Home / International / جان بولٹن کی تقرری سے افغانستان اور پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

جان بولٹن کی تقرری سے افغانستان اور پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

اگر صدر ٹرمپ کی طرف سے مائیک پومپیو اور جینا ہاسپل کی بالترتیب سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور سی-آئی-اے میں بطورسربراہ تعیناتی اشارہ دینے کےلئے ناکافی ہے تو جان بولٹن کی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر تعیناتی یقیناً جارحانہ خارجہ پالیسی کا پتا دیتی ہے۔جان بولٹن مائیکل فلن اور جنرل میک ماسٹر کے بعد صدر ٹرمپ کے تیسرے ایڈوائزر کے طور پر کام کریں گے ۔ بولٹن نے ماضی میں سیکرٹری آف سٹیٹ فار آرمز کنٹرول اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی میں ۲۰۰۱ سے ۲۰۰۵ تک کام کیا ور اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر (۰۶ (۲۰۰۵۔بھی رہے۔

ایک دفعہ بولٹن نے کہا تھا “ہمارے لئے عالمی قانون کو ویلیڈیٹ کرنا بڑی غلطی ہے”۔ ایران پر بم برسانے کے ساتھ ساتھ بولٹن نے شمالی کوریا پر ”پری ایمپٹو سٹرائیک“ (پہلے حملہ) کرنے جیسے انتہا پسند نظریات کو آشکار کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ افغانستان میں جاری جنگ اور واشنگٹن اور اسلام آباد کے بیچ تناؤ کی موجودہ حالت میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ بولٹن کی تعیناتی ایف-پاک علاقے کےلئے کیا اہمیت رکھتی ہے؟ بولٹن کی ماضی کی پوزیشنز اور انکے بیانات شائد آئندہ کی پالیسی میں جھلکیں۔

صدر ٹرمپ نے جب گزشتہ برس جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کا اعلان کیا تو جان بولٹن نے وال سٹریٹ جرنل کےلئے ایک کالم لکھا جس میں کہا کہ “افغانستان میں جاری جنگ کو پاکستان کے اندر جیتا یا ہارا جائے گا”۔

بولٹن پاکستان کو افغانستان میں امریکی مفادات حاصل کرنے میں اہم سمجھتے ہیں ۔ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کا حمائتی قرار دے چکی ہے۔ انہی الزامات میں اضافہ کرتے ہوئے بولٹن پاکستان کو داعش کو پناہ دینے کا الزام بھی دہتے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ بولٹن سٹک اینڈ کیرٹ (مار اور پیار) کی پالیسی کو اپنانا نہیں چاہتے ۔ بلکہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی میں اضافہ کریں گے۔

جنگ کا حامی ہونے کے باعث جان بولٹن امریکہ کو افغانستان سمیت دنیا بھر میں اپنی عسکری طاقت دکھانے کی طرف راغب کریں گے۔ پس اسی وجہ سے ممکنہ طور پر بولٹن کے زیرِ اثر امریکہ افغانستان میں خفیہ معلومات پر اکتفا کرنے کے بجائے بھاری توپ خانے کا استعمال کرے گا ۔

پاکستان سے متعلق شائد وہ اس بات پر زور دیں گے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کیخلاف کاروائی کرے۔ بولٹن اس حد تک بھی کہہ چکے ہیں کہ “چین نتائج بھگتے گا” اگر وہ اسلام آباد کو دہشت گردی کےخلاف اقدامات کرنے پر قائل نہیں کرتا۔ ابھی تک امریکی انتظامیہ نے حقانی نیٹ ورک کی سپورٹ کے معاملے میں چین کو ملوث نہیں کیا ہے لیکن بولٹن کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہوتے ہوئے مستقبل قریب میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔

مزید برآں جان بولٹن پاکستانی جوہری ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے کے حوالے سے بھی فکر مند ہیں اور یہ ایک ایسا نقطہ ہے جس کے بارے میں امریکہ میں کئی جنگ پسند ماہرین اپنا خیال ظاہر کر چکے ہیں۔

پچھلے سال انہوں نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان کو شمالی کوریا اور ایران سے مشابہت دی اور کہا کہ “پاکستان ایک جوہری ریاست ہے اور اگر یہ دہشت گردوں کے کنٹرول میں جاتی ہے تو یہ شمالی کوریا اور ایران کی طرح ہو گی”۔ بظاہر لگتا ہے کہ بولٹن اس معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے آفیشل نقطہِ نظر سے بھی آگے تک سوچے بیٹھے ہیں۔ نیشنل سکیورٹی سٹریٹیجی جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو چاہیئے کہ وہ “اپنے جوہری اثاثوں کے حوالے سے ذمہ دارانہ کردار دکھاناجاری رکھے،“ کے بعد پاکستانی فوج اور وزیراعظم ہاؤس سے مشترکہ بیان جاری ہوا۔

تاہم اقوامِ متحدہ میں سابقہ پاکستانی مندوب ضمیر اکرم نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی جوہری اثاثے بشمول جوہری ہتھیاروں کے ڈیلیوری سسٹم کی علیحدگی، اور پاکستان نیوکلئیر ریگولیٹری اتھارٹی (ایک خود مختار ادارہ جس کا کام جوہری معاملات کو ریگولیٹ کرنا اور ملکی سکیورٹی ہے) کے قیام کی وجہ سے جوہری اثاثے پہلے سے زیادہ محفوظ کیوں ہیں۔بولٹن کی تقرری سے ان مختلف آراء کی وجہ سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے بیچ جوہری معاملات کی سکیورٹی جیسے معاملات دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔

کئی امریکی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بولٹن کی تعیناتی داراصل ایک جنگی کابینہ کو تشکیل دے رہی ہے ۔انکا کہنا ہے کہ بولٹن میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کو امریکی دشمنوں جیسے شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا امریکی حکومت کی طرف سے ایک محتاط پالیسی کا متقاضی ہے۔

تاہم اگر کوئی ایک شخص تباہ کن اثرات سے بچا سکتا ہے تو وہ صدر خود ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی ٹیم کو سفارت کاری بڑھانے کا کہتے ہیں یا جنگی ماحول بنانے کا۔ اس لئے اب یہ اسلام آباد پر منحصر ہے کہ آنے والے تمام حالات کے مطابق موثر جواب دے۔ جان بولٹن کی جارحانہ پالیسی کو پاکستان محض سمجھدارنہ سفارت کاری سے سنبھال سکتا ہے۔ اس سے متصادم یعنی ادلے کا بدلہ یا جارحانہ جواب ممکنہ طور پر پاکستان کےلئے نقصان کا باعث بنے گا۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

کیا شام کا مسئلہ ایک اقتصادی جنگ ہے؟

کیا شام کا مسئلہ ایک اقتصادی جنگ ہے؟ ہر جنگ کے کچھ اقتصادی اثرات ہوتے …

error: Content is protected !!