Home / Pakistan / ﺟﺐ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ؒ ﺳﮯ ﺭﺳﯿﺪﯾﮟ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﮔﺌﯿﮟ

ﺟﺐ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ؒ ﺳﮯ ﺭﺳﯿﺪﯾﮟ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﮔﺌﯿﮟ

کیا آپ جانتے ہیں کہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی رسید مانگی گئی تھی؟ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب ایک طالب علم نے حضرت قائداعظم محمد علی جناح سے رسید مانگی تو ان کا ردعمل کیا تھا؟

یہاں 942 کی بات ہے بابائے قوم کو پاکستان کی جدوجہد کے لیے فنڈز درکار تھے، بابائے قوم نے اپنی قوم سے اپیل کر دی اور قوم نے اپنے قائد کی کال پر دیدہ و دل فرش راہ کر دیئے، بڑے بوڑھے اور جوان تو رہے ایک طرف بچے اور حتیٰ کے یتیم خانوں کے بچے بھی نقد جاں ہتھیلی پر رکھے میدان میں آگئے۔

احمد نگر کے امریکن سیشن ہائی سکول کے طلبا نے بابائے قوم کی خدمت میں اکتالیس روپے روانہ کیے، انہیں منی آرڈر کی رسید تو مل گئی کہ محترمہ فاطمہ جنا نے قائداعظم کی جگہ یہ منی آرڈر وصول کر لیا ہے، لیکن انہیں مسلم لیگ کی طرف سے کوئی رسید نہ ملی، چند دن انتظار کے بعد اب دو بچے وحید علی اور حمید علی قائد اعظم کو ایک خط لکھتے ہیں، بچوں کی معصوم گلابی اردو میں لکھا یہ خط پڑھیے۔

“مسلم لیگ زندہ باد٬ قائد اعظم زندہ باد٬ پاکستان زندہ باد” بخدمت شریف علی جناب محمد علی جناح کو از طرف سید و وحید علی کے آداب عرض،
عرض گزارش یہ ہے کہ ہم مسلم طلبہ امریکن سیشن ہائی سکول کے لڑکوں نے آپ کی خدمت میں مسلم لیگ الیکشن فنڈ کی مدد کے لیے اکتالیس روپے روانہ کیے تھے۔ اور جس میں ہم نے التماس کئے تھے کہ پیسے ملتے ہی ہمارے پتے پر دفتر مسلم لیگ کی رسید روانہ کیجیے، لیکن ابھی تک دفتر مسلم لیگ سے ہمیں کوئی رسید نہیں ملی، حالانکہ کے ہمیں منی آرڈر کا فارم واپس مل گیا ہے اور اس پر یہ دستخط ہے، “For MA Jinnah” اور اس کے نیچے F Jinnah . میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کو یہ منی آرڈر ملی یا نہیں۔ کیونکہ ہم نے ایک خط روزنامہ اقبال کے ایڈیٹر کو بھی لکھے تھے، کے اس کو اخبار میں شائع کردیں، لیکن نہ وہ اب تک شائع ہوئے نہ مسلم لیگ کے دفتر سے رسید آئی، تو یہ کیا بات ہے یہ ہمیں جلد از جلد معلوم کریں، اور اگر آپ کو چندہ مل گیا ہوگا تو اس کی رسید ہمارے پتہ پر اور اقبال میں اس کا مضمون ضرور بضرور شائع کرنے کے لیے ایڈیٹر کو لکھیں”۔
“راقم سید وحید علی حمید علی”

ذرا غور فرمائیے، ایک بچہ جسے معلوم ہے کہ اس کا منی آرڈر محترمہ فاطمہ جنا کو مل چکا ہے، وہ صرف اس بات پر خفا ہے کہ مسلم لیگ دفتر سے اسے رسید کیوں نہیں بھیجی گئی، وہ کہتا ہے ہمیں رسید نہیں ملی یہ کیا بات ہے یہ ہمیں جلد از جلد معلوم کریں۔

لیکن کوئی اس بچے سے یہ نہیں کہتا کہ حد ادب، تمہیں احساس ہے تم کس سے مخاطب ہو کوئی سے ڈانٹتا نہیں کہ بے شرم تم حضرت قائداعظم سے اکتالیس روپے کی رسید مانگ رہے ہو؟ بلکہ بابائے قوم حکم دیتے ہیں کہ منی آرڈر کا ریکارڈ دیکھا جائے اور فی الفور رسید روانہ کی جائے۔ قائداعظم سے اکتالیس روپے کا حساب مانگا جاتا ہے اور مانگنے والے کو حساب دیا جاتا ہے، یہ پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی کہانی ہے، اور اب قائد اعظم کے پاکستان کا یاروں نے وہ حشر کر دیا ہے کہ اربوں کی کرپشن کے الزامات ہیں اور اگر حساب مانگا جائے تو اہل دربار پر رقت طاری ہو جاتا ہے کے دیکھو سوال نہ پوچھو اس سے جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

جس نسل نے قائد اعظم کے ساتھ مل کر پاکستان بنایا تھا، اس نے قربانیوں کی تاریخ رقم کی تھی، ان قربانیوں اور اس جذبے کی ایک جھلک بچوں کے ان خطوط میں ملتی ہے، جو اس دور میں قائد اعظم کو لکھے گئے، یہ خط بتاتے ہیں کہ ریاست پاکستان جسے آج کک بیکس، کرپشن، منی لانڈرنگ اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے نوچہ اور لوٹا جارہا ہے یوں ہی وجود میں نہیں آگئی، کتنی ہی معصوم خواہشات اینٹ گارے کی صورت میں کام آئیں تب یہ ملک بنا۔

