Home / Pakistan / جنرل ضیاء کا قاتل کتنی بڑی سازش تھی اور اس کے پیچھے کون کون تھا؟

جنرل ضیاء کا قاتل کتنی بڑی سازش تھی اور اس کے پیچھے کون کون تھا؟

سترہ اگست کی شام چار بجے بہالپور ائرپورٹ کے نزدیک اسلام کا ایک عظیم خادم، ملت اسلامیہ کا ایک جلیل القدر سپاہی، ایک عالمی مدبر، ایک سچا مسلمان اور شریف انسان ضیاء الحق اپنے 26 پاکستانی فوجی رفقاء اور 2 امریکی سفیروں کے ساتھ ایک طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگیا جس کے دہشت گردانہ کاروائی ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

سی 130 ہرکولیس طیارہ اپنے چار طاقتور انجنوں اور اپنی ساخت کے اعتبار سے ایک ایسا طیارہ ہے جو ہوائی اڈے کے اتنے قریب اور زمین سے صرف تین چار منٹ کے مرحلہ میں طے ہونے والی بلندی پر حادثے کا شکار ہو ہی نہیں سکتا۔ سوائے اس کے کہ پائیلٹس کو بے ہوش یا ہلاک کر دیا جائے۔

یہی پاکستان ائر فورس کی تحقیقاتی کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا۔ لیکن کیا واقعی جنرل ضیاء کسی سازش کو شکار ہوا تھا؟ اور اگر سازش تھی تو اس سازش میں کون کون شریک تھے؟؟

آئیے وقت کی گرد جھاڑ کر دوبارہ اس وقت رونما ہونے والے واقعات کو ترتیب وار دیکھتے ہیں۔

٭ یہ کام جتنا مشکل تھا اور جہاں جہاں تک اس کے لیے رسائی درکار تھی اور جس مہارت سے کیا گیا اور جتنے بڑے پیمانے پر اس کے تحقیقات رکوائی گئیں یہ کسی ایک فرد یا تنظیم کا کام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کی پشت پر یقیناً بہت بڑی بڑی طاقتیں تھیں۔

٭ جہازوں میں فٹ کر کے ہوابازون کو بے ہوش کرنے والےکیسپول اور ان کو ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی ان دنوں صرف روس، امریکہ اور اسرائیل کے پاس تھی۔

٭ جنرل ضیاء کے قتل کا شبہ پانچ تنظمیوں پر کیا گیا جن میں روس کی کے جی بی، امریکہ کی سی آئی اے، بھارت کی راء، اسرائیل کی موساد اور پاکستان سے الذولفقار نامی دہشت گرد تنظیم شامل تھی۔

٭ بہاولپور کے قریب امریکی ٹینک کی کارکردگی کے مظاہرے کا اہتمام بھی امریکی فرمائش پر ہی کیا گیا تھا۔ جسے دیکھنے جنرل ضیاء نے جانا تھا۔

٭ بہالپور میں جہاں یہ حادثہ پیش آیا۔ طیارے کو ہوائی اڈے پر غیر ضروری طور پر کھڑا رکھا گیا حالانکہ اسے صدر پاکستان کو پہنچانے کے بعد فوری طور پر اپنے اڈے پر واپس چلا جانا تھا اور واپسی کے لیے دوبارہ واپس آنا تھا۔

٭ ہوائی اڈے پر سیکیورٹی انتظام صدر کے سیکیورٹی عملہ یا مرکزی فوجی اداروں کے بجائے مقامی حکام ہی کے ذمہ رکھا گیا۔

٭ بہاولپور کے مئیر اور پیپلز پارٹی کے فوری وفاقی وزیر بنائے جانے والے مسٹر فاروق اعظم نے آموں کی پیٹیاں بظاہر تحفے کے طور پر دیں۔ ان پیٹیوں کو کسی سیکورٹی چیک کے بغیر طیارے میں رکھا گیا۔

