Home / Pakistan / افغانستان سے متعلق کچھ چونکا دینے والے حقائق

افغانستان سے متعلق کچھ چونکا دینے والے حقائق

افغانستان سے متعلق کچھ چونکا دینے والے حقائق۔۔۔۔۔!

افغانستان کی پاک دشمنی ہمیں جہیز میں ملی ہے ، اقوام متحدہ میں واحد ملک جس نے پاکستان کے وجود کی مخالفت کی تھی وہ افغانستان ہی تھا ـ وجود اور وسائل کے لحاظ سے دیکھا جائے تو افغانستان پاکستان کا انڈیا سے بڑا دشمن ہے ، اس نے پاکستان کو مٹانے کے لئے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کوشش کی ، پہلے یہ بارڈر پر چھیڑ چھیڑ کرتے ہیں پھر کوشش کرتے ہیں کہ پشتوں بیلٹ میں ہمارے خلاف کوئی تحریک چلا کر وہاں کے قبائلیوں کو اندر سے وار کرنے پر آمادہ کریں ـ

1947 میں پاکستان کے بارے میں تھرڈ جون پلان آتے ہی افغانستان نے پشتون بیلٹ کو پاکستان میں شامل ھونے سے روکنے کے لئے سعی و جہد شروع کر دی تھی۔ اس وقت کے بادشاہ ظاھر شاہ کے دوست نجیب اللہ نے پشتونستان تحریک کی پلاننگ کی وہ پشتون بیلٹ کو ساتھ ملا کر الگ سے ایک پشتون اکائی بنانا چاہتا تھا ، افغانستان میں پشتون ایک بڑی قوم ہے مگر افغانستان میں تاجک اور ازبیک سمیت دیگر کئ قومیں بھی آباد ہیں جن کے ساتھ پشتونوں کی چپقلش کی اپنی تاریخ ھے ، افغانستان میں پشتون اس بڑی تعداد میں ھونے کے باوجود ہمیشہ پسا ھوا طبقہ ہی رھا ھے اور حکومت پر گرفت ہمیشہ دوسرے گروپس کو حاصل رھی ھے۔

تعلیم یافتہ فارسی اسپیکنگ بیوروکریسی پر غالب رھے اور بزنس پر بھی قابض رھے جبکہ پشتون مزدور طبقہ ھی رھا ، زار کا زمانہ ھو یا سوفیت یونین کا دور ، فارسی اسپیکنگ بزنس مین اور افغان فارسی اسپیکنگ بیوروکریسی روس کے بہت قریب رھے اور اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں لگے رھے افغانستان کی معیشت انہی تاجکوں ازبکوں اور فارسی اسپیکنگ جبکہ پشتونوں کے حالات ہمیشہ دگرگوں رہے۔

ان کے علاقوں میں ترقی بھی نہ ہوئی اور تعلیم کا حال بھی بہت برا رھا ـ یہ تعداد کے لحاظ سے افغانستان کے پنجابی ہیں مگر وسائل پر قبضہ ہمیشہ تاجک ھزارہ ، ازبک اور دیگر فارسی بولنے والی قوموں کا رھا ، افغانستان نے پشتونوں کو ہمیشہ یہی پٹی پڑھائی کہ آپ کی ترقی پاکستان کے پشتون علاقوں کے افغانستان کے ساتھ الحاق سے جڑی ہوئی ہے ، پشتون علاقوں کے افغانستان کے ساتھ الحاق کے ساتھ پشتونوں کے لئے دنیا جنت بن جائے گی وغیرہ وغیرہ ـ

