Home / Pakistan Army / کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

کیا واقعی جنرل ضیاء الحق امریکی آلہ کار تھے؟

پاکستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جنرل ضیاء الحق کو امریکی آلہ کار کہتے ہیں۔ لیکن حیران کن طور پر یہ لوگ خود امریکی امداد اور سرپرستی سے ہی اقتدار میں آئے اور امریکی ذرائع ابلاغ اور امریکی سینٹروں نے ان کو سامنے لانے اور مسند پر بٹھانے میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کیں۔ اس لیے جنرل ضیاء کے خلاف کم از کم ان کی شہادت تو جھوٹی ہوئی۔

حقیقت صرف اتنی ہے کہ جنرل ضیاء نے بڑی خوبصورتی اور کامیابی سے پاکستان کے مفادات کو محفوظ رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات رکھے۔ ان کی اسی کامیابی کا اعتراف ممتاز بھارتی صحافی ایم جے اکبر نے انڈیا ٹوڈے کے ایک مضمون میں ( اشاعت ستمبر 88ء) میں ان الفاظ میں کیا تھا۔ ” صدر ضیاء الحق کسی نہ کسی طرح امریکہ سے دوستی اپنی شرائط پر رکھنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ صدر ضیاءالحق کا یہی امتیاز ہے کہ پاکستان کے تمام فوجی و سول حکمرانوں میں واحد ہیں جنہوں نے پاکستان کے کسی موقف میں ذرا بھی لچک پیدا کیے بغیر امریکہ کے ساتھ اپنے معاملات کو درست رکھا”

77ء میں جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان کے لیے امریکی فوجی امداد بلکل بند ہوچکی تھی، اقتصادی امداد بھی معطل تھی، دو سال تک انہوں نے امریکی امداد کے حصول کے لیے کوئی کوشش اور رابطہ نہ کیا۔ دسمبر 79ء میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو کچھ عرصہ بعد امریکی صدر جمی کارٹر نے 400 ملین ڈالر کی امداد کا ازخود اعلان کیا اور پاکستان کی تاریخ میں اس قسم کے ردعمل کی یہ پہلی مثال تھی کہ جب صدر ضیاء الحق نے کہا ” یہ مونگ پھلی کے دانے ہمیں نہیں چاہئیں”

83ء تک پاکستان بغیر کسی بیرونی امداد کے محض اپنے بل بوتے پر روس کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا۔ اسی دوران جنرل ضیاء چارلی ولسن کے ذریعے امریکہ کو اس جنگ میں شامل کرنے کی کوششیں کرتا رہا۔ بھٹو کا بھیانک جمہوری دور گزارنے والا پاکستان معاشی طور پر تباہ حال تھا اور روس جیسی سپر پاور کے خلاف جنرل ضیاء کو امریکہ کی ضرورت تھی۔

بلاآخر 83ء میں امریکہ جنرل ضیاء کی شرائط پر اس جنگ میں شامل ہوا۔ (ان شرائط پر انہی صفحات پر الگ سے مضمون پیش کیا جائیگا ان شاءاللہ ) پاکستان کی اقتصادی امداد بھی دوبارہ بحال ہوگئی۔ 87ء میں روس شکست کھا چکا تھا اور امریکہ جنرل ضیاء کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پاکستان کی امداد دوبارہ بند کرنے پر غور کر رہا تھا۔ تب جنرل ضیاء نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ کے سامنے ایک وضاحتی بیان تک جاری کرنا گوارا نہیں کیا۔

جنرل ضیاء پاکستان، افغانستان اور ایران کا ایک اتحادی بلاک بنانے کے چکر میں تھا جن کی خارجہ پالیسی، دفاع اور کرنسی ایک ہوتی۔ یہ بات امریکہ کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی جس کی وجہ امریکہ میں بہت سے لوگ جنرل ضیاء کو ایک بڑا خطرہ سمجھ رہے تھے اور ضیاء سے نفرت کرتے تھے۔ انہی میں ایک بڑا کردار سینٹر چارلس پرسی کا تھا۔ جنرل موصوف نہ صرف ان تمام کرداروں سے بخوبی واقف تھے بلکہ ان کو جوتی کی نوک پر رکھنے کا ہنر بھی جانتے تھے۔ اس حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ پیش خدمت ہے۔

