Home / Pakistan / کیپٹن ڈاکٹر شرجیل شاہد شنواری شہید کی والدہ محترمہ کے قلم سے خصوصی تحریر

کیپٹن ڈاکٹر شرجیل شاہد شنواری شہید کی والدہ محترمہ کے قلم سے خصوصی تحریر

3 جنوری 1986 جمعہ کا مبارک دن تھا جب اﷲ تعالیٰ نے مجھے ماں جیسے خوبصورت رُتبے پر فائز کیا۔ پشاور کے ساتھ ہماری بہت سی یادی جُڑی ہوئی ہیں اس لئے یہ شہر ہمیں ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ اب پشاور کو فراموش کرناناممکن ہو گیا ہے۔ اس خوبصورت شہر کے سی ایم ایچ میں میرے بہادر بیٹے کی ولادت ہوئی تھی اور پہلا لباس زیبِِ تن کیا اور آخری لباس بھی سی ایم ایچ پشاور میں ہی پہنا اور تیار ہو کر راولپنڈی آگیا۔

میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ میں زندہ ہوں گی اور میرا بیٹا اس دنیا میں نہیں ہوگا۔ میں اپنے شہزادے کے بارے میں لکھوں گی۔ میں تو بالکل ہی ایک عام سی خاتون ہوں مگر بیٹا شہید ہو کر مجھے شہیدکی ماں بناکر میرا رتبہ بلند کرگیا۔ میں چیک اپ کے لئے سی ایم ایچ راولپنڈی گئی تو کرنل ڈاکٹر صفیہ نے میرے پاؤں کے جوتے اُتارے‘ میری بیٹی ڈاکٹر شمیلہ ہاؤس جاب کررہی تھی۔

میں نے اس سے کہا کہ بیٹا آپ نے میرے جوتے اتارنے تھے۔ شمیلہ نے کہا کہ ممی یہ سب کام تو آیا وغیرہ کے ہوتے ہیں‘ وہ تو عزت سے‘ محبت سے‘ شہید کی ماں ہونے کے ناتے یہ کررہی تھی اور یہ کام اتنی جلدی سے کرنل صفیہ نے کیاکہ میں اور شمیلہ خود نہ کرسکے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ واقعی کوئی میرے پاؤں کو ہاتھ لگائے۔یہ میری فوج کے شہداء اور ان کی فیملیز کے لئے محبتیں ہیں۔ اﷲ تعالیٰ میری پاک فوج کو سلامت رکھے اور شہداء پر، میرے پیارے شرجیل پر، اپنی خصوصی رحمتیں و برکتیں نازل فرمائے۔ آمین

میں نے بھی اپنے بچوں کو اپنے وطن سے محبت ہی سکھائی ہے ۔یہ محبت ہی تو ہے کہ شرجیل کی شہادت کے بعد بھی ڈاکٹر شمیلہ نے آرمی جوائن کی اورلیفٹیننٹ شموئیل بھی پاک آرمی کا حصہ ہیں۔ شرجیل شاہد نے بھی آرمی پبلک سکول ویسٹریج میں ساتویں کلاس تک پڑھا۔ آرمی پبلک سکول میں شرجیل زیرِ تعلیم رہا‘ میں آج بھی اس سکول کے آگے سے گزرتی ہوں۔ شرجیل پوزیشن ہولڈر تھا خصوصی طور پر کلاس تھری سے اول پوزیشن کا ہی شوقین تھا۔

شرجیل کو نجم شہیدمیڈل بھی ملا۔ یہ میڈل صرف ایک بچے کو ملتا ہے جو اپنی کلاس میں فرسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ تمام سیکشن کے بچوں سے زیادہ مارکس لیتاہو۔ شرجیل ساتویں کلاس کے بعد کیڈٹ کالج کوہاٹ کے لئے سلیکٹ ہوگیا۔ جس دن آرمی پبلک سکول میں ساتویں کلاس کا رزلٹ تھا اسی دن کیڈٹ کالج کے لئے شرجیل کا انٹرویوتھا ۔شرجیل کو اس کے ابو انٹرویو کے لئے لے گئے اور میں سکول چلی گئی۔ میں نے کلاس ٹیچر سے پوچھا کہ شرجیل کا رزلٹ کیسے ملے گا وہ کہنے لگی جب سب کا اناؤنس ہوجائے تو آکر کلاس روم میں مجھ سے رزلٹ کارڈ لے لینا۔ جبکہ اس سے پہلے شرجیل سٹیج پر رزلٹ وصول کرتا تھا۔