۲۱ جون ۱۹۴۷ میں اعلانِ بنوں کے نام سے باچا خان ، نجیب اللہ دستِ راست ظاھر شاہ اور دوسرے لوگوں نے اعلان کیا کہ وہ اس ریفرینڈم کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے جو انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے N W F P ع میں کرایا تھا اور جس میں ۹۹ فیصد پشٹونوں نے پاکستان میں شمولیت کا عندیہ دیا تھا ، جبکہ فاٹا کو اس ریفرنڈم سے الگ رکھ کر ایک آزاد حیثیت دے دی گئ اور فیصلہ ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ، قائد اعظم نے فاٹا کے تمام قبائل کے سرداروں اور عمائدین سے ملاقاتیں کیں اور انہیں یہ یقین دلایا کہ پاکستان ان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ھے جن کو حل کیا جائے گا ، فاٹا نے بھی اپنی مرضی کے ساتھ پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا ـ

لہذا اگر قائد زندہ رھتے تو یہ فاٹا شاید پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقہ ھوتا کیونکہ یہاں کے لوگ نہایت ذھین ،معاملہ فہم اور قوتِ فیصلہ رکھنے والے زرخیز ذھن کے مالک اور پاکستان کے ایسے وفادار تھے کہ پاکستان کو کبھی اس بارڈر پر فوج رکھنے کی ضرروت محسوس نہ ھوئی اور یہ خود ہی پاک فوج کا بہترین متبادل تھے ـ

اگست ۱۹۴۷ میں قائد اعظم نے بیان دیا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے بھائی افغانستان کو ساتھ لے کر چلے گا ، وہ افغانستان جس کے ساتھ ہماری دلی ہمدردیاں ہیں اور ہم ان کو اپنے جسد کی طرح عزیز رکھتے ہیں ،، اس خیر سگالی کے پیغام کے باوجود ستمبر ۱۹۴۷ میں ہی افغانستان وہ واحد ملک تھا جس کے نمائندے اور وزیر مہتاب علی شاہ جو فارسی اسپیکنگ کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا اس نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے وجود کے خلاف ووٹ دیا ـ

شاہ ظاھر شاہ کا دستِ راست سردار نجیب اللہ نومبر ۱۹۴۷ میں شاہ کا ایلچی بن کر کراچی آتا ھے جو اس وقت پاکستان کا دارالخلافہ تھا ، کراچی میں اسٹیٹ گیسٹ کے طور پر اس کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا جاتا ھے گویا وہ ایک ایلچی نہیں بلکہ خود بادشاہ یا صدر مملکت ھو، قائدِ اعظم خود اس سے ملتے ہیں ، مگر یہ سانپ اصل میں پاکستان کو دھمکانے کے لئے آیا تھا۔

اس نے قائدِ اعظم کے سامنے نہایت رعونت کے ساتھ تین مطالبات رکھے ، اور انداز الٹی میٹم والا تھا کہ یہ تم کو کرنا ہی ھو گا، ورنہ ہم تمہارے خلاف فوجی کاروائی بھی کر سکتے ہیں ـ یہ مطالبات نجیب اللہ نے باقاعدہ ریڈیو کابل سے براہ راست خطاب میں بیان کیئے کہ ھم نے یہ تین مطالبات پاکستان کے سامنے رکھے ہیں جن کو پورا کر کے ہی پاکستان ہم سے تعلقات کی امید کر سکتا ھے ورنہ ہم اس کے وجود کو نہ تو تسلیم کریں گے اور نہ اس کی گارنٹی دیں گے

۱۔ فاٹا کو آزاد کر کے افغانستان کے حوالے کر دیا جائے ـ

۲ ـ چمن سے جنوب میں گوادر تک جو اس وقت عمان کے زیر تسلط علاقہ تھا ہمیں ۱۰۰ میل چوڑا کوریڈور فراھم کیا جائے جس پر افغانستان کا مکمل کنٹرول ھو، اور جس میں افغانی قانون اور کرنسی لاگو ہو یوں اس کے ذریعے ہمیں سمندر تک رسائی دی جائے ـ

۳ ـ کراچی کی بندرگاہ پر افغان فری زون قائم کیا جائے جو پاکستان کے قانون سے مبرا ھو اور جس پر مکمل افغانی کنٹرول ھو تا کہ ہم اپنی درآمدات و برآمدات کے لئے اس کو بلا روک ٹوک استعمال کر سکیں ـ

