Home / Pakistan Army / ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم (Crotale) پاکستان کا کروٹیل

ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم (Crotale) پاکستان کا کروٹیل

فرانس کی کمپنی تھامسن کا بنا کروٹیل میزائل شارٹ رینج ٹارگٹس جیسے ہیلی کاپٹرز ڈیٹکیٹڈ کروز میزائل اور جنگی جہازوں کے لئے موت کا پیغام تصور کیا جاتا ہے ۔ کروٹیل بنانےکے لیئے تھامسن کو جنوبی افریقہ نے ٹھیکہ دیا تھا جسے Crotale R440 کہتے ہیں اس کے بعد کمپنی نے کروٹیل 2000 کے نام سے ان میزائلوں کو بنا کر مارکیٹ کیا، انہیں وی ٹی بھی کہا جاتا ہے اور اس میزائل نے بہت کامیاب کنٹریکٹس لیے ۔

اس کی رینج 20 کلو میٹر ہے اس کا اپگریڈ کیا ہوا ورژن کروٹیل 4000 کہلاتا ہے اسے ایم کے 3 بھی کہا جاتا ہے اسکی رینج 30 کلو میٹر ہے ۔اور یہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک موبائل جو دو گاڑیوں پر سیٹ ہوتا ہے ایک راڈار اور کنٹرول اور دوسری میزائیل لانچر ۔ دونوں ایک ساتھ ہی رہتی ہیں اور دونوں کو کنکٹ کیا جاتا ہے کمپیوٹر کی مدد سے ۔ دوسرا سسٹم جو بحری جہازوں پر لگایا جاتا ہے وہ مکمل شپ پر ہی ہوتا ہے اور اسے کنٹرول روم سے آپریٹ کیا جاتا ہے ۔

پاکستان کے پاس دونوں سسٹمز موجود ہیں ۔ یہ 1200 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتا ہے اور 8 سے 11 سیکنڈ میں جا لیتا ہے اس طرح اسے لانچ ہونے میں صرف 2 سیکنڈ لگتے ہیں اس سے پہلے کہ دشمن کے جہاز کا راڈار پائلٹ کو میزائیل وارننگ دے یہ سر پر پہنچ جاتا ہے ۔

ایم کے تھری یا کروٹیل 4000 کی بات کی جائے تو بہتر ہے کیونکہ یہی سسٹم پاکستان آپریٹ کرتا ہے ۔ کروٹیل 4000 اصل میںکروٹیل 2000 سے بنایا گیا ہے اور پرانے میزائلوں کمپیوٹرز کو اپگریڈ کر کے بھی کروٹیل 4000 بنایا جا سکتا ہے ۔ جن ملکوں نے بڑی تعداد میں کروٹیل لے رکھے تھے انہوں نے بہتر سمجھا اسے اپگریڈ کر دیا جائے ۔

پاکستان کے پاس اس کی 23 بیٹریاں ار 11 کنٹرول سٹیشنز ہیں ہر بیٹری میں 4 لانچر اور 4 راڈار ہیں اور ہر لانچر پر 4 میزائل ہیں اس طرح ایک بیٹری پر 16 میزائیل ہیں نیوی کے ہر لانچر پر 8 میزائل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی اضافی میزائلوں کا ٹرک ہوتا ہے جو اسے ری لوڈ کرتا ہے ۔

کروٹیل پاکستان نے سیکنڑوں کے حساب سے خریدا تھا تاکہ مستقبل میں کسی جنگ کے دوران مکمل ائیر کور دی جا سکے اور یہ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا موبائل سام تھا ۔ پاکستان نے اس کی بیٹریاں مکمل انڈین بارڈر کو کور دینے کے لیے استعمال کی اور راڈار گیپس کو فل کیا ۔

1995 میں پاکستان نے تھامسن سے کنٹریکٹ کر کے ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی لی اور ان میزائلوں کی ملک میں ہی اپگریڈیشن شروع کی ۔ 1999 میں پہلا پاکستان کا اپگریڈ کیا ہوا سسٹم فوج کے حوالے کیا گیا ور اسطرح میزائل مزید کئی سالوں کے لیئے سروس میں دوبارہ شامل ہو گیا ۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

لال مسجد آپریشن کیوں ہوا تھا – کچھ تلخ حقائق

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لال مسجد اور قبائیلی علاقوں میں آپریشن نے پاک آرمی کو …

error: Content is protected !!