Home / Pakistan / چوہدری شجاعت کا ایسا انکشاف کہ پاکستانی شدت سے معمر قذافی کو یاد کرنے لگ جائیں گے

چوہدری شجاعت کا ایسا انکشاف کہ پاکستانی شدت سے معمر قذافی کو یاد کرنے لگ جائیں گے

سابق وزیراعظم اور وزیرداخلہ پاکستان چوہدری شجاعت نے اپنی کتاب’سچ تو یہ ہے !‘ میں انکشاف کیا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد وہ مختلف سربراہان مملکت کو بریف کرنے کے لیے دورے پر تھے، بذریعہ سڑک لیبیا کے دارلحکومت طرابلس پہنچے ،صحرا میں موجود ایک خفیہ خیمے میں کرنل قذافی سے ملاقات ہوئی.

انہوں نے کھڑے ہوکر استقبال کیا لیکن ملاقات کے آغاز میں ہی تلخی محسوس کی، کرنل قذافی نے مسئلہ کشمیر اور دھماکوں سے پہلے اعتماد میں نہ لیے جانے پر سوال کیا تو پاکستانی سفیر نے کہاکہ بھارتیوں کو مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بارے میں بتائیں ، اپنے وزیرخارجہ سے گفتگو کے بعد پاکستانی سفیر کو اس طریقے سے چپ کرایا گویاشٹ اپ کال دی ہو، پھر اطمینان سے ہماری بات سنی ۔ چوہدری شجاعت حسین نے تفصیلاً کچھ یوں لکھا.

’ایٹمی دھماکوں کے بعد میرے چار غیر ملکی دورے
1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بلایا اور تمام وزراء کو ہدایت کی کہ وہ مختلف ممالک میں جائیں اور ان کے سربراہان کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر بریف کریں۔ میں اس وقت وزیر داخلہ تھا۔ میں نے کہا کہ میں ایک نہیں، چار ملکوں کا دورہ کروں گا۔مصر، لیبیا، شام اور عراق۔ مصر، لیبیا اور شام کا دورہ میں نے کیا لیکن عراق کا دورہ نہ کرسکا۔

کرنل معمر قذاتی سے ملاقات اور مکالمہ
لیبیا کے کرنل قذافی سے ملنے کے لئے ہم تیونس سے بذریعہ روڈ طرابلس پہنچے، جہان ہمارے استقبال کے لئے لیبیا کے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کے علاوہ ایک افریقی ملک کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔ اس کے بعد خصوصی طیارے میں مجھے، پاکستانی سفیر اور جوائنٹ سیکرٹری ساجد حسین چٹھہ کو ایک خفیہ مقام پر پہنچایا گیا۔

دوسرے روز علی الصبح ہم بذریعہ کار آگے روانہ ہوئے۔ ایک گھنٹے کے بعد ایک صحرائی مقام پر ہمیں جیپوں میں منتقل کردیا گیا۔ پھر ریگستان کا سفر شروع ہوگیا۔ ایک لمبے سفر کے بعد ہمیں دو خیمے نظر آئے۔ اس کے علاوہ دور دور تک ریگستان ہی ریگستان نظر آرہا تھا۔ ہم ان خیموں کے قریب پہنچے تو ہمیں ان میں سے ایک خیمے میں بٹھادیا گیا ۔ خیمے کے اندر بے حد گرمی تھی۔ مکھیاں بھنبھنارہی تھیں۔ کوئی ائیرکنڈیشنر نظر نہیں آرہا تھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ جس خیمے میں کرنل قذافی رہ رہے ہوں گے، وہاں ضرور ائیر کنڈیشنر کا بندوست ہوگا، لیکن جب ہمیں ان کے خیمے میں لے جایا گیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں بھی یہی صورتحال تھی۔ تاہم کرنل قذافی کے چہرے پر اس ماحول کی وجہ سے کوئی بیزاری نظر نہیں آتی تھی۔ انہوں نے کھڑے ہوکر ہمارا استقبال کیا مگر جب بات چیت شروع ہوئی تو ہم نے ان کے لہجے میں بڑی تلخی محسوس کی۔ کہنے لگے، میں آپ کی بات بعد میں سنوں گا، پہلے آپ میرے دو سوالوں کا جواب دیں۔ پہلا یہ کہ ایٹمی دھماکے کرنے سے پہلے آپ نے مجھے اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔

دوسرا یہ کہ مسئلہ کشمیر پر مصالحت کرانے کے لئے میں نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم، دونوں کو خطوط لکھے اور یہ پیشکش بھی کی کہ اگر کشمیر کو مکمل طو رپر خود مختار ریاست بنادیا جائے تو نئی رات کو چلانے کے لئے ابتدائی طور پر جو مالی وسائل درکار ہوں گے، وہ لیبیا فراہم کرے گا۔ بھارتی وزیراعظم نے تو میرے اس خط کا جواب دیا لیکن آپ کے وزیراعظم یا دفتر خارجہ نے اس کی زحمت گوارا نہیں کی۔ میں نے کہا، آپ کا یہ شکوہ میں وزیراعظم نواز شریف تک پہنچا دوں گا اور پھر جو بھی ان کا جواب ہوگا، وہ آپ تک پہنچا دوں گا۔

مسئلہ کشمیر کے سوال کا جواب دینا ابھی باقی تھا۔ پاکستانی سفیر نے مجھے ٹوکا دیا اور پنجابی میں کہا کہ ان کو مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بارے میں بتائیں۔

میں نے کہا، یہ اس کا موقع نہیں۔ سفیر بضد ہوگئے اور کہنے لگے کہ آپ مجھے بات کرنے کی اجازت لے کر دیں، میں ان کو بتا دیتا ہوں۔ میں نے کرنل قذافی سے کہا، اس مسئلہ پر ہمارے سفیر آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کرنل قذافی نے اثبات میں سر ہلایا تو پاکستانی سفیر نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر شروع کردیا۔

جیسے ہی اقوام متحدہ کا نام آیا تو کرنل قذافی نے سفیر کو روکا اور ساتھ والے خیمے میں موجود اپنے وزیر خارجہ کو طلب کیا اور اس سے عربی میں اس کے متعلق دریافت کیا۔ وزیر خارجہ نے عربی میں ہی ان کو بریف کردیا۔ اس کے بعد کرنل قذافی پاکستان کے سفیر کی طرف متوجہ ہوئے اور ہاتھ سے کچھ اس طرح بات کرنے سے روکا، جیسے شٹ اپ کال دے رہے ہوں۔ یہ دیکھ کر میں نے پاکستانی سفیر سے کہا، میں نے کہا تھا کہ یہ اس بات کے کرنے کا موقع نہیں ہے۔

کرنل قذافی دوبارہ میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ لاہور میں میرے گھر کے قریب ہی ایک بہت بڑا سٹیڈیم ہے۔ اس سٹیڈیم کا نام آپ کے نام پر ’قذافی سٹیڈیم‘ ہے۔ اگر آپ کبھی پاکستان تشریف لائیں اور اس سٹیڈیم میں خطاب کریں تو مجھے یقین ہے کہ لاکھوں پاکستانی یہاں آپ کو دیکھنے اور سننے کے لئے جمع ہوجائیں گے۔

پاکستان کا بچہ بچہ جانتاہے کہ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے میں آپ کی مدد شامل ہے۔ پاکستان کے عوام آپ کو بہت چاہتے ہیں اور آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے اس طرح کہنے پر کرنل قذافی، جو پہلے اچھے موڈ میں نہیں تھے، ان کے چہرے پر رونق آگئی اور وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ اب وہ مطمئن نظر آرہے تھے۔

ملاقات ختم ہونے لگی تو کرنل قذافی نے اپنے وزیر داخلہ اور دوسرے حکام کو اندر بلایا اور ان کو ہدایات جاری کیں کہ لیبیا کے دورے کے دوران ہمیں ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے۔ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملوایاجائے اور ان تمام تاریخی مقامات کی سیر کروائی جائے۔

انہوں نے خاص طور پر ہمیں وہ گھر دکھانے کی ہدایت کی، جہاں ان کو قتل کرنے کے لئے ان پر فضائی حملہ کیا گیا تھا اور ان کی کم سن نواسی شہید ہوگئی تھی۔ کرنل قذافی معجزانہ طور پر بچ گئے تھے کیونکہ صرف دو منٹ پہلے وہ کوئی چیز لینے کے لئے دوسرے کمرے میں چلے گئے تھے‘۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاکستان میں ایک نیا اسراٸیل تیار ھے

آپ کے علم میں ہے کہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) جس جگہ آباد ہے اس …

error: Content is protected !!