جس قدر یہ مطالبات توھین آمیز اور آمرانہ ذہنیت کے حامل تھے اسی طرح ان کو پیش کرنے کا انداز بھی اشتعال انگیز تھا ، یہ صاف صاف بھتہ لینے والی لینگویج تھی ـ ایک نیا ملک جس کے پاس وسائل کی کمی ھے ،جس کی بیوروکریسی ابھی اپنے آپ کو سنبھالنے میں لگی ھے اور جس کو ھند سے ابھی اپنے اثاثہ جات تک نہیں ملے ، مہاجرین کا سیلاب تھا جس کو کسی طرح ہینڈل کرنے کی کوشش کی جا رھی تھی۔

پاکستان کے پاس ہتھیار نام کی کوئی چیز نہیں تھی ،الغرض ایک مسلمان ملک ھوتے ہوئے افغانستان ایک نومولود مسلم ملک کو دھمکا کر اور ہراساں کر کے اس سے اپنے ناجائز مطالبات مذاکرات سے نہیں بلکہ دھونس اور دھمکی سے ڈان کے لہجے میں پیش کرتا ہے ـ لوگ کہتے ہیں کہ انڈیا افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ھے جبکہ حقیقت یہ ھے کہ افغانستان اپنی دشمنی نکالنے کے لئے انڈیا کو استعمال کرتا ھے ،وہ انڈیا سے پہلے کا پاکستان کا دشمن ہے ـ

قائد اعظم نے بڑے صبر کے ساتھ ان کی یاوہ گوئی کو سنا اور نہایت نرم لہجے میں ان کو دوٹوک جواب دے دیا کہ سوری ان میں سے کوئی بات بھی قابلِ عمل نہیں ہے ـ نجیب اللہ صاحب واپس تشریف لے گئے اور ریڈیو کابل سے براہ راست دھمکی آمیز خطاب کیا ـ

۱۹۴۸ میں ایک دفعہ پھر پاکستان کو یو این او کا رکن بنانے کی قرار داد پیش کی گئ افغانستان نے پھر اس کی مخالفت کی مگر اس دفعہ امریکہ اور دیگر بڑے ممالک کے دباؤ پر پاکستان کو رکن بنا لیا گیا ـ

1949 میں افغان لویا جرگہ بلا کر پاکستان کے وجود کا انکار کیا گیا اور کہا گیا کہ لویا جرگہ نے فیصلہ کیا ھے کہ وہ ڈیورنڈ لائن معاہدہ جو برطانیہ کے ساتھ کیا گیا تھا اس کو ہم منسوخ کرتے ہیں اور اب وہ تمام علاقے جن میں پشتون بستے ہیں ان کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے یعنی وہ افغان علاقے ہیں ـ یہ مجرد بدمعاشی تھی ، سفارتی اور اخلاقی لحاظ سے اس اعلان کی کوئی اھمیت نہیں تھی لہذا نہ تو پاکستان نے اس کو قبول کیا اور نہ ہی بین الاقوامی برادری نے اس کو کوئی اہمیت دی ـ

اس کے بعد ۱۹۴۹ میں ایک افغان مرزا علی خان جو پہلے خان عبدالغفار خان کے ساتھ دیکھا جاتا تھا اور پھر کچھ عرصے کے لئے زیر زمین چلا گیا تھا ، اچانک نمودار ھوا اور اس نے پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیاں شروع کر دیں ، اس کی کاروائیاں وزیرستان سے شروع ھو کر کوھاٹ تک تھیں وہ چن چن کر ان عمائدین کو ٹارگٹ کرتا جنہوں نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کی تھی ـ یہ توچی کے علاقے میں زخمی ھوا اور خوست میں اپنی طبعی موت مرا جبکہ اس کے دو بیٹے گلزار علی اور میرزمان بھی اس کے ساتھ ھوتے تھے ایک فوج کے ہاتھوں مارا گیا دوسرے کا کوئی پتہ نہ چلا ،۔

