Home / Pakistan Army / نصر میزائل سے متعلق حقیقت اور غلط تصورات

نصر میزائل سے متعلق حقیقت اور غلط تصورات

پاکستان کے کم مار کے حامل بیلسٹک میزائل نصر سے متعلق پہلے سے موجود لٹریچر نے اسکے کردار اور افادیت پر وضاحت کی بجائے ابہام پیدا کیا ہے۔ کثرتِ رائے سے یقین کیا جاتا ہے کہ اگر بھارت نے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن (سی-ایس-ڈی)کو متحرک کیا تو پاکستان بھارت کے روائتی ہتھیاروں سے کسی بھی حملے کو نصر میزائل سے جواب دے گا۔

اس منظر نے بھارت اور مغربی حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا ہے جن کے مطابق اس سے نصر میزائل کے ارتقاء کو جوہری تھریش ہولڈ میں کمی اور نادانستہ جوہری تصادم کے خطرات ہو سکتے ہیں۔ اس لئے پاکستان جو اس بات پر مصر ہے کہ نصر میزائل بنیادی طور پر روائتی ہتھیاروں سے لیس حملے یا کشیدگی کو روکنے کےلئے کارگر ہے وہیں ناقدین اس میزائل کو کشیدگی بڑھانے کا آلہ سمجھ رہے ہیں۔

اسی بحث میں اضافہ کرتے ہوئے ‘سروائیول’ میں انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے سینئر فیلو بین بیری کا ایک مضمون “پاکستان کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار: عملی خرابیاں اور فوائد کی قیمت” شائع ہوا ۔ یہ مضمون پاکستانی نصر میزائل سے متعلق متنازعہ مگر قابلِ گفتگو بحث کو جنم دیتا ہے۔

خلاصہ کلام؛

بیری کا کہنا ہے کہ بھارتی روائتی جارحیت پر پاکستان ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کرے گا جو “بھارتی فورسز کو پاکستان کے اندر دخل اندازی کےلئے محدود جوہری (ہتھیاروں)کے استعمال کے ذریعے ایک کریڈیبل(موثر) جواب ہو گا”۔ بیری مزید کہتے ہیں کہ بھارت کے پاس دیگر آپشنز جیسے سرجیکل سٹرائیک کے ہوتے ہوئے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا استعمال آخری حل ہو گا۔ بیری کا مضمون پہلے سے اس خیال کا عکاس ہے کہ پاکستان کی حکمتِ عملی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں، بالخصوص نصر میزائل، پر منحصر ہے ۔

اس تناظر میں مصنف نصر میزائل کے پاکستان کے مقاصد حاصل کرنے کی ‘افادیت ‘ پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی روائتی کشیدگی میں تعیناتی بیان کرتے ہوئے بیری نصر کی آپریشنل پیچیدگیوں کو بھی بیان کرتے ہیں کہ میدانِ جنگ میں نصر کے استعمال سے متعلق جو ادراک پایا جاتا ہے،اور اسکو کیسے ایک ‘روائتی چال’ کے ہتھیار کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔

وہ پاکستان کے آپشنز پر بھی خدشات کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر کیسے بھارت جوابی جوہری ردِ عمل دے سکتا ہے۔روائتی کشیدگی میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی افادیت کو کم بیان کرتے ہوئے بیری کا محور ان ہتھیاروں کی ممکنہ نقصانات پر زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں پر خرچ کی گئی رقم روائتی صلاحیتوں کےلئے مختص نہیں ہے ۔ اگرچہ روائتی صلاحیتوں پر رقم خرچ کر کے بھارت کے مقابل موجودہ روائتی ڈیٹرنس کو بہتر بنایا جا سکتا تھا۔

نصر بطورِ آخری حل:

بیری کا ماننا ہے کہ بھارتی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن بھارت کےلئے (دورانِ جنگ یا انتہائی کشیدگی کی صورت میں) آخری حربہ ہو گا لیکن وہ ساتھ ہی ساتھ حقیقت نظر انداز کرتے ہوئے نصر میزائل کو بھی پاکستان کا آخری حربہ کہتے ہیں۔ بحثیتِ مجموعی بیری کا پاکستان کا کسی بھی روائتی بھارتی دخل اندازی پر ‘کم تر نوعیت کا جوہری جواب الجواب’ کا نظریہ ہی ان کے مضمون میں غالب ہے۔ اور یہ نظریہ پاکستانی سرکاری عہدیداران کی رائے سے متصادم ہے چونکہ انکا کہنا ہے کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کا استعمال صرف آخری حل کے طور پر کرے گا۔ حقیقت میں پاکستان کے پانچ دفاعی کور گجرانوالہ، لاہور، کراچی، بہاولپور اور راولپنڈی میں تعینات ہیں۔

