Home / International / کیا واقعی بھارت سپر پاور بننے جا رہا ہے؟

کیا واقعی بھارت سپر پاور بننے جا رہا ہے؟

بھارت کے سیاستدان ہوں یا جرنیل یا پھر عوام، خوش فہمیوں میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ انھیں اپنے ملک کے سوا سبھی ممالک غیر ترقی یافتہ نظر آتے ہیں، بھارتی عوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ بھارت سپر پاور بننے جا رہا ہے۔

یہ بات ماننا پڑے گی کہ بھارت کی معیشت بہت اچھی حالت میں ہے اور دنیا کی چند بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف معیشت کے سرپر سپر پاور نہیں بنا جا سکتا، سپر پاور بننے کے لیے ہر میدان میں سب سے آگے رہنا پڑتا ہے۔ کیا آپ امریکہ کو نہیں دیکھتے؟ کسی بھی میدان میں امریکہ دنیا کے دوسرے ممالک سے آگے ہے۔

بھارتیوں کی خوش فہمی دور کرنے کے لیے اگر بھارت کا موازنہ چند ترقی یافتہ ممالک سے کیا جائے تو کیا ہی اچھا ہوگا۔ بھارتیوں کا کہنا ہے کہ بھارت دفاعی و معاشی لحاظ سے بہت آگے جاچکا ہے، بھارتی فوج دنیا کی چوتھی بڑی فوج بن چکی ہے، بھارتی نیوی ائیر کرافٹ کیرئیر جیسے ہتھیاروں سے لیس ہو چکی ہے، بھارتی فضائیہ جدید طیاروں سے لیس ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ اس وقت اگر کوئی سپرپاور کہلانے کے لائق ہے تو وہ صرف اور صرف چین ہے، مگر ابھی بھی امریکہ کو  ہی سپرپاور مانا جاتا ہے، اگر بھارت کا موازنہ امریکہ سے کیا جائے تو آپ سب جانتے ہیں کہ امریکہ نے وہ وہ ہتھیار بنائے کہ بھارت تصور بھی نہیں کر سکتا، امریکا لڑاکا طیاروں میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی آج سے 25 سال پہلے ہی لے آیا تھا جبکہ بھارت اس وقت بھی چوتھی نسل کا لڑاکا طیارہ بنانے سے قاصر ہے۔

امریکا کا بنایا ہوا صرف ایف سولہ لڑاکا طیارہ تقریبا پانچ ہزار کی تعداد میں بنایا جا چکا ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک استعمال کرتے ہیں، جبکہ بھارتی فضائیہ کے پاس تمام لڑاکا طیارے دوسرے ممالک سے خریدے گئے ہیں، صرف یہیں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کا مقابلہ امریکہ سے نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ بھارت اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کا محتاج ہے، جبکہ امریکہ اپنا سارا اسلحہ خود بناتا ہے۔

دنیا کی دوسری بڑی طاقت روس کو مانا جاتا ہے، بھارت کا موازنہ اگر روس کے ساتھ کیا جائے تو بھارت تقریبا 80 فیصد اسلحہ روس سے ہی حاصل کرکے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرتا آیا ہے، بھارتی نیوی ہو یا بھارتی فضائیہ یا پھر بھارتی فوج سب کے پاس روس کے بنائے ہوئے ہتھیار ہیں، یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کئی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی روس سے حاصل کرکے ملکی سطح پر بنا رہا ہے، مگر پھر بھی بھارت کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھارت کو اس معاملے میں خودکفیل ہونا ہوگا۔

اس وقت دنیا کے جدید ترین ٹینک اور میزائل روس بناتا ہے، اور جس نوعیت کے ہتھیار روس بناتا ہے بھارت کو اس نوعیت کے ہتھیار بنانے میں ابھی بہت سا وقت درکار ہے، یاد رہے بھارت اپنے جس کروز میزائل براہموس پر سینہ تان کر یہ کہتا ہے کہ یہ دنیا کا تیز ترین میزائل ہے، دراصل یہ میزائل بھی روس کا بنایا ہوا ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت میزائل ٹیکنالوجی میں پاکستان سے کہیں پیچھے ہے۔ یوں آپ کو اس بات کا اندازہ ہو چکا ہوگا کہ بھارت کا موازنہ روس سے کرنا بھی مناسب نہیں۔

