Home / Pakistan / غزوہ ہند کا ابتدائی حصہ ڈس انفارمیشن وار؟

غزوہ ہند کا ابتدائی حصہ ڈس انفارمیشن وار؟

غزوہ ہند کا ابتدائی حصہ ڈس انفارمیشن وار ۔۔؟

غزوہ ہند کے بارے میں سب سے صحیح حدیث یہ ہے۔

حضرت ثوبان ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

”میری اُمت میں دو گروہ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔”

یہ سنن نسائی کی حدیث ہے۔ اس کے تمام تر حوالے آپ کو انٹرنیٹ پر باآسانی مل جائنگے۔

ان کے علاوہ حضرت ابو ہریرہ سے بھی کچھ روایات ملتی ہیں جو اس حدیث کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ گو ان روایات کو کچھ علماء ضعیف قرار دیتے ہیں۔ مثلاً

”کاش کہ مجھے رومیوں کے ساتھ جنگ و جہاد میں گذری ساری عمر کے بدلہ میں ہندوستان کے خلاف، نبوی پیشین گوئی کے مطابق، جہادی مہم میں حصہ لینے کا موقع مل جاتا۔”

کئی روایات میں غزوہ ہند کو غزوہ بدر کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔

اب میں اس حوالے سے چار سوالات کرتا ہوں۔ دو سوالات کے جوابات خود دینے کی کوشش کرونگا اور دو کے آپ پر چھوڑتا ہوں۔

پہلا سوال ۔۔۔۔۔۔۔ کیا پاکستان کی انڈیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ غزوہ ہند ہوگی؟؟

غزوہ ہند سے متعلق اگر تمام روایات کا جائزہ لیا جائے تو مندرجہ ذیل چیزیں واضح ہوتی ہیں۔

1۔ وہ جنگ آخری دور میں لڑی جائیگی۔
2۔ اس وقت مسلمانوں کی طاقت کا مرکز حجاز میں نہیں بلکہ خراسان میں ہوگا جس میں پاکستان، انڈیا، افغانستان، روس اور ایران تک کے علاقے شامل ہیں۔
3۔ طاقت کے اس مرکز میں موجود عجمیوں کا لشکر بہتر ہتھیاروں سے لیس اور بہترین شاہسوار ( جنگجو ) ہوگا۔
4۔ اس وقت بیت المقدس میں یہودیوں کا اجتماع ہوچکا ہوگا۔
5۔ شام میں خرابی ہو چکی ہوگی۔
6۔ اس لشکر کو بیک وقت یہود و ہنود سے دشمنی اور جنگ درپیش ہوگی۔

ان شرائط پر سوائے پاک فوج کے دوسرا کوئی لشکر پورا نہیں اترتا۔ نہ انڈیا، نہ ایران، نہ افغانستان، نہ ہی روس یا اس سے آزاد ہونے والی وسطی ایشائی ریاستیں۔ نہ ہی وہ دہشت گرد تنظیمیں جو محض خراسانی لشکر کا “میک اپ” کر کے (کالے جھنڈے اٹھا کر) یہود و ہنود کے پے رول پر لڑ رہی ہیں۔
ان شرائط پر محمد بن قاسم اور محمود غزنوی بھی پورے نہیں اترتے۔

یقین ہے کہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کا فیصلہ کن معرکہ ہی وہ جنگ ہے جس کی پیش گوئی حضورﷺ کر چکے ہیں۔ اس کے کچھ دلائل آپ کو دوسرے سوال کے جواب میں بھی مل جائینگے۔

دوسرا سوال فضیلت کا ہے کہ مسلمانوں نے ان چودہ سو سالوں میں بہت بڑی بڑی جنگیں لڑیں ہیں لیکن غزوہ ہند ہی کی اتنی فضلیت کیوں؟؟

غزوہ بدر کی فضلیت اس لیے زیادہ تھی کہ اگر وہ جنگ مسلمان ہار جاتے تو مسلمانوں کی قوت ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتی۔
لیکن غزوہ بدر کی فتح نے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ایک فیصلہ کن قوت بنا دیا۔

انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کی فیصلہ کن شکست بھی مسلمانوں کے لیے ایسی ہی عظیم تباہی لاسکتی ہے۔ ذرا اس پر غور کیجیے۔

1۔ مشرکین کی اس وقت دنیا میں سب سے بڑی ریاست انڈیا کے لیے پاکستان بدترین دشمن اور رکاؤٹ ہے۔

2۔ اسرائیل کے لیے مدینہ کی طرف پیش قدمی کو پاکستان نامی اسلامی ایٹمی قوت سے مستقل خطرہ درپیش ہے جسکا مزہ وہ 67ء اور 73ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں چکھ چکا ہے۔

3۔ امریکہ کی عالمی اجارہ داری کے راستے میں جو اکلوتا کانٹا حائل ہے وہ بھی پاکستان ہے۔ اس کو صرف اس تناظر میں نہ دیکھئے کہ بقول ٹرمپ ” پاکستان ہی افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد کر رہا ہے”
بلکہ سی پیک اور گوادر پر روس اور چین کے انحصار کے حوالے سے بھی دیکھئے۔