٭ طیارے کو رن وے پر کھڑا رکھنے کے پراسرار عمل پر مستزاد کچھ سول اور غیر متعلقہ افراد کو دروازے کی مرمت یا ردوبدل کے کام پر طیارے میں داخل ہونے اور نامعلوم قسم کے آلات کے ساتھ کچھ کام کرتے رہنے کی اجازدی دی گئی جبکہ جہاز کے عملہ یعنی ہوابازوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا۔

خیال رہے کہ جہاز کا خودکار دروازہ ہوا باز کے اپنے کنٹرول پینل سے وابستہ ایک چیز ہے جس کے تاروں یا نالیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنا جہاز کے ہوابازی کے مجموعی نظام میں خرابی پیدا کرنے کا سبب ہوسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر جہاز کو کسی مرمت کی ضروت تھی بھی تو وہ اصولاً چکلالہ میں ہونی چاہئے تھی۔

٭ جہاز کے عملے میں شامل ایک ٹیکنیشن کو ضابطے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہاولپور میں اپنے رشتہ داروں یا واقف کاروں کے گھر جانے کی اجازت دی گئی۔

٭ حادثے کے بعد جب طیارے کا ملبہ جل رہا تھا تو آگ بجھانے لے لیے کوئی کاروائی نہیں کی گئی نہ بہاولپور ائیر پورٹ سے نہ کسی میونسپل کارپوریشن سے کوئی آگے بجھانے والا عملہ روانہ ہوا اور نہ ہی دیہاتیوں کو آگ بجھانے کے لیے طیارے کے قریب جانے کی اجازت دی گئی۔

٭ جاں بحق ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ پوسٹ مارٹم طارق بشیر چیمہ نامی شخص کے حکم پر روکا گیا جس کا بھائی فوراً بعد پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنا۔ جو کاغذات ایف آئی اے نے واپس نہیں کیے ان میں یہ بھی درج تھا کہ طارق بشیر چیمہ الذوالفقار سے وابستہ رہا تھا۔

٭ کسی نے اس بات کا بھی سراغ لگانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ دو بچے اور ایک خاتوں جو اس طیارے میں چکلالہ سے بہاولپور آئے تھے کون تھے اور کس کی اجازت سے اس طیارے میں سوار ہوئے تھے؟
یہ معاملہ اس لحاظ سے اہم بتایا جاتا ہے کہ اس طرح شائد غیر متعلقہ افراد کو طیارے میں داخل کرنے کا تجربہ کیا گیا تھا۔

٭ ان تحقیقات سے آئی ایس آئی کو کیوں الگ رکھا گیا؟ حالانکہ آئی ایس آئی کے پاس اس حادثے کے حوالے سے سب سے مشکوک تنظیم الذولفقار کے بارے میں بہترین معلومات تھیں۔

٭ بہاولپور میں موجود فوجی عملہ کو جلد از جلد وہاں سے مختلف مقامات پر تبدیل کر دیا گیا۔

٭ حادثہ کے روز کرنل اعجاز نے صدر مملکت کی تقریبات کی پرائیویٹ فلم تیار کی تھی لیکن ان کا تبادلہ ہونے کی وجہ سے ان سے یہ فلم دسیتاب نہ ہوسکی۔ ریڈیو پاکستان نے جو ریکارڈنگ کی تھی اس کی ٹیپ بھی پولیس کو نہ ملی۔

٭ ایف آئی اے 15 ستمبر سے 10 دسمبر تک تحقیقات کرتی رہی اور پولیس کو اپنی رپورٹ مسلسل ارسال کرتی رہی۔ پھر اس نے نہ صرف اچانک تحقیقات روک دیں بلکہ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ بھی واپس کرنے سے انکار کر دیا۔

