Home / Pakistan / فرسٹ, سیکنڈ, تھرڈ اور فورتھ جنریشن کی جنگ

فرسٹ, سیکنڈ, تھرڈ اور فورتھ جنریشن کی جنگ

فرسٹ جنریشن وار کا دور وہ تھا جب جنگیں پیدل فوج اور بنیادی ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑی جاتی تھی، یہ بنیادی ہتھیار تلوار، تیر اور نیزے یا ایسے ہی دیگر ہتھیار تھے.

سیکنڈ جنریشن وار، جنگوں کا وہ دور تھا جب زمانہ تھوڑا جدید ہوا تو باردود بنایا گیا اور پستول اور بم سے جنگیں لڑیں گی

تھرڈ جنریشن وار میں جنگی حکمتِ عملی تبدیل کی گئی اور عیاری کے ساتھ ایسی حکمتِ عملی اپنائی گئی جو دشمن کو پیچھے سے اٹیک کرے۔ اس کی بہترین مثال مشینی انفنٹری اور ائرفورس ہے۔

فورتھ جنریشن وار میں صورتحال بہت گھمبیر ہو چکی تھی۔ یہ سرد جنگ کا دور تھا جب ایک نئی وارفئیر جنریشن متعارف کروائی گئی جو تاریخ کی سب سے خوفناک وارفئیر جنریشن تھی۔ ان جنگوں میں دشمن کے مقابلے میں براہ راست فوج نہیں اتاری جاتی بلکہ سیاست اور جنگ کے ذریعے کے دشمن کو اندرونی طور پر کمزور کیا جاتا ہے۔ اس کی بدترین مثال سردجنگ کے زمانے میں دیکھنے میں آئی جب امریکہ نے پراکسی کے ذریعے روس کو شکست دی اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔

اب آتے ہیں ففتھ جنریشن وار فئیر کے دور میں ۔۔۔۔ ویلکم ٹو دی شو

یہ دور ہمارا دور ہے۔ اس دور میں جنگیں زمینوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جا رہی ہیں۔ یہ تاریخ کا سب سے خوفناک ترین دور ہے جب ٹیکنالوجی اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہے اورسپرپاورز کا دنیا پر قبضے کا خواب اب ایک خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ امریکہ پچھلے ڈیڑھ سو سال سے مسلسل جنگیں لڑ رہا ہے، یہ واحد ملک ہے جس نے اب تک کی تمام قسم کی جنگیں لڑی ہیں اور یوں سمجھیے کہ تیسری، چوتھی اور پانچویں جنرریشن وار فئیر کا بانی ہی امریکہ ہے۔

ففتھ جنریشن دور میں آج تک کی تمام جنریشن وارز شامل ہیں۔ اس جنریشن وارفئیر میں کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ففتھ جنریشن وار میں پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ یہ فیک نیوز کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ اخبارات، ٹی وی چینلز، نیوز پروگرام، صحافی، ادیب ، مدبر اور ایکٹویسٹس کرائے پر دستیاب ہیں اور یہی ففتھ جنریشن وار کے سپاہی ہیں۔ اس دور کی جنگ میں ہم سب سپاہی ہیں۔ میں بھی ایک سپاہی ہوں جو اپنے محاذ پر جنگ لڑ رہا ہوں، اس تحریر کو پڑھنے والا بھی ایک سپاہی ہے جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جنگ لڑ رہا ہے۔

اس دور میں پروپیگنڈا، ڈس انفارمیشن، سیاست، پراکسی، جرم اور فالز فلیگ کے ساتھ جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ اس دور کی مثال ایسے لے لیں جیسے گھمسان کا رن پڑا ہو تو دوست دشمن کی پہچان ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد صرف آپ کو یہ باور کروانا ہے کہ یہ ففتھ جنریشن کا دور ہے، اس میں ہمارا بظاہر نظر آنے والا دشمن ، ہمارا دوست بھی ہو سکتا ہے اور ہمارا سب سے قابلِ اعتبار دوست ، دشمن کا الہ کار بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اپنی آنکھیں اور دماغ کھلے رکھیے۔

لیکن میں آج اس مضمون میں آپ کو بتاؤں گا کہ آپ اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کیسے کر سکتے ہیں۔

شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ کا ایک قول ہے کہ “اگر حق کی پہچان کرنا چاہتے ہو تو باطل کے تیروں پر نظر رکھو”

اسی طرح اگر باطل کی پہچان کرنا چاہتے ہو تو یہ دیکھو کہ منافقینِ زمانہ کس کی حمایت میں کمر بستہ ہیں۔ میں منظور پشتین کی حمایت کیسے کروں جب میں دیکھتا ہوں کہ پاکستان کا ملحد اور لبرل طبقعہ بھی اسی کی سپورٹ کر رہا ہے، ماروی سرمد اور حسین حقانی جیسے غدارانِ ملت بھی منظور پشتین کی حمایت کر رہے ہیں۔ منظور پشتین کی تحریک کو امریکہ، برطانیہ، بھارت اور دیگر دنیا میں “فوج مخالف” تحریک کے طور پر پیش کیا جائے تو مجھے آپ بتا دیجیے کہ میں منظور پشتین کو کیسے سپورٹ کروں ؟

یاد رکھیے یہ ففتھ جنریشن وار ہے، یہاں حقوق کے نام پر آپ کو ٹریپ کیا جا رہا ہے۔ منظور پشتین کی پشت پر وہ تمام پاکستان مخالف قوتیں کھڑی ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان اور اس کی افواج کو ہٹائے بغیر وہ اس خطے میں کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکتیں۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجیے اور اس فتنہِ پشتین سے بچیے۔۔۔۔!!

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

زرداری کی آگسٹا آبدوزوں کی خریداری میں کی گئی کرپشن

1994 میں ملیحہ لودھی کا بھائی عامر لودھی بھٹو فیملی کے فرنٹ مین کے طور …

error: Content is protected !!