یہ پانچ کور کسی بھی بھارتی روائتی حملے کے خلاف پہلی دفاعی لائن ہیں اور دو مزید کور پشاور اور کوئٹہ میں ہیں جن کو بوقتِ ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے نصر یا کسی دوسرے جوہری ہتھیار کا استعمال صرف اسی صورت میں ہوگا جب ڈیٹرنس ناکام ہو جائے گا ، پاکستان کو علاقے چھن جانے کا خوف ہو گا یا ملکی روائتی طاقتوں کی شکست ناگزیر دکھائی دینے لگے گی۔

مزید برآں بیری بھارتی روائتی حملے کے نتیجے میں نصر کو پاکستانی جوہری ردِ عمل میں خواہ مخواہ کی مرکزیت دیتے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کو بروئے کار لانے میں پاکستان نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے فیصلےمیں محض کم مار کے جوہری ہتھیاروں جیسے نصر پر ہی اکتفا نہیں کیا جائے گا۔ جب پاکستان کا جوہری تھریش ہولڈ میں رخنہ پڑے گا تو اس کے ردِ عمل میں دونوں طرح کے یعنی کاؤنٹر ویلیو اور کاؤنٹر فورس اہداف نشانے پر ہوں گے۔

نصر بطورِ ڈیٹرنس ہتھیار:

بیری کا کہنا ہے کہ نصر میزائل پاکستان کے فل سپیکٹرم ڈیٹرنس کو سہارا نہیں دیتا ہے۔ تاہم نصر کا بنایا جانا تزویراتی اہمیت کا حامل ہے چونکہ اسکا مقصد دشمن کے حملے کو ڈیٹر کرنے کا ہے کہ جس سے مکمل جنگ چھڑ جانے کا خدشہ ہو۔ پاکستان کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ نصر کو اسی وقت استعمال میں لائے گا جب بھارت سے اچانک مداخلت ہو سکتی ہو اور ایسی صورتحال میں نصر ڈیٹرنس کے طور پر کام کرے گا اور پھر بھارت کو پاکستان پر حملے کا موقع مل جانے سے محروم رکھے گا۔

مزید برآں نصر میزائل پاکستان کے روائتی ڈیٹرنس میں مضبوطی کےلئے بھی بنایا گیا ہے۔ 2015 میں کارنیگی انٹرنیشنل پالیسی کانفرنس کے موقع پر لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو “روائتی طاقت کےلئے ڈیٹرنس کو تقویت دینے” پر زور دیا۔ کیونکہ نصر میزائل کی وجہ سے بھارت کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن شروع کرنے سے قبل “دس نہیں تو کم از کم دو دفعہ ضرور سوچے گا”۔

پاکستان کے نصر میزائل کو جنگی ہتھیار کے بجائے ڈیٹرنس کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ اس بات سے عیاں ہے کہ چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو داغنے کی کمانڈ فوج کی کور کے پاس نہیں ہے۔ اس لئے انکا کنٹرول دورانِ جنگ آرمی سٹریٹجک فورس کمانڈ ، جسکا انتظام نیشنل کمانڈ اتھارٹی کرتی ہے، کے زیرِ سایہ نہیں ہو گا بلکہ وہ مرکزی کمانڈ کے پاس ہو گا جب تک کہ انکو استعمال میں لانے کا(مرکزی کمانڈ میں) فیصلہ نہیں ہو جاتا.

کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کو جانچنے کے روائتی پیمانے:

بیری کی پاکستان کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار پر تنقید اس نقطے پر ہے کہ پاکستان ان ہتھیاروں پر جو رقم خرچ کرتا ہے وہ زیادہ سود مند نہیں ہے کیونکہ ” تمام سکیورٹی، سپورٹ اور کمانڈ اینڈ کنٹرول داراصل پیسہ ہی ہے جو کہ جدید روائتی صلاحیتوں پر سرف نہیں کا جا سکتا”۔ یہ نظریہ پاکستان کے بھارت کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا جواب ہے۔ تاہم ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ پاکستان روائتی ہتھیاروں کی جدت میں بھی تمام اقدامات کر رہا ہے۔ حقیقت میں پاکستان اپنے روائتی ہتھیاروں میں جدت اور ارتقاء لا رہا ہے اور انکی صلاحیتوں میں دفاعی تعاون کے ساتھ اضافہ کر رہا ہے تاکہ متحرک بھارتی تزویراتی اقدامات کا توڑ نکالا جا سکے۔