٭ پولیس کو جو رپورٹ واپس نہیں مل رہی تھی اس کے مطابق الذولفقار کے کمانڈر مرتضی بھٹو مارچ 88ء میں بھارت کی طرف سے سرحد عبور کر کے پاکستان آیا اور بہاولپور شہر پہنچا۔ اس کے ساتھ الذولفقار کا سرگرم کارکن پرویز عرف پیجی بھی تھا۔ انہیں مرحوم اصغر گھرکی کے ایک عزیز نے سرحد عبور کرنے میں مدد دی۔ بہاولپور میں ان کا قیام جن ہوٹلوں میں ہوا ان میں باہر سے آئے ہوئے کچھ لوگ بھی ٹہرے تھے۔ آنے والوں کا تعلق بھارت سے بتایا جاتا ہے۔

٭ صدر غلام اسحاق خان نے اس حادثے کی تحقیقات کی ذمہ داری فتح خان بندیال کے ذمے لگائی اور اس کو تمام تحقیقاتی اداروں کے درمیان کوارڈینیٹر مقرر کیا۔ آنے والی پیپلز پارٹی حکومت نے فوری طور پر اس کو وہاں سے ہٹا کر سٹیل مل کا چیرمین لگا دیا۔ جس کے بعد فتح خان بندیال اور اس کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا کچھ پتہ نہ چلا کہ کہاں گئی۔

٭ لودھران پولیس تھانہ میں درج پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جو 523 صفحاف پر مشتمل تھی ایف آئی اے نے اپنی تحویل میں لے لی اور دوبارہ مانگنے پر بھی واپس نہیں کی۔ جس کے بعد پولیس اس کیس پر مزید کوئی کام نہ کر سکی۔

٭ اس حادثے میں صدر ضیاء کے علاوہ مسلح افواج کے 26 افراد شہید ہوئے بشمول چیرمین چیفس آف سٹاف اور افغان جہاد کے ہیرو جنرل اختر عبدالرحمن۔ مسلح افواج کے سربراہ، اس کے ممکنہ جانشین اور چار دیگر جرنیلوں کے علاوہ چار برگیڈیرز اور کئی اعلی افسروں کی شہادت سے متعلق دہشت گردانہ کاروائی کی تحقیقات کو کیوں اور کیسے نظر انداز کر دیا گیا؟

اگر یہ کہا جائے تو کہ پیپلز پارٹی حکومت ضیاء مخالف تھی تب تو یہ تحقیقات اور بھی ضروری تھیں تاکہ وہ خود کو پاک ثابت کر سکیں۔ عدم دلچسپی کی صرف ایک ممکنہ صورت ہوسکتی ہے۔ وہ یہ کہ پیپلز پارٹی کو معلوم تھا کہ سازش کے ذمہ دار کون لوگ ہیں اور تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلے گا۔

اس مفروضے کا پیپلز پارٹی کا سابقہ ریکارڈ بھی تقویت دیتا ہے۔ اسی پارٹی نے اپنے مخالفین بشمول وزیراعلی سرحد حیات محمد خان شیرپاؤ کی دھماکہ میں پراسرار موت، عبدالصمد اچکزئی، خواجہ محمد رفیق، ڈاکٹر نزیر احمد اور نواب محمد احمد خان جیسی شخصیتوں کے قتل کی بھی تحقیقات نہیں ہونے دیں جن کا شبہ خود اسی جماعت پر تھا۔ مقتولوں میں صرف ایک شخص نواب احمد خان کے قتل کی تحقیقات کرائی گئیں جس کے نتیجہ میں بلااخر بھٹو پھانسی چڑھا۔

٭ اس وقت پیپلز پارٹی کی دہشت گرد تنظیم الذولفقار پوری طرح ایکٹیو تھی۔ حادثے کے فوراً بعد الذوالفقار کے ایک ترجمان نے ” یہ ہمارا ہی کام ہے” کا نعرہ لگایا تھا لیکن پھر پیپلز پارتی کے انتخاب کے خیال سے یہ نعرہ واپس لیا گیا۔ لیکن اس سے بھی پہلے چار پانچ ناکام حملوں کا کریڈیٹ لیتے رہے ہیں۔ جن میں سے دو وارداتوں کا تذکرہ بے نظیر نے اپنی کتاب ” دختر مشرق” میں بھی کیا ہے۔