میں بھی دوسرے والدین کے ساتھ گراؤنڈ میں کھڑی تھی کہ اناؤنسمنٹ ہوئی شرجیل شاہد کلاس سیونتھ / اے‘ میں بے اختیار سٹیج پر چلی گئی اور شرجیل کا رزلٹ وصول کیا۔ سب نے بہت سراہا اور خوب تالیاں بجائیں۔مجھے یہ منظر بہت اچھا لگا کہ میرے بیٹے کی سال کی محنت وصول ہوگئی۔

ہماری زندگی کا مقصد ہی بچوں کی تعلیم و تربیت کرنا تھا۔ شاہد صاحب نے بچوں کو اعتماددیا اور ماں ہونے کے ناتے میں نے بہت ہی پیار اور محبت دی جیسا کہ ہر ماں کرتی ہے۔ ہمارا مقصد تھا کہ تینوں بچے بہت اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین اور کامیاب انسان بنیں۔ ایسے مسلمان جن کے ہاتھ اور زبان سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ شرجیل کے ہاتھ میں اﷲ تعالیٰ نے شفا رکھی تھی وہ ایک خوش اخلاق انسان تھا۔ تربیت کرنے میں مَیں کہاں تک کامیاب ہوئی‘ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ میں اس اندھیرے ماحول میں اپنے حصے کا چراغ جلانا چاہتی تھی‘ یہ چراغ ہمارے شہداء کے خون سے روشن ہیں اورانشاء اﷲ یہ چراغ کبھی نہیں بجھیں گے۔

سانحہ پشاور پر ماؤں کا تڑپنا بے قراری سے بھاگنا سب ان آنکھوں سے یہ مناظر دیکھے۔ مجھ جیسی مائیں وہمی بھی ہوتی ہیں۔ شرجیل آرمی میڈیکل کالج میں پڑھ رہا تھا اور ہاسٹل میں رہائش پذیرتھا۔ میں ایک دن صبح اپنے گھر سے ویسٹریج جا رہی تھی جب ملٹری ہاسپٹل کے قریب پہنچی تو دیکھا کہ اچانک ایک فائر بریگیڈ کی گاڑی شور مچاتی عابد مجید روڈ کی طرف گئی‘ میں نے بلا سوچے سمجھے اپنی گاڑی فائر بریگیڈ کی گاڑی کے پیچھے موڑ دی۔ دل میں خیال آیا خدانخواستہ ہوسٹل میں آگ تو نہیں لگ گئی جب گاڑی ہوسٹل کے آگے سے گزر گئی تو میں نے اﷲ کا شکر ادا کرتے ہوئے گاڑی واپس موڑ لی۔

ہاؤس جاب کے دوران شرجیل کی سندھ میں فلڈ ڈیوٹی لگی تو وہ سندھ چلا گیا۔ وہاں سندھ کے لوگوں کی حالت پر بہت دکھی تھا۔ ہماری پاک فوج کے ڈاکٹرز وہاں خوشی خوشی چلے جاتے ہیں جہاں شاید دوسرے ڈاکٹرز جانا پسند نہ کریں۔ سندھ سے شرجیل میرے لئے، بہن شمیلہ اور خالہ کی بیٹی کے لئے کانچ کی خوبصورت چوڑیاں‘ جن پر ہمارا نام لکھوایا تھا‘ تحفہ لایا۔وہ کانچ کی خوبصورت چوڑیاں ہم نے بہت سنبھال کر رکھ لی ہیں۔

شمیلہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہوگئی اور کیپٹن کا رینک لگ گیا۔ پوسٹنگ ملٹری ہاسپٹل میں ہوئی۔ کیپٹن شمیلہ جوائننگ دینے سے پہلے اپنے بھائی کو پہلا سلیوٹ کرکے گئی۔ میجر شاہد صاحب راولپنڈی سے باہر پوسٹنگ پر تھے۔ گھر میں میرے ساتھ شرجیل نے بڑا بیٹا ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے دونوں بچوں کی تعلیم وتربیت میں میرا بہت ساتھ دیا۔ میرے چھوٹے بچوں کی کامیابیوں میں شرجیل کا بہت ہاتھ تھا۔ شرجیل بچپن سے ہی بہت سمجھ دار اور عقل مند تھا۔ شاید اس لئے کہ اس کو اپنی چھوٹی سی زندگی میں بڑے بڑے اور زیادہ کام کرنے تھے۔

