Home / Pakistan / پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم جو کالاباغ ڈیم کی طرح بند کر دیا گیا۔

پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم جو کالاباغ ڈیم کی طرح بند کر دیا گیا۔

ہوا کے بعد انسان کی سب سے بڑی ضرورت پانی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق ایک عام انسان کو سالانہ کم سے کم 1000 کیوبک میٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اس سے کم پانی کا مطلب پانی کی قلت ہے اور قحط ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک شخص کو سالانہ دستیاب پانی کی مقدار تقریباً 1017 کیوبک میٹر تک پہنچ چکا  ہے جو  کہ خطرناک حد تک کم ہے۔

اسی طرح عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے پاس 120 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے لیکن پاکستان کے پاس صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے جو تیزی سے مزید کم ہورہی ہے, ایوب خان کے دور میں ہر پاکستان کو دستیاب پانی 5000 کیوبک میٹر سے زیادہ تھا اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ تھی۔ لیکن ان کے بعد رفتہ رفتہ حالات خراب ہوتے چلے گئے۔

اس کی وجوہات میں پاکستان کی آبادی میں بے پناہ اضافہ، بنائے گئے ڈیموں میں مٹی جمع ہونا، پاکستانی دریاوؤں پر انڈین ڈیموں کی تعمیر اور سب سے بڑھ کر پاکستان کا ڈیم نہ بنانا شامل ہیں۔ اگر یہ صورت حال چند سال اور رہی تو پاکستان پر ہلاکت خیز قسم کا قحط آسکتا ہے۔ اور انڈیا کو پاکستان پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ڈیموں پر سیاست کی جاتی ہے اور “ڈیم نہ بنانے” کو سیاسی جماعتیں اپنا کارنامہ سمجھتی ہیں۔

کالاباغ ڈیم اس کی ایک مشہوری مثال ہے۔ جس کو تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے ملکر دفن کیا۔ پاکستان کی منتخب جمہوری حکومتوں نے 2010ء میں کالاباغ ڈیم کو دفن کرنے کا اعلان کیا اور 2012ء میں کٹزارا ڈیم کو, کالاباغ ڈیم سے بہت سے لوگ واقف ہیں لیکن کٹزارا ڈیم کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

کٹزارا ڈیم پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم ہوگا۔ انڈیا نے پاکستانی دریاؤوں پر جتنے ڈیم بنائے ہیں انکی پانی ذخیرہ کرنے کی کل صلاحیت تقریباً 40 ملین کیوبک فیٹ ہے۔ جبکہ کٹزارا ڈیم اکیلے 35 ملین کیوبک فیٹ پانی ذخیرہ کر سکے گا۔ نہ صرف یہ بلکہ کٹزارا ڈیم 15000 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا جو پاکستان کی کل ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ اس ڈیم کی عمر 1000 ہزار سال ہوگی اور اس کی بدولت باقی ڈیموں کی عمر بھی بڑھے گی۔

کٹزارا ڈیم منگلا، تربیلا اور کالا باغ ڈیم سے پانچ گنا بڑا ڈیم ہے اور یہ ڈیم بننے کی صورت میں پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تین گنا ہوجائیگی۔ تاہم یہ ڈیم بنانے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ قربانی دینی پڑے گی۔

سکردو کے علاقے میں اگر کٹزرا ڈیم تعمیر کیا جائے جو انڈس، شیوک اور شگر کی وادیوں پر مشتمل ہوگا تو ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔ لیکن اس پر واپڈا کا اعتراض یہ ہے کہ سکردو شہر سمیت کوئی 25 کلومیٹر کا علاقہ زیرآب آجائے گا، سوا دو لاکھ لوگ منتقل کرنے پڑینگے چونکہ بیس ہزار گھر زیر آب آئینگے۔ اس وادی میں موجود ائیر پورٹ کو ختم کرنا پڑے گا اور کٹزراڈیم علاقے کے ماحولیات پر منفی اثر ڈالے گا۔

اس معاملے میں ہمیں چین سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ابھی چند سال پہلے چین میں تعمیر ہونے والے تھری گورجز ڈیم کی جھیل 600 کلومیٹر لمبی ہے۔ اس ڈیم سے22500 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔ اس کو بننے میں 14سال لگے، 13000 کسانوں نے بلا معاوضہ جگہ دی، دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو ئے اور تقریباً 1300 آثار قدیمہ اس ڈیم میں ڈوب گئے لیکن قومی مفاد میں حکومت چین نے یہ ڈیم بنا دیا۔اس وقت چین کے پاس چھوٹے بڑے 87000 ڈیمز ہیں اور مزید بن رہے ہیں۔ ہندوستان میں 4290 ڈیمز ہیں، ترکی میں51، ایران میں 48 اور جاپان جیسے چھوٹے جزیرے میں بھی 40 ڈیم ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری قیادت دنیا سے کوئی سبق سیکھنے کیلئے تیار ہے؟