4۔ اسلامی دنیا کی دو اہم ترین طاقتوں ایران اور سعودی عرب میں جنگ کو روکے رکھنے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ صرف پاکستان کی سعودی عرب میں علامتی موجودگی نے ایران کو سعودی عرب پر چڑھائی سے روک رکھا ہے۔ اگر ان میں جنگ ہوتی ہے تو پورے عالم اسلام میں زلزلہ آئیگا۔

5۔ جنگ جتنی سخت اور مشکل ہو اجر اتنا بڑا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اور انڈیا کی جنگ ہوتی ہے تو پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر یہ جنگ لڑنی پڑے گی جس میں طاقت کا توازن بری طرح سے پاکستان کے خلاف ہوگا۔ یہ جنگ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر سخت ترین جنگ ہوگی۔

الف ۔۔۔ ایٹمی جنگ کے خطرات کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو بیک وقت انڈیا اور افغانستان میں موجود امریکی کٹھ پتلی فوج کے علاوہ ان لشکروں سے بھی لڑنا پڑے گا جن کو اسلام اور قومیت کے مختلف نعرے دے کر پاکستان کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے۔

ب ۔۔۔ دشمن کے مقابلے میں افرادی قوت بہت کم ہوگی۔ 65ء کی طرح ایک اور پانچ کا تناسب ہوگا۔

ج ۔۔۔ انڈیا دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے جو ہتھیاروں کے انبار لگا چکا ہے۔ جبکہ افغانستان کو امریکہ اور اسرائیل ہر قسم کے وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان مقابلے میں پاک فوج کے پاس یقیناً بہت کم ہتھیار ہیں۔

د ۔۔۔ پاک فوج عوام کے ایک بڑے طبقے کی حمایت سے محروم ہوگی جس پر پورے ملک میں شد و مد سے کام جاری ہے۔ آپ نوٹ کیجیے بیک وقت اسلام پسندوں، لبرلز اور قوم پرستوں کو پاک فوج سے متنفر کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کبھی پاکستان سے براہ راست جنگ کا خطرہ مول نہیں لے گا بلکہ انڈیا کو ہی استعمال کرے گا اور اگر اس جنگ میں پاکستان کو شکست ہوتی ہے تو پورا عالم اسلام اتنی تیزی سے گرے گا جس کا تصور ہی خوفزدہ کردینے والا ہے۔

لیکن دوسری طرف اس جنگ کی فتح نہ صرف امریکہ و اسرائیل ( یہود و نصاری ) کو اس خطے میں اپنے سب سے بڑے حلیف سے محروم کر دے گی بلکہ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور کشمیر میں موجود کم از کم پچاس کروڑ مسلمانوں کو مستقل طور پر ایک جابر ریاست سے نجات مل جائیگی۔
جس کے بعد یہاں موجود لشکر انڈیا کی مدد و حمایت سے محروم اسرائیل کی طرف مارچ کر سکیں گے۔

ان حالات کے پیش نظر پاکستان اور انڈیا میں ممکنہ جنگ کی وہی فضلیت ہونی چاہئے جن کا تذکرہ احادیث میں ملتا ہے۔ غزوہ بدر کی طرح۔

اب دو سوالات کے جوابات میں آپ سے لینا چاہتا ہوں۔

فورتھ یا ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح نئی ہے۔ لیکن ہندو اس طرز کی جنگ ڈھائی ہزار سال سے لڑتے آرہے ہیں۔ ہندو کی چانکیہ پالیسی کا آپ نے سنا ہوگا۔
اس میں کسی ملک پر باقاعدہ حملہ کرنے سے پہلے اس کو اندر سے کمزور کیا جاتا ہے۔ ملک کے اندر شورشیں اور بغاوتیں برپا کی جاتی ہیں۔ عوام میں اپنی ریاست اور فوج کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے۔

اگر پاکستان کی انڈیا کے ساتھ جنگ غزوہ ہند ہی ہے تو کیا اس جنگ سے پہلے لڑی جانے والی ڈس انفارمیشن وار بھی اس جنگ یا غزوہ کا حصہ تصور ہوگی؟؟؟

اور دوسرا سوال اگر فورتھ اور ففتھ جنریشن وار یا چانکیہ پالیسی کے خلاف مزاحمت اس جنگ کا ابتدائی حصہ ہے تو حضورﷺ نے غزوہ ہند لڑنے والوں کے لیے جس انعام یا اجر کا وعدہ کیا ہے اس کی امید یہ مزاحمتی جنگ لڑنے والے بھی رکھ سکتے ہیں؟؟
جیسے غزوہ خندق میں ایک صحابی نے ڈس انفارمیشن وار کے ذریعے کفار کی صفوں میں دراڑ ڈالی تھی یقیناً وہ صحابی غزوہ خندق کے اجر کا حقدار تھا۔

نیز اگر غزوہ ہند کا ابتدائی حصہ لڑنے والوں کے لیے آگ سے نجات کی خوشخبری ہے تو ان مسلمانوں کا کیا ہوگا جو کفار کی طرف سے یہ جنگ لڑ رہے ہیں؟

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

جنگ ستمبر لاہور محاذ کے آخری مناظر کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی زبانی

بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ٹائمز کے نمائندے لوئس کرار نے 23 ستمبر …

error: Content is protected !!