کیپٹن شمیلہ اور لیفٹیننٹ شموئیل کی یہ خواہش حسرت ہی بن گئی کہ وہ اپنے پیارے بڑے بھائی کے ساتھ یونیفارم میں فوٹوز کِھنچواتے۔ انسان کی کب ساری خواہشات پوری ہوتی ہیں۔ ہمارا ارمان تھا‘ ہماری بھی خواہش تھی کہ ہم اپنے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھتے۔ اس کی شادی کرتے مگر دل کی دل میں ہی رہ گئی۔ شرجیل سے میں نے شادی کی بات کی تو یہاں بھی اس نے اپنی بہن کی شادی کو ہی فوقیت دی۔ کہنے لگا کہ ممی پہلے شمیلہ کی شادی کریں گے تب تک میرا ہارڈ ایریا بھی مکمل ہو جائے گا میں بعد میں کروں گا۔ اتنا فرمانبردار بچہ کہ شاہد صاحب نے پوچھا کہ اپنی کوئی پسند ہو تو بتا دو کہنے لگا یہ آپ کا کام ہے۔ اتنی سی فرمائش کی کہ لڑکی سر پر سکارف لیتی ہو۔ ہم اُن ماں باپ سے نہیں جو اپنی پسند بچوں پر مسلط کریں۔

اﷲ تعالیٰ نے اس دفعہ ہمیں حج کی سعادت نصیب فرمائی ہم نے شرجیل کا بھی حجِ بدل کروایا۔ کیونکہ ہماری خواہش تھی کہ ہم سب فیملی اکٹھے ہی حج کرتے۔ ایک تو شرجیل کے چچا نے جو سعودیہ میں ہی انجینئر ہیں‘ حجِ بدل کیا اور ایک ہم نے کسی کو پیمنٹ کرکے حجِ بدل کروایا۔ شاہد صاحب کے ساتھ ان کے ایک روم میٹ نے شرجیل کی فوٹو دیکھی ہوئی تھی‘ وہ ایک دن شاہد سے کہنے لگے کہ میجر صاحب میں نے خواب میں ایک ینگ لڑکے کو دیکھا ہے جس نے احرام پہنا ہوا ہے۔ وہ خواب میں کہتا ہے کہ میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ حج کرنے آیا ہوں‘ وہ آپ کا بیٹا تھا۔ اﷲ سبحانہ‘ وتعالیٰ میرے بچے کا خاص طورپر حجِ بدل قبول فرمائے (آمین)۔

میں نے سقوطِ ڈھاکہ جیسا سانحہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ میں 16 دسمبر 1971 کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ میں چھوٹی بچی تھی‘ اپنے ننھیال میں تھی اس دن میری نانی اماں اور دونوں خالائیں بہت غمگین تھیں اور روتی تھیں۔ خالہ اس وقت ہائی سکول میں تھی وہ خود بھی کوئی زیادہ بڑی نہیں تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہوا ہے۔ جس گھر میں کوئی فوت ہوتا ہے ویسا ماحول تھا مگر میت نہیں تھی۔ مجھے بھوک لگی تھی مگر کسی نہ خود کھانا کھایا نہ مجھے دیا۔

میں نے بھوکی ہونے کے باوجود شرم سے یا پھر حالات کی وجہ سے کھانا نہ مانگا۔ اب سوچتی ہوں تو سمجھ آتی ہے کہ بچپن میں غم کی شدت میں 16 دسمبر کو کھانا نہ کھانے پر صبر سیکھنا تھا۔ کیونکہ پھر میری زندگی میں کافی موقعے آئے کہ کھانا حلق سے اترنا مشکل ہوگیا۔ سوائے غم کے گھونٹ پینے کے میں کچھ کھا نہیں سکتی تھی۔ جیسے20 ستمبر کو شرجیل کا یومِ شہادت 21 ستمبر کو یومِ تدفین۔ پھر16 دسمبر2014 کو سانحہ پشاور۔