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ صرف دیامیر بھاشا ڈیم پر کام شروع ہوا ہے جو محض سنگ بنیاد رکھنے تک محدود ہے۔ اس کی تعمیر میں ابھی کئی سال لگیں گے۔ اسی طرح کرم تنگی، منڈا، داسو، اکھوڑی، سکردو اور شیوک ڈیمز کے منصوبے اور فیز یبلیٹی کے مختلف مراحل پر ہیں لیکن ابھی تک تعمیری کام شروع کرنے کے دور دور تک کوئی نشانات نہیں۔

پانی سے بجلی تیار کرنے پر صرف 1 روپیہ 6 پیسے فی یونٹ خرچ ہوتے ہیں۔ تیل سے چلنے والی بجلی گھروں سے یہ بجلی 9 روپے اور کچھ پیسے فی یونٹ دستیاب ہے اور کرائے کے بجلی گھر 18روپے فی یونٹ چارج کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت پانی سے بجلی پیدا کرنے کی شرح بجلی کی کل پیداوار کا صرف 34 فیصدی ہے جبکہ سارے دریاوں اور نہروں پر موزوں جگہوں پر بند باندھ کر اپنی سو فیصدی ضروریات پورا کرنے کیلئے ہم 59000 میگاواٹ سستی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ نتیجہ “WAPDA” کی ایک تحقیق کے بنیا د پر اخذ کیا گیا ہے۔

ایوب خان نے بڑے ڈیم بنا کر دئیے جو آج تک پاکستان کو چلا رہے ہیں۔ ضیاء کے دور میں سب سے زیادہ چھوٹے ڈیم بنائے گئے اور پہلی بار کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔ لیکن اس کے شہید ہوتے ہی وہ معاملہ کٹھائی میں پڑ گیا۔ مشرف نےغازی بھروتہ کا تحفہ دیا۔ کالاباغ ڈیم سمیت تمام ڈیم بنانے کا اعلان کیا جس کے بعد پہلے اس کی وردی گئی اور پھر خود بھی گیا۔

لیکن ہماری منتخب جمہوری قیادتیں اس معاملے میں کچھ نہ کر سکیں سوائے روڑے اٹکانے کے۔ حالت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ڈیمز بنانے کا اعلان کیا تو اس پر بھی پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے اعتراض کر دیا۔

ڈیم نہیں بنائنگے تو مر جائنگے۔

ڈیم بنانے کے لیے قومی سوچ والا نڈر قائد چاہئے جو ساری تنقید اور عوامی مخالفت کے باوجود اپنے اقتدار کو خطرے میں ڈال کر بھی وہ کام کر گزرے جو ہمارے آنے والی نسلوں کے مفاد میں ہو۔ جو حکمران اپنی مشیروں کی مان کی قومی مفاد کے ان منصوبوں کو نظر انداز کر رہے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ تاریخ ہمیشہ غلط مشورہ دینے والے چمچوں کو نہیں بلکہ غلط مشورہ سننے والے بونے سیاسی قائدین کو مورد الزام ٹہراتی ہے۔

زرداری کے دور حکومت میں ایک بہت سنہری موقعہ تھا۔ اسفند یار ولی اپنے صوبے کا نام پختون خواہ رکھوانے کیلئے تقریباً دیوانے ہو چکے تھے۔ جیسے کہ نام کی تبدیلی سے پشاور شہر میں دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ اگر آصف زرداری صاحب مخلصی کا اظہار کرتے ہوئے اسفند یارولی سے صرف یہ استعداءکرتے کہ صوبے کانام بدل جائےگا ،آپ پاکستان پر صرف یہ احسان کردیں کہ اپنی سیاسی دکان چمکانے کیلئے کالا باغ ڈیم کو سیاسی ایشو بنا کر بلیک میلنگ سے اجتناب کریں۔ یہ تو انہوں نے کیا خاک کرنا تھا کٹزارا ڈیم جیسے منصوبے کو بھی بند کروا دیا جو پاکستان کے سارے دکھ درد دور کر سکتا تھا۔

تحریر: شاہدخان

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاکستان کے پاس کیا کچھ ہے

بظاہر چھوٹا سا وجود رکھنے والے پاکستان کے اندر اللہ نے کیا کچھ سمویا ہوا …

error: Content is protected !!