جماعت دوم کے طالب علم جاوید احمد خان نے 14 اپریل کو بابائے قوم کو خط لکھا.” قائد اعظم کی خدمت میں عرض ہے کہ میں نے ایک جمع کیے ہوئے سب پیسے جو مجھے میرے اباجی دیا کرتے ہیں آپ کو بھیج دیے ہیں، میں نے سنا ہے کہ آپ ہم کو آزادی لے کر دیں گے”

بہاولنگر سے پانچویں جماعت کے طالبعلم احمد یار خان نے لکھا ” بخدمت جناب محمد علی جناح، زندہ باد قائد اعظم پائندہ باد، پانچ روپیہ جو کہ مجھے میرے والدین نے امتحان میں کامیاب ہونے پر دیئے خدمت اقدس میں پیش کر رہا ہوں”

بانکی پور کے مسلم ایچ ای سکول کے نہم جماعت کےطالب علم نے لکھا” محترم قائد آپ کی تابعداری میرا فرض ہے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر مہینے 7 دن تک بغیر ناشتے کے جایا کروں گا اور اس سے جو پیسے بچیں گے آپ کو بھیجوں گا”۔

نئی دلی سے چھ سالہ تسنیم اعجاز نے لکھا ” میرے پاس عیدی کے اور امتحان کے انعام میں جو ملا تھا سو روپیہ جمع تھے ان کو جناب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں آپ اس کو مسلم لیگ کے چندے میں جمع فرما لیں”

ریواڑی کے چوتھی جماعت کے فضل الرحمان نے پورا ایک ماہ اپنا جیب خرچ جمع کیا اور وہ صرف تین پیسے بن سکا، سولہ اگست کو غریب باپ کے اس معصوم بیٹے نے وہ تین پیسے قائد اعظم کی خدمت میں پیش کردئیے اور خط میں لکھ دیا کہ ہیں تو تین پیسے مگر پورے ایک مہینے کا جیب خرچ ہے۔

اب ذرا یہ خط پڑھیے جو صوبہ مدارس کے شہر کٹرپا کے ” یتیم خانہ اسلامیہ” کے طلبہ نے قائد کو لکھا،
” ہمارے اچھے قائد اعظم! آپ نے ہندوستان کے مسلمانوں سے چندے کی درخواست کی ہے، یہ ہم کو اخباروں کے ذریعے معلوم ہوا اور آپ کو یہ معلوم ہے کہ ہمیں یتیم ہیں، اور ہمارے کھانے پینے اور کپڑے وغیرہ کا انتظام یتیم خانے سے ہوتا ہے، ہمارے ماں باپ نہیں ہیں جو ہم کو روز پیسے دیں، پھر بھی ہم نے طے کر لیا کہ آپ کی خدمت میں ضرور کچھ بھیجیں گے، اس لئے ہم نے دھیلا پیسہ جو کچھ بھی جہاں کہیں سے ملا اس کو چھوڑنا شروع کر دیا یہاں تک کہ تین روپیہ دو آنے کی رقم جمع ہوگئی۔ اور اب اس کو آپ کی خدمت میں روانہ کر رہے ہیں، اب آپ اس کو ضرور قبول کیجیے۔ ہم آپ سے اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں زندہ رکھا مسلم لیگ کی بڑے زور سے خدمت کریں گے اور جب ہم کمانے لگیں گے تو بہت سے روپے چندے میں دیں گے، وسلام ہم ہیں آپ کے دعا گو”۔

جناب یوں ارمانوں کا گلا گھونٹ کر، یہ پاکستان بنا تھا، افسوس ہے کہ آج سے اہل ہوس نے  اسے اپنی چراگاں بنا لیا، میں سوچتا ہوں جو بچہ قائداعظم سے اکتالیس روپوں کی رسید مانگ سکتا ہے، کہیں جنت میں ہمارے بابائے قوم کے پاس جا کر پھر سراپا سوال نا بن جائے کہ جناب پیارے قائد اعظم ہم نے تو یہ ملک بنانے کے لئے ناشتے چھوڑ دیے تھے،اور ناشتے کے پیسے آپ کے قدموں میں رکھ دیے تھے ہم تو کھلونوں سے نہ کھیل سکے اور کھلونوں کے پیسے بھی آپ کو دے دیے، کہ آپ ہمارا پاکستان بنائیں گے۔

ہم تو یتیم تھے مگر آپ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے کھنچے چلے آئے تھے، آپ کو یاد ہوگا پیارے قائد اعظم صاحب ! پورے یتیم خانے نے مل کر تین روپے دو آنے آپ کی خدمت میں پیش کر دیے تھے، اچھے قائداعظم آپکو یاد ہے میں نے آپ سے چالیس روپے کا حساب مانگا تھا اور آپ نے اس کا حساب دیا تھا، لیکن پیارے قائد آپ نے اپنے بعد ملک کن   لوگوں کو سونپا، یہ کیسے حکمران ہیں کہ اگر کوئی ان سے رسیدیں مانگے تو یہ آگے سے کہتے ہیں کہ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاکستان کے پاس کیا کچھ ہے

بظاہر چھوٹا سا وجود رکھنے والے پاکستان کے اندر اللہ نے کیا کچھ سمویا ہوا …

error: Content is protected !!