٭ روس کی طرف سے بیان آیا کہ ” اس معاملے میں روس کو بلاوجہ ملوث کیا جا رہا ہے۔ ایسی تخریبی کاروائیوں کے ذریعے ممتاز شخصیات کو قتل کرانا ہمارا طریقہ نہیں۔ یہ کام سی آئی اے والے کرتے ہیں اور انہیں اس کا تجربہ بھی ہے اور ضرورت بھی رہتی ہے “

٭ سب سے حیران کن کردار امریکہ کا تھا جو مسلسل تحقیقات کو بے معنی بنانے اور معاملہ رفع دفع کرنے میں مصروف نظر آیا۔ حالانکہ اس کے ملک کا سفیر اور ایک اعلی فوجی افسر اس حادثے میں ہلاک ہوا تھا، امریکہ کے اس رویے پر جون 89ء خود امریکی کانگریس کی جرائم سے متعلق کمیٹی نے 17 اگست کے حادثے اور اس میں امریکی سفیر اور برگیڈیر کی ہلاکت کے حوالے سے اس بات کی تحقیقات شروع کی کہ “قانون کے مطابق ایف بی آئی نے کیوں اس معاملے کی تفتیش نہ کی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس کی یہ تحقیقات بھی روک دی گئیں۔ حالانکہ پاکستانی ائر فورس کا تحقیقات کمیشن اس کو دہشت گردی قرار دے چکا تھا لیکن امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایف بی آئی کو اس کے بعد بھی پاکستان بھیجنے کی اجازت نہ دی۔ کیوں؟ بعد میں یہ خبریں بھی آئیں کہ امریکی سنٹرل کمانڈ نے تحقیقات ٹیم بھیجنے پر اعتراض کیا تھا۔

٭ سب سے اہم معاملہ انڈیا میں تعئینات امریکی سفیر گنٹر ڈین کا رہا۔ جان گنٹر ڈین نے بتایا کہ 1988 میں جب جنرل ضیا کے طیارے کا حادثہ ہوا، وہ انڈیا میں امریکہ کے سفیر تھے۔ کہنے لگے اسے یہودیوں نے مارا، انھوں نے کہا، موساد نے اور میں یہ پورے یقین سے کہہ رہا ہوں اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں خود بھی یہودی ہوں۔

اگست 1988 میں جب جنرل ضیا کے طیارے کو حادثہ پیش آیا تو جان گنٹر ڈین نے بھی دیگر سفارتکاروں کی طرح ٹوہ لینے کی کوشش کی کہ یہ کس کا کام ہے۔ انھیں جو معلومات ملیں وہ اتنی حساس تھیں کہ جان گنٹر نے فیصلہ کیا کہ وہ دلی سے واشنگٹن تک مواصلاتی رابطے سے نہیں بھیجی جا سکتیں۔ انھوں نے واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ کے بڑوں سے اپائنٹمنٹ لی، ٹکٹ کٹوایا اور سیدھے اپنے ہیڈکوارٹر پہنچے، وہاں انھوں نے اوپر والی ساری کہانی سنائی۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے اس ملاقات میں نہ صرف انھیں سفیر کے عہدے سے نااہل قرار دیا بلکہ یہ فتویٰ بھی دیا کہ گنٹر کے دماغ میں کچھ خلل ہے اور وہ فوراً ریٹائر کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی 20 سال تک ان پر زباں بندی کا حکم بھی جاری ہوا کہ نہ کوئی بیان دیں گے، نہ انٹرویو اور نہ ہی اس پورے معاملے پر کچھ لکھیں گے۔