اس کے بعد ستمبر 1949 میں افغانستان نے اپنی پوری فورس اور لوکل ملیشیا کے ساتھ چمن کی طرف سے پاکستان پر بھرپور حملہ کیا ـ سپن بولدک سے لے کر پاکستان کے اندر ۳۰ کلومیٹر کا علاقہ وقتی طور پر کنٹرول میں کر لیا کیونکہ پاکستان نے اس علاقے میں کوئی فوج یا فورس نہیں رکھی تھی ـ

پاکستانی فورسز کو علاقے میں بھیجا گیا ، 6 دن تک مسلسل دست بدست جنگ کے بعد افغانوں کو پاکستانی علاقے سے کھدیڑ دیا گیا اور مزید چھ دن میں اسپن بولدک بھی پاکستانی فورسز کے قبضے میں آ گیا ، یہ ٹوٹے پھوٹے آلات اور قدیم اسلحے سے لیس پاک فوج تھی جس نے گُھس بیٹھیوں کو تہس نہس کر دیا ـ

اس کے بعد کبھی بھی افغان فوج میں پاکستان کا سامنا کرنے کی جرآت نہ ھوئی اور وہ سازشیں اور دھشتگردانہ کاروئیاں کرتے رھے ـ ان چھ دنوں میں افغان میڈیا بالکل ویسی ہی زبان بولتا رھا جیسی ایٹمی دھماکوں کے بعد انڈین قیادت بولتی رھی جب تک کہ ہم نے جوابی دھماکے کر کے ان کی بولتی بند نہ کر دی ، افغان میڈیا کے بقول چمن سے آگے کراچی ان کی منزل تھی اور وہ دنیا کو نوید سنا رھے تھے کہ بہت جلد پاکستان کا دارالخلافہ ان کے قبضے میں ھو گا ـ

مگر جب پاکستان نے اسپن بولدک بھی لے لیا تو یہی لوگ منتیں ترلے کرنے لگے اور کئی عمائدین کو درمیان میں ڈال کر علاقہ واپس لینے کی کوششیں شروع کر دیں ـ اسپن بولدک واپس لینے کے بعد افغانستان نے ۱۹۵۰ میں انڈیا کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا جس کا ایک نقاطی ایجنڈہ تھا کہ پاکستان کو کسی بھی طرح گھیر کر ختم کرنا ہے ـ

۱۹۵۵ میں سردار داؤود وغیرہ نے پاکستان کی بارڈر پر بہت بڑے بڑے کھمبے لگائے جن پر اسپیکر لگا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا اور پاکستانی علاقے کے پشتونوں کو مخاطب کیا جاتا ، پاکستان نے افغانی سفیر کو بلا کر ان کو سمجھایا کہ آپ اپنے لوگوں کو مخاطب فرمائیں پاکستان کے عوام کو اس طرح مخاطب کرنا قابلِ قبول نہیں ، اس کے جواب میں افغانی جتھے نے کابل میں پاک ایمبیسی پر حملہ کیا اور اس کو فتح کر کے اپنا جھنڈا لہرا دیا ـ پاکستان نے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا اور ۲ سال تک کابل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع رکھے ـ

اس کے بعد ستمبر 1960 میں افغانوں نے ایک قبائیلی لشکر ترتیب دے کر باجوڑ ایجنسی پر حملہ کیا ،، ان کو مغالطہ یہ دیا گیا تھا کہ جونہی تم بارڈر کراس کرو گے قبائیلی پشتون تمہارے شانہ بشانہ کھڑے ھونگے ، اور یہ مغالطہ اب بھی لوگوں کو دیا جاتا ھے ،مگر حقیقت یہ ھے کہ چند مٹھی بھر لوگ ہیں جن کا اپنا ایجنڈہ ھے ۹۹ فیصد قبائلی پاکستان سے ماں کی طرح ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں ـ پاکستان کی اس علاقے میں کوئی فوج نہیں تھی ، پاکستانی فضائی امداد کے پہنچے تک سالارزئی قبیلہ 14 دن تک سدِ سکندری بن کر ان حملہ آوروں کے سامنے کھڑا رھا۔