اس وقت دنیا کا تیسرا ترقی یافتہ ملک چین ہے، جو معیشت اور دفاعی لحاظ سے تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ چکا ہے، امریکہ جیسے ملک کی معیشت بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ لڑاکا طیارے کے پروجیکٹ پر کام کیا جائے، امریکا ایک کے بعد ایک لڑاکا طیارہ بناتا گیا، مثال کے طور پر “F-22” کے بعد “F-35” پروجیکٹ شروع کیا گیا، اسی طرح باقی تمام ہتھیاروں کے پروجیکٹ وقتاً فوقتاً شروع کیے گئے۔

مگر چین نے دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا ہے، چین نے ایک ہی وقت میں لڑاکا طیاروں کے درجن بھر سے زیادہ پروجیکٹ شروع کردیئے، اور ان تمام میں کامیاب ہوگیا، چین اس وقت بھی پانچویں نسل کے دو اور ایک چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں کے پروجیکٹ شروع کیے ہوئے ہے، ان کے علاوہ جدید اور مہنگے ترین بمبار طیاروں کے پروجیکٹ، دنیا کےتیز اور جدید ترین ڈرونز کے پروجیکٹ بھی چین نے شروع کر رکھے ہیں۔

چین نے جس تیزی سے اپنی نیوی کو مضبوط کیا دنیا میں اسکی مثال نہیں ملتی، چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت بھارت کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہے، چین ایسی جدید ترین آبدوزیں اپنی نیوی کے حوالے کر چکا ہے جو کئی بار بھارتی پانیوں سے ہوتی ہوئی کراچی آ چکی ہیں، مگر بھارتی نیوی کسی صورت ان کی جاسوسی نہیں کر پائی، بالآخر چینی آبدوزوں پر نظر رکھنے کے لئے بھارتی نیوی کو امریکی نیوی سے درخواست کرنا پڑی۔

چین الیکٹرانک وارفیئر میں بھی دنیا کو تقریبا پیچھے چھوڑ چکا ہے، خیال کیا جارہا ہے کہ بھارت کا کوئی بھی لڑاکا طیارہ چین کی حدود میں داخل تو دور کی بات حدود کے نزدیک بھی نہیں جا سکتا، چین جدید ریڈاروں کو جام کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جبکہ بھارت ایسے ہتھیار حاصل کرنے کے لیے دوسرے ممالک کا محتاج ہے، بھارت دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 80 فیصد ہتھیار دوسرے ممالک سے حاصل کرتا ہے، اور باقی 20 فیصد ہتھیار اسرائیل اور روس کے ساتھ مل کر بناتا ہے۔

جبکہ چین اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریبا 80 فیصد ہتھیار خود بناتا ہے، اور 20 فیصد دوسرے ممالک سے خریدتا ہے، اس وقت چینی ساختہ ہتھیاروں میں بہت سے ممالک دلچسپی لے رہے ہیں۔

بھارت پاکستان کی طرح ہی ایک ترقی پذیر ملک ہے، مگر سپرپاور نہیں۔ ہاں بھارت کی معیشت پاکستان کے معیشت سے کہیں زیادہ بہتر ہے، مگر یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں گے بھارت ابھی تک پاکستان کے مقابلے میں چوتھی نسل کا لڑاکا طیارہ ملکی سطح پر تیار نہیں کر سکا، مگر پاکستان ایسا کر چکا ہے، پاکستان 2019 میں دنیا کا جدید ترین 4.5 جنریشن کا لڑاکا طیارہ اپنی فضائیہ کے حوالے کرے گا، یہ لڑاکا طیارہ پاک فضائیہ نے خود ڈیزائن کیا ہے۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

بھارت کی خفیہ جنگی تیاری یا پھرخوف کا سدباب

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ بھارت بڑی تعداد میں …

error: Content is protected !!