی پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے چند دن پہلے بیان دیا کہ ” پی آئی اے کو خسارہ آخری دوحکومتوں کے دور میں ہوا” مشرف دور تک پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 73 ارب روپے تھا جو زرداری اور نواز شریف نے ملکر 406 ارب روپے تک پہنچا دیا اور اس میں صرف دس سال کے دوران 6 گنا اضافہ کیا۔

صنعتی اور ذرعی تباہی:

زرداری و نواز شریف زراعت و خوراک کے حوالے سے کس قدر سنجیدہ تھے اس اک اندازہ اس بات سے کیجیے کہ انہوں نے وزارت زراعت وخوراک ہی ختم کردی۔ دنیامیں شاید پاکستان واحد ملک ہوگا جس میں یہ وزارت نہیں۔ امریکہ جو کہ ایک صنعتی ملک ہے وہاں بھی وزارت زراعت ہے اور اسکا بجٹ پاکستان کے ٹوٹل بجٹ سے زیادہ ہے۔ نواز و زرداری کے دور میں پاکستانی زراعت کی جو تباہی ہوئی اس کے لیے صرف کپاس کی مثال لینا کافی رہے گا۔ جو پاکستان کی تین اہم ترین فصلوں میں سے ایک ہے۔

کپاس کی فصل پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے کیونکہ اسی فصل پر پاکستانی کی سب سے بڑی انڈسٹری “ٹیکسٹائل انڈسٹری” انحصار کرتی ہے، پاکستان کی تاریخ میں جنرل ضیاء کا دور کپاس پیدوار کے لیے مشہور رہا جس کو کپاس کی پیداوار کا جادوئی دور کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والے جمہوری ادوار میں یہ پیدوار بتدریج کم ہوتی چلی گئی۔

مشرف دور میں دوبارہ حالات کچھ بہتر ہوئے بلکہ 2004 میں پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کپاس کی فصل پیدا کی جو 1 کروڑ 13 لاکھ گانٹھوں پر مشتمل تھی، مشرف کے بعد کپاس پر دوبارہ زوال آیا اور زرداری و نواز شریف کے ادوار میں یہ پیدوار گھٹتے گھٹتے 70 لاکھ گانٹھوں پر آگئی، اس کا بہت برا اثر پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پڑا اور پاکستان کی اکثر انڈسٹریاں بند ہوگئیں جس کا مختصر تذکرہ آگے آئیگا۔

دنیا میں کپاس کو برآمد کرنے والا پاکستان کپاس خریدنے پر مجبور ہوگیا۔ ضیاء دور میں سالانہ اربوں ڈالر کپاس کی برآمد سے کمانے والا پاکستان اس وقت سالانہ 70 ارب روپے کی کپاس خریدنے پر مجبور ہے۔ کچھ ایسا ہی حال دیگر تمام فصلوں کا بھی ہے۔ اس کی وجوہات بڑی سادہ سی ہیں

دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ سبسڈی کسانوں کو دی جاتی ہے۔ زرداری کی دور میں پاکستان غالباً پہلا ملک بنا جس میں کسانوں کو سبسڈی دینے کے بجائے ان پر بھاری ٹیکس عائد کیا گیا جس نے پیدواری لاگت اتنی بڑھا دی کہ کسانوں کے لیے فصلیں پیدا کرنا فائدہ مند نہ رہا۔ نواز شریف کے دور میں بھی یہ ظالمانہ پالیسیاں جاری رہیں جس کے خلاف پہلی بار کسانوں نے اسلام آباد آکر احتجاج کیا اور پولیس سے خوب ڈنڈے کھائے۔ پاکستان میں فصلوں کی پیداواری لاگت اتنی بڑھ گئی کہ ان کے مقابلے میں انڈیا سے لائی گئی اجناس سستی پڑنے لگیں۔

دوسری جانب نواز و زرداری مسلسل انڈیا سے یک طرفہ طور پر تجارت بڑھانے یا دوسری لفظوں میں انڈیا کو پاکستانی منڈیوں تک رسائی دینے کی کوششیں کرتے رہے جس نے پاکستانی کسانوں کو برباد کر کے رکھ دیا، پیداوار میں کمی کی دوسری بنیادی وجہ پانی کی کمی ہے۔ انڈیا پاکستان کے کئی دریاوں کو خشک کرچکا ہے اور اب تک پاکستانی دریاوؤں پر 60 سے زائد ڈیم بنا چکا ہے۔ ان دس سالوں کے دوران انڈیا کو ڈیم بنانے سے روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

نہ ہی ان دس سالوں میں پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی بڑا منصوبہ مکمل کیا جا سکا۔ مشرف دور کے شروع کیے گئے کئی منصوبوں پر کام روک دیا گیا اور نیلم جہلم جیسے منصوبے پر کام اتنا سست کر دیا گیا کہ انڈیا نے کشن گنگا ڈیم بنا کر نیلم جہلم منصوبے کی کمر توڑ دی۔ کالاباغ ڈیم اور کٹزارا ڈیم جیسے عظیم الشان منصوبے زرداری دور میں بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان میں زیر کاشت رقبہ بڑھنے کے بجائے ان دونوں ادوار میں کئی لاکھ ایکڑ کم ہوگیا۔

جو حال زراعت کا ہے وہی صنعتوں کا بھی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ٹیکسٹائل ہے۔ پاکستان کی کل برآمدات میں 60 فیصد حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہوتا ہے۔ پاکستانی کی صنعتوں کا کیا حال ہے اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار لوگوں نے اپنے کارخانے پاکستان سے بنگلہ دیش منتقل کر دئیے ہیں اور نواز شریف کے حالیہ پانچ سالوں میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ صنعتی یونٹ بند ہوئے جن میں بڑے صنعتی یونٹوں کی تعداد 500 سے اوپر ہے۔

صنعتوں کی تباہی کی تین بڑی وجوہات ہیں۔

پہلی مہنگا خام مال، کپاس کی فصل کی تباہی کے ساتھ ہی پاکستان پہلی بار بہت بڑے پیمانے پر کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہوگیا۔ مہنگے خام مال نے ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیدواری لاگت بڑھا دی۔

دوسری چیز بجلی ہے جو اس وقت پاکستان کی تاریخ میں مہنگی ترین ریٹس پر دستیاب ہے۔ مہنگی بھی اور نایاب بھی۔ بدترین لوڈ شیڈنگ اور مہنگی ترین بجلی اس دس سالہ جمہوری دور کا خصوصی تحفہ ہےجس نے صنعتوں سمیت ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا۔

تیسری اہم ترین چیز تیل کی قیمتیں ہیں۔ نواز شریف کے دور میں دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں اتنی کم ہوئیں کہ تیل کی کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے قریب ہوگئیں لیکن مجال ہے جو پاکستان میں تیل کی کم قیمتوں کا ذرا سا فائدہ بھی عوام یا صعنت کاروں کو دیا گیا ہو۔

انہی وجوہات کی بنا پر پاکستانی برآمدات 25 ارب ڈالر سے کم ہوکر 20 ارب ڈالر پر آگئیں اور درآمدات بڑھ کر 50 ارب ڈالر پر پہنچ گئیں۔ نتیجے میں اس وقت پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔

تحریر : شاہدخان

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

زرداری کی آگسٹا آبدوزوں کی خریداری میں کی گئی کرپشن

1994 میں ملیحہ لودھی کا بھائی عامر لودھی بھٹو فیملی کے فرنٹ مین کے طور …

error: Content is protected !!