Home / Pakistan Air Force / نور خان ائر بیس کہاں ہے؟

نور خان ائر بیس کہاں ہے؟

نور خان ائر بیس کہاں ہے؟

اگر میں یہ کہوں کہ دانشوروں کو سول سپریمیسی کے “ل” اور اسٹیبلشمنٹ کے “ن” کا بھی نہیں پتا تو بعض دوست “ان ایزی” فیل کریں گے۔ کل جب امریکی سفارتکار کرنل جوزف امریکی فضائیہ کے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے نور خان ائر بیس سے افغانستان کے بگرام ائر بیس روانہ ہوا تو ن لیگی دانشوروں اور فوج کے زخم خوردہ ملاؤں نے نور خان ائر بیس کا نام سنتے ہی یقین کر لیا کہ یہ کام سول قیادت کا نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔

حالانکہ بعض باخبروں کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مذکورہ ائر بیس کہاں واقع ہے؟
اے میرے ملک کے قابل قدر دانشورو! ملک کا دارالحکومت اسلام آباد بننے سے قبل راولپنڈی کے علاقے چکلالہ میں فوجی مقاصد کے لیے ایک ہوائی اڈہ موجود تھا جسے چکلالہ ائر بیس کہا جاتا تھا۔

جب اسلام آباد پھلا اور پھولا تو اس ہوائی اڈے کو سی ڈی اے کی حدود میں زبردستی شامل کر کے اسے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کا نام دے دیا گیا۔ زبردستی اس لیے کہ یہ پورا علاقہ راولپنڈی کی حدود میں ہے لیکن اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی حدود میں توسیع کرکے اسے اسلام آباد نے گود لے لیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پیپلز کی حکومت نے اسلام آباد انٹرنیشل ائرپورٹ کا نام بے نظیر انٹرنیشنل ائر پورٹ رکھ دیا۔

اس سے قبل جب چکلالہ ائر بیس کو سول مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو یہاں موجود فوجی تنصیبات کو محض ڈیڑھ دو سو میٹر شمال مغرب کی جانب منتقل کیا گیا اور موجودہ ائر پورٹ روڈ کی جانب سول فضائی ٹرمینل بنایا گیا۔ کچھ عرصہ قبل فضائیہ نے چکلالہ ائر بیس کو ائر مارشل نور خان کے نام سے موسوم کر دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ راولپنڈی کے اسی پرانے چکلالہ ہوائی اڈے کے واحد رن وے کو سول طیارے بھی استعمال کرتے ہیں اور فوجی طیارے بھی۔

(حال ہی میں فتح جنگ کا نیو اسلام آباد ائر پورٹ بننے کے بعد چکلالہ سے سول فلائٹ آپریشن نئے ائر پورٹ پر منتقل ہوا ہے)
تو بھائیو کل ملا کر بات یہ ہے کہ اس وقت ہی نہیں، برسوں بلکہ دہائیوں سے جو بھی طیارے راولپنڈی/ اسلام آباد آتے جاتے ہیں، وہ یہی رن وے، یہی ایپرن، یہی ٹارمک استعمال کرتے ہیں، واحد فرق یہ ہے کہ سول طیارے پہلی عمارت کے سامنے باندھے جاتے ہیں جبکہ فوجی طیارے دو سو میٹر آگے دوسری عمارت کے کھونٹوں سے۔ پہلی عمارت سول ایوی ایشن کے زیر انتظام ہے جبکہ دوسری فضائیہ کے۔

اب چونکہ امریکی سفارتکار بلحاظ عہدہ کرنل اور بحیثیت ملٹری اتاشی تعینات تھا تو اسے لیجانے کے لیے امریکی فوج کا سی ون تھرٹی طیارہ آیا جسے حسب معمول دوسری عمارت یعنی نور خان ائر بیس کے کھونٹے سے باندھا گیا اور کرنل جوزف کو چونکہ معمول کی کسٹم اور امیگریشن سے نہیں گزرنا تھا تو اسے بے نظیر انٹرنیشنل ائرپورٹ نہیں، نور خان ائر بیس سے روانہ ہونا تھا۔

اب اگر آپ کے پاس اپنے “باوثوق ذرائع” سے کوئی خبر ہے کہ کرنل جوزف کو سول قیادت نے واپس بھیجا یا فوجی قیادت نے تو اس کے حوالے سے بات کیجیے، محض نور خان ائر بیس کا نام سن کر اندازے مت لگائیے۔

اطلاعاً عرض ہے جب امریکی صدر بل کلنٹن پاکستان تشریف لائے تھے تو وہ بھی اسلام آباد انٹرنیشنل ائر پورٹ نہیں بلکہ چکلالہ ائر بیس کی عمارت سے ہی درآمد برآمد ہوئے تھے ۔۔۔۔ اور ہاں شریف خاندان جب مشرف سے معاہدہ کر کے سعودی عرب گیا تھا تو انہیں لے جانے والا سعودی طیارہ بھی چکلالہ ائر بیس ہی کے کھونٹے سے بندھا انتظار کر رہا تھا۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاکستان کا جے ایف سترہ فائٹر جیٹ پروگرام

اس آرٹیکل میں آپ کو پاکستان کے بنائے ہوئے لڑاکا طیارے جے ایف سترہ تھنڈر …

error: Content is protected !!