پاکستان کے فوجی اخراجات میں ایک بتدریج مگر واضح اضافے کو خاصہ محسوس کیا گیا ہے۔اس اضافے سے پاکستان اپنے بیڑوں اور روائتی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔2017 اور 2018 میں کچھ اطلاعات سامنے آئیں جن کے مطابق پاکستان روائتی ہتھیاروں کے نظام ائیر ڈیفنس سسٹم، بشمول ٹینک، طیارے اور جنگی جہاز لے کر انکی استعدادِ کار بھی بڑھا رہا ہے۔

پاکستان کے روائتی ہتھیاروں کا کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن جیسے معاملات کو ردِ عمل اور افادیت بڑھانے کےلئے پاکستان نے ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۳ کے دوران مغربی سرحد کے قریب ‘عزمِ نو‘ کے نام سے جنگی مشقیں کیں۔ ان مشقوں کے بعد پاکستان نے تینوں مسلح افواج کی بہتر ربط سازی اور عسکری اثاثوں کو بروقت متحرک کرنے کےلئے ‘نیو کانسیپٹ آف وار فائٹنگ‘ تشکیل دیا۔ مزید برآں مشرقی سرحد پر فضائیہ بھی ہر پانچ سال بعد ‘ہائی مارک‘ نامی مشقیں بری فوج کے ساتھ مل کر منعقد کرتی ہے۔ فوج مشقیں جیسے ‘سٹرائیک آف تھنڈر‘، ‘ رعد البرق‘ اور ‘سی سپارک‘ بھی حالیہ وقتوں میں جاری رہی ہیں۔ ان مشقوں اور روائتی ہتھیاروں میں جدت لانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کےلئے محض ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں پر بھروسہ نہیں کئے ہوئے ہے۔

خلاصہ:
بیری کا بنیادی نقطہ کہ ‘ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں پر خرچ کی جانے والی رقم روائتی صلاحیتوں کےلئے میسر نہیں ہے’ داراصل ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے پاکستان کے قابل ِ اعتماد فل سپیکٹرم ڈیٹرنس میں اضافے کا سبب ہے اور فوجی اثاثوں پر خرچ پر بھی مبالغہ آرائی ہے۔ بیری کا مضمون کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن اور نصر میزائل کے حوالے سے ایک مستقل رائے بنائے رکھتا ہے۔ حقیقت میں جنوبی ایشیا میں کاؤنٹر فورس سے متعلقہ بحث پاکستان پر مرکوز ہے جبکہ بھارت کی روائتی و جوہری کاؤنٹر فورس صلاحیتوں کو (دانستہ طور پر) خاطر میں نہیں لایا جاتا۔

بھارت کی میدان جنگ میں کم مار کے بیلسٹک میزائلوں کے حصول اور کولڈ سٹارٹ کے تحت تیز تر فوجی مہم (جب اس کے پاس اعتماد اور صلاحیت موجود ہے) پر ایک متوازن بحث کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے نصر میزائل نے بھارت کو میدانِ جنگ کی میزائل کی صلاحیتوں کو آشکار کرنے پر مجبور کیا اور اب وہ ‘پیناکا-ایم-کے -2’ گائیڈڈ راکٹ (جس کی مار 75 کلومیٹر ہے) پر کام کر رہا ہے۔

اس کے بارے میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پراہر (150 کلومیٹر کی مار کا حامل) کے ساتھ ساتھ مل کر ایک ٹیکٹیکل اثاثہ بن سکتا ہے ۔ بھارت کی روائتی حملہ کرنے کی صلاحیت ڈیٹرنس کی ناکامی کی ایک مثال ہے کیونکہ اس سے ایک مکمل روائتی جنگ چھڑ سکتی ہے جو ممکنہ طور پر جوہری تصادم کا روپ دھار سکتی ہے۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

لال مسجد آپریشن کیوں ہوا تھا – کچھ تلخ حقائق

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لال مسجد اور قبائیلی علاقوں میں آپریشن نے پاک آرمی کو …

error: Content is protected !!