جنرل ضیاء امریکہ کے سرکاری دورے پر تھے۔ چارلس پرسی سے ان کی ملاقات 4 بجے طے تھی۔ 4 بجے صدر ضیاء کیپٹل ہل پہنچے جہاں سینیٹر چارلس پرسی ان کے استقبال کے لیے موجود تھا۔ کمیٹی روم کی طرف جاتے ہوئے صدر ضیاء نے چارلس پرسی سے پوچھا کہ ” یہاں کوئی ایسی جگہ ملے گی جہاں میں اپنی عصر کی نماز ادا کر سکوں؟” منتظمیں سے صلاح مشورے کے بعد ایک استقبالیہ کمرے میں نماز کی ادائیگی کا بندوبست کیا گیا۔ صدر ضیاء کو نماز ادا کرنے میں 10 سے 15 منٹ لگے۔ اس دوران امریکی اخبار نویس اور چند پاکستانی صحافی بھی سوال کرتے رہے کہ یہ نماز ادا کرنے کا کونسا وقت تھا؟ چند ایک نے کہا کہ ” یہ ضیاء نے اچھا نہیں کیا۔ چارلس پرسی جیسا طاقتور سینیٹر مزید ناراض ہوگا وہ اس اتنظار کو اپنی ہتک سمجھے گا”۔ اس کے بعد باہر نکلے اور انتظار میں کھڑے چارلس پرسی کے ہمراہ کمیٹی روم چلے گئے جہاں نصف گھنٹہ دونوں کی میٹنگ جاری رہی۔

واپسی پر لوگوں نے بعض امریکی صحافیوں کے تاثرات سے آگاہ کیا تو جنرل ضیاء نے مسکرا کر جواب دیا کہ ” مجھے اسکا علم تھا اور میں نے جان بوجھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ کیپٹل ہل پر ہی عصر کی نماز ادا کرونگا۔ میں خاص طور پر اس مغرور امریکی سینیٹر کو بتانا چاہتا تھا کہ صرف امریکی ہی خوددار اور غیرتمند نہیں ہوتے بلکہ دوسرے لوگوں کی بھی وقار، عزت اور خودداری ہوتی ہے”۔ عام طو پر جنرل ضیاء بہت خوش اخلاق اور دوسروں کا خیال رکھنے والی شخصیت تھے۔ جنرل ضیاء کبھی بھی امریکہ سے مرعوب نہیں ہوئے اس کی ایک مثال ضیاء کا امریکی صدر کے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔

جنرل ضیاء امریکہ کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے پورے ملت اسلامیہ کے نمائندے کے طور پر اقوام متحدہ سے خطاب کرنا تھا ۔ امریکہ میں دو ماہ بعد الیکشن ہونے والے تھے ۔ جنرل ضیاءالحق اور امریکی صدر جمی کارٹر کی ملاقات ہوئی جس میں جمی کارٹر نے شکائتاً کہا کہ ۔۔۔
” جناب صدر آپ نے ہماری 400 ملین ڈالر کی امداد سرسری انداز میں اور فی الفور مسترد کردی ” ۔۔ جواباً جنرل ضیاء نے کہا کہ ” جناب صدر ان معاملات پر بات اب 4 نومبر کے بعد ہی مناسب ہوگی “۔۔۔

آغا شاہی کے بقول صدر ضیاء کا یہ جملہ سن کر ہمارے پاؤں تلے زمین نکل گئی ۔ اور جمی کارٹر کے چہرے پر خجالت نظر آنے لگی ۔ پاکستان کا غیر منتخب صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے منتخب صدر سے کہہ رہا تھا کہ ” تم الیکشن جیت کر آؤ پھر بات کرنا۔ ” ۔۔

جنرل کے اس جملے پر سفارتی حلقوں میں زبردست تبصرے ہوئے اور لوگوں نے کہا کہ ” جنرل امریکہ کے مقابلے میں کسی احساس کمتری کا شکار نہیں۔۔۔”

سچائی یہی ہے کہ جنرل ضیاء نہ کبھی امریکی آلہ کار رہے نہ وہ کسی بھی طرح امریکہ سے مرعوب تھے بلکہ انہوں نے امریکہ کو پاکستان کے مفادات کے لیے استعمال کیا۔

آج امریکہ کو خدا سمجھنے والے اس سچائی کو کبھی نہیں مانیں گے لیکن یہی سچ ہے۔
تحریر: شاہدخان

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج اور حزب اللہ کے لیڈر حسن نصر اللہ کی وصیت

حزب اللہ کے لیڈر حسن نصر اللہ نے پاکستانی سیاستدان کو اپنی حیران کن وصیت …

error: Content is protected !!