جنرل ضیاء کو کیوں قتل کیا گیا؟

کیونکہ وہ روس کے نکل جانے کے بعد افغانستان اور ایران کے ساتھ ملکر ایک اسلامی بلاک بنانے کے بہت قریب تھا، پاکستان میں وہ بتدریج اسلام نافذ کر رہا تھا۔
افغانستان میں مجاہدین کی ایک اسلامی حکومت بننی یقینی تھی۔ ایران میں اسلامی انقلاب آچکا تھا۔ وسطی ایشائی ریاستیں روس سے آزادی کے قریب تھیں جن کے بعد ان کا جھکاؤ فوری طور پر اپنے محسن پاکستان کی طرف ہوتا۔ اور ترکی پاکستان کے قریب تر تھا۔ ضیاء کا خیال تھا کہ ان تمام ممالک کی کرنسی، خارجہ پالیسی اور دفاع کو ایک کیا جائے۔

امریکہ کے سٹریٹیجک ماہرین اور مدبرین افغانستان، ایران اور پاکستان میں اٹھتے اس اسلامی طوفان اور ترکی کی پاکستان سے قربت وسطی ایشیائی ریاستوں کی روس کے ہاتھوں سے نکلنے کے بعد پاکستان کے قریب ہونے کے خدشات کی وجہ سے ایک نہایت خطرناک بلاک بنتا دیکھ رہے تھے۔

اس کو روکنے کا طریقہ سوائے جنرل ضیاء کے قتل کے اور کوئی نہ تھا۔ نہ صرف ضیاء کا قتل بلکہ اس کے بعد اس کے کام کو جاری رکھنے کے اہل اس کے جانشینوں کا قتل بھی، امریکہ ضیاء سے اپنی دوستی کی وجہ سے خود سامنے نہیں آنا چاہتا تو اس کے لیے بہترین آلہ کار انڈیا کی را اور اسرائیلی موساد ہی ہوسکتی تھی۔

راجیو گاندھی جانتا تھا کہ ضیاء افغانستان سے فارغ ہوکر کشمیر کو بہت تیزی سے آزاد کروا دے گا۔ وہ یہ بیان بھی دے چکا تھا کہ ہم افغانستان میں کوئی اسلامی حکومت برداشت نہیں کرینگے۔ موساد تو پاکستان کی ازلی دشمن تھی ہی الذولفقار کے رابطے قادییانیوں کی معرفت جن کا آپریشنل ہیڈ کواٹر تل ابیب ہی میں ہے اسرائیل سے تھے۔

ضیاء کو اطلاع مل چکی تھی کہ اس پر وار ہونے والا ہے۔ اس کے مشیر اس کو چند دن کے لیے مکہ یا مدینہ جانے کا مشورہ دے رہے تھے۔ ضیاء کو یہ بھی خدشہ تھا کہ یہ امریکہ کرے گا۔ اس سفر میں بھی یہ خطرہ درپیش تھا۔ اس لیے جنرل ضیاء نے امریکی سفیر آرنلڈ رافیل اور حاضر سروس برگیڈیر کو ساتھ لے لیا حفاظتی تدبیر کے طور پر۔ لیکن امریکہ ضیاء کو ہٹانے کے لیے ہر قربانی دینے پر تلا ہوا تھا۔

افسوس آنے والی پاکستانی حکومتوں پر ہے جنہوں نے اس سوال کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی کہ تاریخ کے اس انتہائی نازک موقعے پر جب افغان جہاد کامیابی کے قریب تھا اور پاکستان افغانستان کے معاملات اپنے حق میں موڑنے والا تھا جنرل ضیاء اور اس کے افغان امور کے ماہر ساتھیوں کو کس نے شہید کروایا؟ جس کا خمیازہ آج تک پاکستان بھگت رہا ہے۔

تحریر شاہدخان

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

زرداری کی آگسٹا آبدوزوں کی خریداری میں کی گئی کرپشن

1994 میں ملیحہ لودھی کا بھائی عامر لودھی بھٹو فیملی کے فرنٹ مین کے طور …

error: Content is protected !!