اس کے سارے ماحول میں کیا لکھوں۔ ایک ماں کی حیثیت سے میری ساری قوتیں ہی سلب ہوگئیں ان ماؤں کا دکھ بھی مجھ جیسا یا پھر مجھ سے بھی بڑا دکھ ہے۔ یہ صرف وہی مائیں جانتی ہیں جن کے جگر گوشے اُن کی آنکھوں کے سامنے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے یہ سب بچے میرے سگے بھانجے ہوں اور سٹاف ممبرز میرے سگے بہن بھائی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ ان بچوں کے ساتھ میرے بھانجوں اور بھانجی نے پڑھا ہے۔ وہ بچے ان کے دوست اور کلاس فیلوز تھے۔

کچھ عرصہ پہلے میرے دونوں بہنوئی پشاور میں ہی پوسٹ تھے۔ حذیفہ بابر میرا بڑا بھانجا جو کرنل بابر کا بیٹا ہے اور سعد میرا بھتیجا کرنل مبین کا بیٹا ہے ۔ سعد مبین لندن گیا ہوا ہے‘ کہنے لگا ممی میں نے آرمی جوائن کرنی ہے۔ شرجیل بھائی اور پشاور والے بچوں کا بدلہ لینا ہے۔ اس وطن کے لئے ہمارے بچوں کے جذبے بہت شدید ہیں ۔ شہداءِ پشاور والے بچوں کی شہادت کے بعد کسی حد تک حُدود کا نفاذ شروع ہوا ہے ( حدیث کا مفہوم ہے) جس جگہ کوئی حد قائم ہوتی ہے وہاں پر چالیس دن بارش برسنے کے برابر اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ یعنی ایسی نفع بخش بارش جس میں فائدہ ہوتا ہے‘ ہریالی ہوتی ہے۔ جب کسی کو قرآن کے حکم کے مطابق حد لگائی جائے۔

ایک روز کیپٹن شمیلہ نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہو اگر ڈاکٹر عثمان کو پہلی پھانسی دی جائے۔ اسی طرح ٹی وی پر نیوز سنتے ہوئے لاؤنج میں شاہد کہنے لگے کہ اگر جمعہ کے دن پہلی پھانسی عثمان کو دی جائے تو عدل کے تقاضے پورے ہو جائیں حالانکہ اور بھی لوگ تھے مگر اس کا نام زبان پر آیا۔

جب عثمان کو پھانسی دی گئی تو میں نے شاہد کو مبارک باد دی۔ اس کا تو دُہرا جرم تھا۔ پاک فوج کے ساتھ حلف کی غداری بھی کرنے کا۔ ان دہشت گردوں کا ایک ہی علاج ہے وہ ہے سزائے موت۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ان کے سر قلم کئے جائیں۔ میں نے شاہد سے کہا کہ ان معصوم شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ابتدا ہو چکی ہے اب انتہا پر جا کر اس پاک سرزمین کو ان کے ناپاک جسموں سے پاک کیا جائے۔ ان کے ناپاک ارادوں کو کچلا جائے یقیناً اس نیک کام کی ابتدا کرنے کا سہرا بھی پاک فوج کے سربراہ کے سر ہی جاتا ہے۔

ﷲ تعالیٰ اس ملک اور افواج پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)کیپٹن شمیلہ اور لیفٹیننٹ شموئیل کی یہ خواہش حسرت ہی بن گئی کہ وہ اپنے پیارے بڑے بھائی کے ساتھ یونیفارم میں فوٹوز کِھنچواتے۔ انسان کی کب ساری خواہشات پوری ہوتی ہیں۔ ہمارا ارمان تھا‘ ہماری بھی خواہش تھی کہ ہم اپنے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھتے۔ اس کی شادی کرتے مگر دل کی دل میں ہی رہ گئی۔

پاک افواج زندہ باد
پاکستان پائیندہ باد

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاکستان کے پاس کیا کچھ ہے

بظاہر چھوٹا سا وجود رکھنے والے پاکستان کے اندر اللہ نے کیا کچھ سمویا ہوا …

error: Content is protected !!