اس جنگ میں پاک فضائیہ نے بہترین کارکردگی دکھائی ہمارے لوگوں نے سی ون تھرٹی طیاروں کو اس طرح موڈیفائی کیا کہ ان کارگو جہازوں کو بمبار بنا دیا ، اور نہایت نچلی پروازیں کر کے اس لشکر پر کارپٹ بمباری کی ، یہ وہ بمباری تھی جو بین الاقوامی طور پر بڑی مشہور ھوئی اور بعض ائیرفورس اکیڈیمیز مین بطور اسٹریٹیجی پڑھائی جاتی رھی ـ اس معرکے میں پاکستان فضائیہ نے حصہ لیا جبکہ زمینی طور پر افرادی قوت ساری سالار زئی قبیلے کی استعمال ھوئی جنہوں نے ۱۵۰ افغانیوں کو گرفتار بھی کر لیا جبکہ مرنے والوں کی بہت بڑی تعداد تھی جن کو پاک فضائیہ نے کارپٹ بمننگ کا کا نشانہ بنایا ،

بیگن دلی کے علاقے میں پاکستان کی یہ ائیر وارفیئر ایم ایم عالم والے واقعے کی طرح بین الاقوامی طور پر ائیر کالجز میں پڑھائی جاتی رھی ، اس کے بعد افغانوں نے کبھی ایسی کارورائی کرنے کی جرأت نہیں کی ـ

پشتونوں کو خود افغانستان میں جو حقوق حاصل ہیں وہ ان کے ملک سے فرار ھو کر پاکستان میں بسنے اور واپس بھیجے جانے کی بات پر خودکشی کی دھمکیاں دینے سے واضح ھے ، افغانی پشتونوں کے لئے پاکستان دبئی یا یورپ سے کم نہیں ، فارسی حکومتوں نے ہمیشہ پشتونوں کو دو نمبر شہری ہی سمجھا ھے ، اور انہی کبھی دل سے قبول نہیں کیا ـ ایک پشتون کو صدر بنا لینے سے افغانستان کے پشتونوں کو حقوق نہیں مل گئے ـ وہ وہاں شودر کی طرح ڈیل کیئے جاتے ہیں جن کے بس مخصوص کام ہیں جو فارسی النسل کرنے کو تیار نہیں ـ

اب جبکہ فاٹا میں فوج موجود ھے تو فوج ایک جنگی زون میں ہے اور وہ جنگی زون کے رولز اینڈ ریگولیشنز فالو کر رھی ھے ، چیک پوسٹ پر پختون کھڑا ھو یا پنجابی بالکل ایک جیسے رولز فالو کرتا ھے ـ

ان کے لئے ہر ہلتی چیز دشمن ھو سکتی ھے جب تک کہ وہ کلیئر نہ ھو جائے ، جہاں مرد برقعے پہن کر خودکش دھماکے کریں وہاں عورتوں کی تلاشی کوئی انہونی بات نہیں ، جہاں کے بچے سے لے کر بوڑھے تک خودکش اور اسلحہ اسمگلر پکڑے گئے ھوں وھاں یہ سختیاں قابلِ فہم ہیں ، ان کو بنیاد بنا کر خود پاکستان اور پاک فوج کو ھی ٹارگٹ کرنا پشتون دشمنی تو ھو سکتی ھے ،پختون دوستی بہرحال نہیں ـ

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاکستان کے پاس کیا کچھ ہے

بظاہر چھوٹا سا وجود رکھنے والے پاکستان کے اندر اللہ نے کیا کچھ سمویا ہوا …

error: Content is protected !!